ترکی اور روس شام کے شمالی حصے کا کنٹرول سنبھالنے پر متفق | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترکی اور روس شام کے شمالی حصے کا کنٹرول سنبھالنے پر متفق

ترکی اور روس کے درمیان یہ اتفاق ہو گیا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ترک سرحد کے قریب شمالی شام کے کچھ حصے کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ کُرد فورسز جنگ بندی معاہدے کے تحت اس علاقے سے نکل رہی ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے درمیان گزشتہ روز روس کے سیاحتی مقام سوچی میں ایک ملاقات ہوئی جو چھ گھنٹوں تک جاری رہی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے شام کے شمالی حصے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کے حوالے سے اس معاہدے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کے تحت اس علاقے میں سیز فائر میں م‍زید ایک دن کی توسیع پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ترک سرحد کے قریبی علاقوں سے کُرد ملیشیا کے جنگجو نکل سکیں۔ یہ مہلت منگل 22 اکتوبر کی شب ہی ختم ہو رہی تھی تاہم اس سے چند گھنٹے قبل ہی اس میں توسیع پر اتفاق ہوا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا کی کوششوں سے ترکی اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کرد ملیشیا کو شمالی شام کے ان علاقوں سے نکلنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دی گئی تھی جہاں ترکی ایک محفوظ علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں ترکی میں موجود شامی مہاجرین کو لا کر بسایا جائے۔

اس کے علاوہ بھی ترکی وائی پی جی کو کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گرد گروپ سمجھتا ہے اور وہ اپنی سرحد کے قریب اس گروپ کو طاقت پکڑتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔

Operation Peace Spring Syrien

امریکا کی کوششوں سے ترکی اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کرد ملیشیا کو شمالی شام کے ان علاقوں سے نکلنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دی گئی تھی۔

روسی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس معاہدے کو 'تاریخی‘ قرار دیا جس کے سبب شام میں قیام امن کے لیے 'ایک نئے دور کا آغاز‘ ہو گا۔

 اس معاہدے میں سیز فائر میں توسیع کا وقت آج بدھ 23 اکتوبر کی دوپہر سے شروع کرنے پر اتفاق ہوا جب روسی ملٹری پولیس اور شام سرحدی گارڈز اس علاقے میں داخل ہو جائیں گے اور وائی پی جی سے منسلک عناصر کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کریں گے۔

اس کے بعد ترک اور روسی فورسز مشترکہ طور پر اس علاقے میں گشت شروع کردیں گی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مطابق، ''23 اکتوبر کی دوپہر کے بعد سے 150 گھنٹوں کے اندر وائی پی جی کے دہشت گرد اور ان کے ہتھیاروں کو 32 کلومیٹر کے فاصلے سے باہر کر دیا جائے گا۔ اس گروپ کے محفوظ پناہ گاہوں اور پوزیشنوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ا (ڈی پی اے)

DW.COM