1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی میں آوارہ کتوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بل پر ووٹنگ

24 مئی 2024

ترک حکومت جانوروں کے حقوق کے ایک نئے بل پر ووٹنگ کروانے جا رہی ہے، جس کے تحت آوارہ کتوں کو ’آسان موت‘ دیتے ہوئے ان کی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ ترکی میں آوارہ کتوں کی تعداد پانچ سے سات ملین کے درمیان ہے۔

https://p.dw.com/p/4gEWw
ترک میڈیا کے مطابق آوارہ کتوں کو پکڑا جائے گا اور اگر مقرر کی گئی مدت کے اندر اندر انہیں کوئی خاندان یا شخص گود نہیں لیتا تو پھر انہیں مار دیا جائے گا۔
ترک میڈیا کے مطابق آوارہ کتوں کو پکڑا جائے گا اور اگر مقرر کی گئی مدت کے اندر اندر انہیں کوئی خاندان یا شخص گود نہیں لیتا تو پھر انہیں مار دیا جائے گا۔ تصویر: Manish Swarup/AP/picture alliance

ترک حکومت جانوروں کے تحفظ کے قانون میں ترمیم کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت آوارہ کتوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے اقدمات کیے جا سکیں گے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق آوارہ کتوں کو پکڑا جائے گا اور اگر مقرر کی گئی مدت کے اندر اندر انہیں کوئی خاندان یا شخص گود نہیں لیتا تو پھر انہیں مار دیا جائے گا۔

جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم Haytap کے سربراہ احمد کمال نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے انہیں جان سے مار دینا کوئی درست عمل نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے تیار کردہ بل واپس لے اور اسے

جانوروں کے حقوق کے کارکن ایک پائیدار حل کے لیے کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد انہیں چھوڑ دینے کی سفارش کرتے ہیں۔
جانوروں کے حقوق کے کارکن ایک پائیدار حل کے لیے کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد انہیں چھوڑ دینے کی سفارش کرتے ہیں۔ تصویر: Roman Churikov/Reuters

ان کا کہنا تھا کہ ایک دیر پا حل کے لیے ضروری ہے کہ پالتو جانوروں کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور کتوں کو خصی کیا جائے۔ استنبول بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکام کو ان افراد پر بھی جرمانہ عائد کرنا چاہیے، جو اپنے جانوروں کو یوں آوارہ چھوڑ دیتے ہیں۔ 

حکمران اے کے پی پارٹی کے ذرائع کے مطابق بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ بلدیاتی حکام آوارہ کتوں کو پناہ گاہوں میں جمع کریں گے اور اگر کوئی خاندان یا شخص ان کتوں کو تیس روز کے اندر اندر گود نہیں لیتا توانہیں ''بغیر تکلیف کے‘‘ مہلک انجیکشن کے ذریعے مار دیا جائے گا۔

جانوروں کے حقوق کے گروپ Haytap کا اندازہ ہے کہ ترکی میں آوارہ کتوں کی تعداد پانچ سے سات ملین ہے اور اگر  اس تناظر میں دیکھا جائے تو ترکی میں جانوروں کی پناہ گاہیں ناکافی ہیں۔

تجانوروں کے حقوق کے گروپ Haytap کا اندازہ ہے کہ ترکی میں آوارہ کتوں کی تعداد پانچ سے سات ملین ہے
تجانوروں کے حقوق کے گروپ Haytap کا اندازہ ہے کہ ترکی میں آوارہ کتوں کی تعداد پانچ سے سات ملین ہےتصویر: Manish Swarup/AP/picture alliance

جانوروں کے حقوق کے کارکن ایک پائیدار حل کے لیے کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد انہیں چھوڑ دینے کی سفارش کرتے ہیں۔

کتوں کی مارنے کی تجویز صرف ترکی میں ہی سامنے نہیں آئی بلکہ خطے میں اسی طرح کی مثالوں میں رومانیہ بھی شامل ہے، جہاں آوارہ کتوں کو پکڑ کر 14 روز تک پناہ گاہوں میں رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں ''بغیر تکلیف کے زہریلے انجیکشن سے آسان موت‘‘ دے دی جاتی ہے۔

ف ن / ا ا (ڈی پی اے )

پشاور کے کتے کو لیا گود ایک برطانوی خاندان نے