ترکی: پولیس اور فوج کے خلاف خونریز حملوں کی نئی لہر | حالات حاضرہ | DW | 18.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: پولیس اور فوج کے خلاف خونریز حملوں کی نئی لہر

ترکی میں پولیس اور فوج کے خلاف خونریز حملوں کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان حملوں کے لیے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کو قصور وار قرار دیا جا رہا ہے۔ ان میں کم از کم دس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

Türkei Elazig Anschlag Explosion

الازيج نامی شہر میں پولیس کے ہیڈ کوارٹرز پر کیے جانے والے کار بم حملے کی وجہ سے چار منزلہ عمارت ایک کھنڈر میں تبدیل ہو گئی

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترک حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بارہ گھنٹے سے بھی کم وقفے میں ہونے والے دو کار بم دھماکوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ان حکام نے کہا کہ ان کار بم دھماکوں کے پیچھے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی PKK کا ہاتھ تھا۔

سرکاری نیوز ایجنسی انادولُو کے مطابق دیگر تین فوجی اور ایک گارڈ ایک تیسرے حملے میں ہلاک ہوئے، جس کا نشانہ جمعرات کے روز جنوب مشرقی شہر بدلیس میں ایک فوجی قافلے کو بنایا گیا۔ انادولُو نے بھی اس حملے کے لیے کالعدم ’پی کے کے‘ کو ہی قصور وار ٹھہرایا ہے۔

اس تازہ ترین حملے میں، جو دیسی ساخت کے ایک بم کی مدد سے کیا گیا، چھ فوجی زخمی بھی ہو گئے۔ یہ بم اُس وقت پھٹا جب فوجیوں کی گاڑی قریب سے گزری۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ گزشتہ تین عشروں سے ترک ریاست کے خلاف برسرِپیکار باغیوں نے خاص طور پر صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے اپنی خونریز سرگرمیاں تیز تر کر دی ہیں۔

جمعرات کو علی الصبح الازيج نامی شہر میں پولیس کے ہیڈ کوارٹرز پر کیے جانے والے کار بم حملے میں تین پولیس افسر ہلاک اور ایک سو چھیالیس زخمی ہو گئے۔ اس دھماکے کی وجہ سے چار منزلہ عمارت ایک کھنڈر میں تبدیل ہو گئی۔ ٹی وی فوٹیج میں اس عمارت سے سیاہ دھواں آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

جہاں دیگر حکام اس حملے کے لیے کرد باغیوں کو قصور وار قرار دے رہے ہیں، وہاں وزیر دفاع فکری اسیک نے انادولُو نیوز ایجنسی سے باتیں کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ باغی یہ کارروائیاں مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کی تنظیم کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔

Fikri Isik Türkei Verteidigungsminister

وزیر دفاع فکری اسیک نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ PKK کے باغی یہ کارروائیاں مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کی تنظیم کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں

سابق وزیر اعظم احمد داؤد اولُو نے بھی ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں یہ کہہ دیا کہ گولن کی تحریک اور امریکا اور یورپ میں دہشت گرد تنظیم قرار دی جانے والی ’پی کے کے ‘ مل کر ایسے حملے کر رہے ہیں۔

دوسرا کار بم دھماکا گزشتہ رات ترکی کے مشرق میں کُردوں اور ترکوں کی ملی جُلی آبادی کے شہر وان میں ہوا، جس کی زَد میں آ کر دو پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ایک عام شہری بھی مارا گیا۔ ایرانی سرحد پر واقع اس شہر میں کم از کم تریپن شہری اور بیس پولیس افسر زخمی بھی ہو گئے۔