1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Brüssel Antrag auf NATO-Mitgliedschaft Schweden | Jens Stoltenberg & Axel Wernhoff, Schweden
تصویر: Johanna Geron/AP Photo/picture alliance
تنازعاتیورپ

ترکی نے نیٹو میں شمولیت کے لیے ابتدائی بات چیت کو روک دیا

19 مئی 2022

ڈی ڈبلیو کو معلوم ہوا ہے کہ نیٹو میں فن لینڈ اور سویڈن کی شمولیت کے بارے میں جیسے ہی بات چیت کا آغاز ہوا، ترکی نے اسے روک دیا۔ دونوں ممالک نے بدھ کے روز ہی نیٹو میں شامل ہونے کی باضابطہ درخواست دی تھی۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D9%81%D9%86-%D9%84%DB%8C%D9%86%DA%88-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%88%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%8C%D9%B9%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%AA-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D8%B0%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D9%88-%DB%81%DB%8C-%D8%B1%D9%88%DA%A9-%D8%AF%DB%8C%D8%A7/a-61847080

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بعض سفارتی ذرائع نے ڈی ڈبلیو کی نامہ نگار ٹیری شولس کو بتایا ہے کہ بدھ کے روز جیسے ہی سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کی کوششوں کے تحت ابتدائی بات چیت کا آغاز کیا، ترکی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے ابتدائی مذاکرات کے عمل کو ہی روک دیا۔

فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو میں شمولیت کے لیے 18 مئی بدھ کی صبح با ضابطہ طور پر اپنی درخواست نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ کو سونپی تھی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پہلے ہی اپنی حکومت کے اس موقف کو واضح کر دیا تھا کہ وہ ان دونوں ملکوں کی نیٹو میں شامل نہیں ہونے  دیں گے۔

واضح رہے کہ کسی بھی نئے ملک کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنے جیسے فیصلوں کے لیے نیٹو کے تمام رکن ممالک کی متفقہ منظوری لازمی ہوتی ہے۔

ترکی کے علاوہ نیٹو کے دیگر تمام رکن ممالک کے سفیر بدھ کے روز فن لینڈ اور سویڈن کی رکنیت کی کوشش پر مذاکرات شروع کرنے کے فیصلے کی حمایت کے لیے تیار تھے۔ لیکن ترکی نے اسے روک دیا۔

سفارتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اب یہ بات پوری طرح سے واضح ہے کہ نیٹو کے سفیروں کے ذریعے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب اس مسئلے پر اتفاق رائے کے لیے رکن ممالک کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو کوشش کرنا ہو گی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اب اتحادی ممالک اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فن لینڈ، سویڈن اور ترکی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا انتظار کریں گے۔ البتہ اس بات کی امید ہے کہ جون کے اواخر میں میڈرڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل دونوں ممالک کو نیٹو میں مبصر کے طور پر شریک ہونے کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔

Türkei Rede Präsident Erdogan
تصویر: Turkish Presidency/AP/picture alliance

ادھر تازہ اطلاعات کے مطابق کروشیا کے صدر زوران میلانووچ نے بھی ترکی کے نقشے قدم پر  چلتے ہوئے ان دونوں ممالک کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کر دی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے پر صدر اور وزیر اعظم کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ترکی سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کا مخالف کیوں؟

ترکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں دوسری بڑی فوج کا حامل ملک ہے اور یہ ملک اتحاد میں توسیع کا ہمیشہ حامی رہا ہے۔ تاہم ترک صدر ایردوآن کا فن لینڈ اور سویڈن کی شمولیت پر یہ اعتراض ہے کہ یہ ممالک کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

 اس تناظر میں سویڈن اس تنظیم کا ایک بڑا حامی ہے۔ ایردوآن حکومت کا یہ بھی کہنا ہےکہ سویڈن کے ساتھ فن لینڈ بھی امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گُولن کے حامیوں اور انتہا پسند بائیں بازو کی سیاسی جماعت DHKP-C کی بھی حمایت کرتا ہے۔

یہی وہ جوہات ہیں کی جس کے سبب ترکی ان کی مخالفت کر رہا ہے۔ بدھ کے روز بھی ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے انقرہ میں اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کہ وہ "دہشت گردوں" کو ترکی کے حوالے نہیں کر دیتے، اس وقت تک، "ہم فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کے لیے قطعی ہاں نہیں کہہ سکتے۔"

کسی بھی نئے ملک کو نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کے لیے اتحاد کے سبھی 30 اراکین کی رضامندی لینی ضروری ہوتی ہے۔

اس مشکل کے باوجود اتحاد کے دیگر ارکان نے ان دونوں نارڈک ممالک کی مکمل حمایت کی ہے اور انہیں توقع ہے کہ وہ اس حوالے سے ترکی کے اعتراضات پر قابو پا سکتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی امید ہے کہ یہ عمل معمول کے 12 ماہ کے بجائے چھ ماہ میں ہی مکمل کیا جا سکتا ہے۔

(الیکس بیری) ص ز/ اا

نیٹو فورسز کی ناروے میں عسکری مشقیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پاکستان: سیاسی و اقتصادی مسائل کے سائے میں جشن آزادی

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں