بیساکھی کا تہوار اور مسلم اکثریتی مالیر کوٹلہ کا منفرد تعلق | دستک | DW | 06.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

بیساکھی کا تہوار اور مسلم اکثریتی مالیر کوٹلہ کا منفرد تعلق

جاڑوں کے ختم ہونے اور موسم بہار کو خوش آمدید کرنے کے لیے دنیا کے تقریباً ہر خطے میں دھوم دھام کے ساتھ کوئی نہ کوئی تہوار منایا جاتا ہے۔ لیکن ان میں پنجاب میں منائے جانے والے بیساکھی کے تہوار کی شان ہی الگ ہے۔

گوکہ یہ بھی ربی فصل کی کٹائی اور موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے، مگر یہ دن سکھ تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی دن 1699ء میں سکھ مذہب کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنت کی بنیاد رکھ کر ایک نئے دور کا آغاز کیا تھا۔

اس طرح انہوں نے وہ مشن پورا کیا، جس کا آغاز سب سے پہلے گرو، گرو نانک نے کیا تھا۔ ذات پات اور اونچ نیچ کے نظام کے خلاف بغاوت کر کےگرو نانک نے تو راہ دکھائی تھی کہ خدا کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ''اول اللہ نور اپایا، قدرت کے سب بندے‘‘۔ دسویں گرو نے بابا نانک کی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کیا۔ بیساکھی کے دن، خالصہ پنت کو تشکیل دیتے وقت سکھ سماج سے ذات پات اور طبقاتی نظام کا خاتمہ کر کے مردوں کو سنگھ اور خواتین کو کور کا خاندانی نام دیا گیا۔

 13اپریل 1919ء کو اسی دن، جب امرت سر کے جلیانوالا باغ میں ایک ہجوم بیساکھی منا رہا تھا کہ برطانوی فوج کے جنرل ریجی نالڈ ڈائر نے فائرنگ کا حکم دے کر ہزاروں نہتے لوگوں کو خون میں نہلا کر جنگ آزادی کو ایک نیا موڑ دلا دیا۔
بیساکھی کا چونکہ گرو گوبند سنگھ جی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے، اسی لیے اس کو منانے کے لیے مالیر کوٹلہ تحصیل میں خاصا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1947ء میں تقسیم کے وقت جب پنجاب اور اس کے 24 راجواڑوں میں کشت و خون کا بازار گرم تھا، تو دہلی سے 300 کلومیٹر دور مسلم اکثریتی مالیر کوٹلہ ایک جزیرہ امن کی طرح قائم رہا۔ یہاں کسی کا خون بہا نہ کسی کو ہجرت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ پورے مغربی پنجاب میں یہ واحد علاقہ ہے، جہاں مسلمانوں کی تعداد 65 فیصد ہے۔ امن کے اسی جزیرہ میں پنجاب اردو اکیڈمی کا دفتر بھی ہے۔
تاریخ دانوں کے مطابق مغل دور میں جب سکھوں اور شاہی افواج کے درمیان معرکہ گرم تھا، تو سرہند کے گورنر وزیر خان نے گرو گوبند سنگھ کے دو خورد سال لڑکوں کو 1704ء میں زندہ دیوار میں چن دینے کا حکم صادر کر دیا۔ مگر مالیر کوٹلہ کے نواب شیر محمد خان نے اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے شاہی دربار ترک کر دیا۔

Rohinee Singh - DW Urdu Bloggerin

روہنی سنگھ، بلاگر

یہ قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آنند پور صاحب قصبہ اور تاریخی گوردوارہ کے محاصرے کے دوران مغل فوج کے سربراہ اور سرہند کے حاکم وزیر خان اور گرو گوبندکے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کی رو سے سکھ افواج نے آنند گڑھ قلعہ کو خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

طے پایا کہ سکھ افواج اور گرو گوبند سنگھ کے اہل خانہ کو محفوظ راہداری دی جائیگی۔ لیکن جیسے ہی سکھوں نے قلعہ چھوڑا، مغل فوج نے ان پر حملہ کر دیا۔ گرو گوبند سنگھ، ان کا کنبہ اور ان کی فوج دریائے سرسا کو عبور کرتے ہوئے بکھر گئی۔ ان کے دو بڑے بیٹے اور قریبی 40 سکھ چمکور کے قلعے پر پہنچے، اس دوران ان کے دو چھوٹے بیٹے زور آور سنگھ اور فتح سنگھ اپنی دادی ماتا گجری کے ساتھ قافلے سے بچھڑ گئے۔ دونوں صاحبزادے اس وقت نو اور سات سال کے تھے۔
سکھوں کی روایت ہے کہ ماتا گوجری جب اپنے دو نوں پوتوں کے ساتھ ایک گاؤں کے قریب ندی عبور کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ ایک ریلہ ان کو بہا کر لے گیا۔ ایک مسلمان ماہی گیر عبدل قیوم نے دریا میں چھلانگ لگا کر ان کو بچایا اور اپنے گھر لے جا کر وعدہ کیا کہ وہ ان کو ان کے کنبہ تک پہنچائے گا۔ لیکن قدر ت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

 ماتاجی کے ایک پرانے باورچی گنگو برہمن نے ان کا پتہ لگا کر ان کو ساتھ چلنے پر آمادہ کرا لیا۔ مگر بتایا جاتا ہے کہ راستے میں اس نے نہ صرف ان کی نقدی اور جواہرات چھین لیے بلکہ ان کو مغل فوج کے حوالے کر دیا۔ سکھ تاریخ میں عہد اور اعتماد شکنی کی یہ ایک بدترین مثال ہے۔

ماتا گجری کو ان کے دو پوتوں کے سمیت وزیر خان کی عدالت میں پیش کر کے مقدمہ چلایا گیا۔ گرو گوبند سنگھ کو گرفتار کرنے میں ناکامی سے دوچار وزیر خان تلملا رہا تھا اور اس نے ان کو دیوار میں زندہ چنوانے کی سزا سنائی۔ مالیر کوٹلہ کے نواب شیر محمد خاں، جو اس کارروائی کے دوران موجود تھے، نے بھرے دربار میں صدائے احتجاج بلند کی۔

نواب خود اس جنگ میں اپنے دو بھائی کھو چکا تھا۔ مگر اس کا استدلال تھا کہ دشمن کے بچوں کو مار کر بدلہ چکانا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ مالیر کوٹلہ کے تاریخ دان محمد حبیب کا کہنا ہے کہ ''نواب نے ان دونوں لڑکوں کو اپنے ساتھ لے جانے کی پیش کش کی تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں۔ لیکن ان کی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا اور نواب نے دربار سے واک آوٹ کیا۔" دونوں لڑکوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ ان کی دادی نے حراست میں ہی دم توڑ دیا۔
بعد میں جب گرو گوبند سنگھ کو اپنے بچوں کی ہلاکت اور نواب کی ان کو بچانے کی جدوجہد کا پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ اصل سکھ مالیر کوٹلہ کو کبھی بری نظر سے نہیں دیکھے گا۔ بس وہ دن اور آج کا دن مالیرکوٹلہ سکھوں کے لیے اتنا ہی مقدس ہے، جتنا کوئی آستانہ یا گوردوارہ۔ ایک سال کے بعد جب بندہ سنگھ بہادر، سکھ ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لئے اپنی فوج کے ساتھ پنجاب میں داخل ہوا تو اس نے سرہند اور دوسرے صوبوں پر قبضہ کر کے وزیر خان کو قتل کیا مگر اس کی فوج مالیر کوٹلہ سے دور ہی رہی۔

یہ ریاست پٹیالہ، نابھہ اور سنگرور جیسی بڑی سکھ ریاستوں سے گھری ہوئی تھی۔ مگر کسی بھی سکھ حکمران نے اس پر چڑھائی کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو تحفظ ہی فراہم کیا۔ سکھوں نے ابھی تک اپنے گرو کے حکم کی پاسداری کی ہے اور وہ اب بھی مالیر کوٹلہ کے لوگوں کی احسان مند اور شکر گزار ہیں۔ یہ علاقہ آج بھی سکھ مسلم بھائی چارے کی مثال بنا ہوا ہے۔
تو بیساکھی کے موقع پر جب پنجاب کے ہر گلی، محلہ اور دیہات میں خواتین اور مرد گدّا اور بھنگڑا ڈال کر سکھوں کی ثقافت، قومی روایات اور مذہبی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، تو وہ گرو گوبند سنگھ کے ساتھ ساتھ مالیر کوٹلہ کے نواب شیر خان کی ہمت و جرات کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔

 بیساکھی میلہ جو ہے، وہ اول اللہ، وحدانیت، ذات پات اور طبقاتی نظام کے خلاف بغاوت کو اجاگر کر کے سکھوں اور مسلمانوں کی مشترکہ وراثت اور عقیدے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ غلط فہمیوں اور نفرت کی خلیج کو کم کرنے کا سبب بھی ہے۔