ترکی میں مظاہرے

ترکی میں گزشتہ ہفتے سے جاری ان مظاہروں کے دوران کم ازکم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
جس پارک سے یہ مظاہرے شروع ہوئے تھے، وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد خیمہ زن ہو چکی ہے۔ کچھ مظاہرین یوگا کرتے ہوئے۔
ترک حکومت کی جانب سے معذرت کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کی صبح ہزاروں مظاہرین ترکی کے مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہروں کے لیے نکلے ہیں۔ مبصرین ان مظاہروں کو ایردوآن حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کے دن بھی جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کریک ڈاؤن پر وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن معافی مانگیں اور ایسے افسران کو برطرف کر یں، جنہوں نے مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائی کے احکامات جاری کیے۔
استنبول سے شروع ہونے والا احتجاج کا یہ سلسلہ ترکی کے درجنوں شہروں تک پھیل چکا ہے۔ استنبول کے ایک پارک کی تعمیر نو پر شروع ہونے والے یہ مظاہرے اسلام پسند وزیر اعظم ایردوآن کی مبینہ مطلق العنان پالیسیوں کے خلاف غیر معمولی رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
بدھ کے دن ٹریڈ یونین کی ایک فیڈریشن نے انقرہ میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔ ہزاروں افراد کی نمائندہ اس تنظیم کے کارکنوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور ایردوآن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی طرح دیگر کئی شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔
ترک شہر ازمیر میں پولیس نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر مظاہروں کو ہوا دینے اور پروپیگنڈے کے الزام میں 9 مزید افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابھی تک ٹوئٹر پر ایسے ہی پیغامات لکھنے پر ترکی بھر میں مجموعی طور پر 25 افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔
استنبول کے تقسیم چوک پر جمع ہزاروں مظاہرین وزیراعظم ایردوآن کی نافرمانی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ وزیراعظم ایردوآن نے اس سے قبل مظاہرین کو ’شدت پسند‘ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت توڑ پھوڑ مچانے والے’وحشی‘ قرار دیا ہے۔
گزشتہ پانچ روز تک سخت تناؤ کے ماحول کے مقابلے میں بدھ کے روز مظاہروں میں جشن کا سا سماں دکھائی دیا، مظاہرین مقامی آلات موسیقی اور تالیا بجاتے ہوئے حکومت مخالف گیت گا رہے ہیں۔
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کے باوجود تقسیم چوک کی تعمیر نو کا کام جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مظاہرین کا پارک میں تعمیر نو کے کام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ خالصتاﹰ حکومت کی مخالفت میں جمع ہوئے ہیں۔
ترکی کے شہر استنبول سمیت دارالحکومت انقرہ، ازمیر اور انطولیہ کے دیگر شہروں کے مراکز میں ترک پولیس کی طرف سے مظاہرین کے ہجوم کے خلاف کی جانے والی کارروائی اور بہیمانہ سلوک کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ناقدین حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
پولیس نے اپنے کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل برسائے ہیں اور تیز دھار پانی کا استعمال بھی کیا ہے۔