ترکی کی شام ميں کارروائی، شامی جنگ ميں نيا موڑ | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کی شام ميں کارروائی، شامی جنگ ميں نيا موڑ

ترکی کی جانب سے شام ميں دمشق حکومت اور کُردوں کے اہداف کو نشانہ بنايا گيا ہے جب کہ اِسی دوران سعودی عرب نے تصديق کر دی ہے کہ اسلامک اسٹيٹ کے خلاف لڑائی کے ليے اُس کی طرف سے لڑاکا طيارے ترکی بھيجے جا چکے ہيں۔

ترک افواج نے ہفتے تيرہ فروری کے روز شامی شہر عزاز کے قريب شامی کُرد ڈيموکريٹک يونين پارٹی (PYD) کے اہداف کو نشانہ بنايا ہے۔ اِس کے علاوہ ترکی کے جنوبی حاٹے نامی خطے ميں ايک فوجی چيک پوسٹ پر شام سے کی گئی فائرنگ کی جوابی کارروائی بھی کی گئی۔ شامی جنگ ميں اِس تازہ پيشرفت کی اطلاعات ترکی کی سرکاری نيوز ايجنسی اناطوليا نے استنبول سے جاری کردہ رپورٹوں ميں جاری کيں۔ تاحال شام ميں ترکی کی طرف سے کی جانے والی اِن کارروائيوں کے بارے ميں مزيد تفصيلات دستياب نہيں۔

شامی معاملات پر نظر رکھنے والی برطانوی دارالحکومت ميں قائم تنظيم سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق ترکی کی جانب سے کی گئی بمباری ميں ’منگ‘ نامی ايک ايئر بيس کو نشانہ بنايا گيا، جس پر حال ہی ميں کُرد پيپلز پروٹيکشن يونٹس (YPG) نے قبضہ کر ليا تھا۔ انقرہ حکومت کُرد ڈيموکريٹک يونين پارٹی اور اُس کے مليشيا کُردش پيپلز پروٹيکشن يونٹس کو ترکی ميں کالعدم تنظيم کُردستان ورکرز پارٹی کی شاخيں مانتی ہے۔

ترکی کی جانب سے شام ميں يہ کارروائی وزير اعظم احمد داؤد اوگلو کے اُس بيان کے کچھ ہی دير بعد کی گئی، جس ميں اُنہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر اُن کی افواج کُرد ڈيموکريٹک يونين پارٹی کے خلاف کارروائی کر سکتی ہيں۔ اُنہوں نے ملکی ٹيلی وژن پر نشر کردہ ايک تقرير ميں يہ بات کہی تھی۔

امريکی محکمہ خارجہ نے حلب کی صورتحال پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے ترکی پر زور ديا ہے کہ وہ شيلنگ روک دے۔ امريکی محکمے کے مطابق تمام اطراف سے کشيدگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دريں اثناء سعودی عرب کی جانب سے ہفتے کی شب يہ تصديق کر دی گئی ہے کہ اُس نے اپنا ايئر کرافٹ دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے خلاف کارروائی کے ليے ترکی بھيج ديے ہيں۔ سعودی وزارت دفاع کے ايک مشير بريگيڈيئر جنرل احمد العصيری نے ايک مقامی ٹيلی وژن چيل پر بات چيت کے دوران کہا کہ رياض حکومت، داعش کے حلاف لڑائی کے ليے پُر عزم ہے اور ايئر کرافٹ بھيجنا اِسی کا حصہ ہے۔ اُن کے بقول تاحال ترکی کے انجرليک بيس پر صرف ايئر کرافٹ بھيجا گيا ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ ايک روز قبل ہی ترک وزير خارجہ مولود چاووش اوغلو نے يہ عنديہ ديا تھا کہ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے شام ميں داعش کے خلاف زمينی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کے ليے رياض حکومت اپنے لڑاکا طيارے ترکی روانہ کر رہی ہے۔