تائیوان میں ہم جنس پسندوں کے مابین پہلی شادی | معاشرہ | DW | 24.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

تائیوان میں ہم جنس پسندوں کے مابین پہلی شادی

تائیوان میں جمعے کے دن دو خواتین کے مابین شادی کی باقاعدہ رسم ادا کی گئی۔ یوں تائیوان پہلا ایشیائی ملک بن گیا ہے، جہاں ہم جنس پسندوں کے مابین شادی کی سرکاری تقریب منعقد کی گئی۔

تائیوان کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ہم جنس پسندوں کے مابین شادی کو ریاستی تحفظ فراہم کرنے کا قانون منظور کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آج بروز جمعہ دو ہم جنس پسند خواتین نے اپنی شادی رجسٹر کرائی۔

پہلی شادی رجسٹر ہوئی، تائیوان الائینس برائے سول پارٹنرشپ رائٹس کی بانی خواتین کے مابین۔ اس اتحاد کی صدر وکٹوریہ سو نے صحافیوں کو بتایا، ’’میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میری شادی ہو گی کیونکہ میں صرف پندرہ برس کی تھی، جب مجھے احساس ہوا تھا کہ مجھے تو خواتین میں دلچسپی ہے۔‘‘

شین لِن اور مارک یوآن نے بھی جمعے کے دن ہی اپنی شادی رجسٹر کرائی۔ یہ دونوں کالج میں ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہوئی تھیں۔ لِن نے اپنی شادی رجسٹر کرانے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ یہ آسان سفر نہیں تھا۔ تائیوان میں گزشتہ تیس برسوں سے ہم جنس پسندوں کے حقوق کی جدوجہد جاری ہے۔ پرنم آنکھوں کے ساتھ لِن نے کہا کہ اس جدوجہد میں ان کے دوستوں، فیملی اور رشتہ داروں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

تائیوان کے میڈیا کے مطابق اس قانون کے نفاذ کے پہلے دن ہی یعنی بروز جمعہ درجنوں ہم جنس پسند جوڑے اپنی اپنی شادی رجسٹر کرا رہے ہیں۔ لِن کا کہنا تھا کہ ہم جنس پسندوں کی شادی کے بارے میں قانونی رکاوٹ تو دور ہو گئی ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ مستقبل میں اسے سماجی سطح پر بھی قبول کر لیا جائے گا۔

تائیوان اگرچہ ایک قدامت پسند ملک ہے، لیکن اس ایشیائی ملک میں ہم جنس پسندوں کی تحریک بہت مضبوط رہی ہے۔ ملکی دارالحکومت تائی پے میں ایشیا کی سب سے بڑی ’گے پریڈ‘ بھی منعقد کی جاتی ہے۔ تاہم اس ملک میں ایک بڑا حلقہ ہم جنس پسندی کے خلاف بھی ہے۔

ع ب / ک م / خبر رساں ادارے

DW.COM