ترکی میں مقید جرمن صحافی یوچیل رہا کر دیے گئے | حالات حاضرہ | DW | 16.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترکی میں مقید جرمن صحافی یوچیل رہا کر دیے گئے

جرمن وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی ہے کہ ترک حکام نے روزنامہ ڈی ویلٹ کے رپورٹر ڈینیز یوچیل کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ اس ترک نژاد جرمن صحافی کو گزشتہ برس 14 فروری کو دہشت گردی اور پراپیگنڈا کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

 جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں ابھی بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس بیان کو ترک جرمن تعلقات میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ جمعرات کے دن ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے جرمنی کا دورہ کیا، جس دوران میرکل اور علی یلدرم نے کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس بارے میں تین اہم سوالات کے مختصر مگر مفصل جوابات۔

ڈینیز یوچیل کی گرفتاری اور ترک جرمن تعلقات

ایردوآن ترکی کو ’فاشزم‘ کی جانب لے جا رہے ہیں، یوچیل

نئی کشیدگی کا نتیجہ: جرمنی کا ترکی کے خلاف اقدامات کا اعلان

سوال: ترک وزیر اعظم کے دورہ جرمنی کے دوران کیا پیغام دیا چانسلر انگیلا میرکل نے ترکی کو؟

جواب: پیغام بہت سیدھا ہے۔ اور وہ یہ کہ ترکی کو جمہوری اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جعمرات کے دن میرکل نے بن علی یلدرم کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا کہ جرمنی اور ترکی کے کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان تعلقات کو بہتر بنانا ہی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ میرکل کے بقول یہ کام مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن برلن حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

Berlin - Türkischer Ministerpräsident Yildirim bei Kanzlerin Merkel (picture alliance/dpa/B. von Jutrczenka)

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ترکی ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں ابھی بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں

سوال: ترک جرمن تعلقات میں تناؤ کی وجہ ہے کیا آخر؟

جواب: ایک وجہ تو ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد شروع کیا گیا حکومتی کریک ڈاؤن بنا، اس دوران ترک حکومت کی طرف سے اپوزیشن گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر جرمنی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پھر گزشتہ برس کے متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے ترک صدر کے اختیارات میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا گیا۔ اس پر بھی جرمنی نے آواز اٹھائی۔ برلن حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ترکی یورپی یونین کا رکن بننا چاہتا ہے، تو اسے یورپی اقدار کے مطابق سیاسی اور آئینی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

ترکی میں آزادی اظہار اور صحافت پر پابندیوں کی وجہ سے بھی جرمنی نے انقرہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی، جہاں سے یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔

سوال: ترک نژاد جرمن صحافی ڈینِیز یُوچیَل کی رہائی سے معاملات بہتر ہو سکیں گے؟

جواب: یہ انتہائی اہم معاملہ تھا، جس پر برلن حکومت نے کافی زیادہ احتجاج کیا تھا۔ تاہم جمعے کے دن یوچیل کی رہائی ایک اچھی پیشرفت ثابت ہو گی۔ برلن حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ترکی میں چھ  جرمن شہری زیرحراست ہیں۔ یوچیل ان میں سے ایک تھے۔ تاہم ان پر باقاعدہ  فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

جمعرات کے دن میرکل نے ترک وزیر اعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ یوچیل کی فوری رہائی ممکن بنائی جائے۔ تاہم تب بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تو ملکی عدالتیں ہی کریں گی اور اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ باتیں اور بھی ہیں، لیکن یہ معاملہ بھی دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا تھا۔ اب لیکن ترک حکام نے یُوچَیل کو رہا کر دیا ہے، جو ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات