تائیوان کے دفاع میں مدد کریں گے، امریکی مندوب | حالات حاضرہ | DW | 02.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تائیوان کے دفاع میں مدد کریں گے، امریکی مندوب

ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار نے کہا ہے کہ چین کی طرف سے تائیوان کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں واشنگٹن کو اس مشرقی ایشیائی ملک کے دفاع میں مدد کرنا چاہیے۔ چین امریکی اتحادی ملک تائیوان کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔

Daniel Kritenbrink

 امریکی مندوب ڈینیئل کریٹنبرگ نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت کو تائیوان کے دفاع کو مضبوط بنانے کی خاطر اس کی مدد کرنا چاہیے۔

 مشرقی ایشیا اور پیسیفک امور کے اسیسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈینیئل کریٹنبرگ نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت کو تائیوان کے دفاع کو مضبوط بنانے کی خاطر اس کی مدد کرنا چاہیے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے دورے کے دوران انہوں نے سنگار پور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ تائیوان کو چین کی طرف سے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

ڈینیئل کریٹنبرگ نے تائیوان کے لیے امریکی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا  کہ امریکا ہر حال میں تائیوان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مناسب طریقے سے ردعمل ظاہر کرنے کی ضرروت ہے۔

امریکی مندوب کے مطابق تائیوان کے لیے چین کا جبر بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے تائیوان کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے علاوہ اس کے ساتھ تجارت میں بھی  بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا اور تائیوان کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ کی طرح مضبوط رہیں گے۔

چین امریکی اتحادی ملک تائیوان کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ چینی حکومت  تائیوان کے معاملے پر اپنا لہجہ سخت کیے ہوئے ہے جبکہ بیجنگ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والی تائیوان کی حکومت چین سے آزادی حاصل کرنے کا خیال بھی ذہن میں نہ لائے۔ چین نے حالیہ دنوں میں جزیرہ نما تائیوان کے اطراف اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا دی ہے۔

اسیسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقی ایشیا اور پیشیفک امور  ڈینیئل کریٹنبرگ نے سنگار پور میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ملائیشیا کے حکام سے ملاقات میں زور دیا ہے کہ وہ انسانوں کی اسمگلنگ اور مزدروں کے استحصال کے سدباب کے لیے مزید اقدامات کرے۔

 ڈینیئل کریٹنبرگ نے اپنے اس دورے کے دوران علاقائی رہنماؤں پر یہ زور بھی دیا کہ میانمار کی فوجی جنتا پر دباؤ مزید بڑھائیں تاکہ وہاں سول حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

ع ب، ک م  (خبر رساں ادارے)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات