بہتر سالوں میں پہلی مرتبہ، سکھوں کی نادر اور نایاب کتب کی نمائش | معاشرہ | DW | 08.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بہتر سالوں میں پہلی مرتبہ، سکھوں کی نادر اور نایاب کتب کی نمائش

سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں لاہور میں سکھوں سے متعلق تاریخی اہمیت کی حامل نادر اور نایاب کتب کی نمائش جاری ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے والی اپنی نوعیت کی اس منفرد نمائش کا اہتمام پنجاب پبلک لائبریری نے کیا ہے۔ جمعے کے روز اس نمائش کا افتتاح کینیڈا سے آئی ہوئی ممتاز سکھ لکھاری گرمیت کور نے کیا۔ اس موقعے پر پنجاب میں پبلک لائیبریریز کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل وحید اختر انصاری، چیف لائیبریرین عبدالغفور، ممتاز سکھ دانشور اور استاد سردار کلیان سنگھ اور ممتاز سکھ مصنف سردار دلویر سنگھ پنوں سمیت سکھوں اور مسلمانوں کی معقول تعداد موجود تھی۔

کرتارپور میں نہیں جاؤں گا تو اور کون جائے گا؟ سنی دیول

پنجاب پبلک لائیبریری کے سربراہ عبدالغفور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب پبلک لائیبریری میں سکھ مذہب کے حوالے سے بہت بڑی تعداد میں کتب موجود ہیں لیکن اس نمائش میں تاریخی اہمیت کی حامل صرف نادر اور نایاب کتب کو ہی عام قارئین کے لیے رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کا ہاتھ سے تحریر کردہ  تین سو سال پرانا نسخہ بھی رکھا گیا ہے۔ گرنتھ صاحب کا ہی ایک اور نسخہ بھی یہاں موجود ہے، جسے اٹھارہ سو پچاسی میں شائع کیا گیا تھا۔ پنجاب پبلک لائیبریری کے آڈیٹوریم کے وسطی حصے میں سکھوں کی کتابوں کی نمائش جاری ہے جبکہ اس آڈیٹوریم کے اسٹیج کے اوپر، اونچی جگہ پر گرنتھ صاحب کے مسودوں کو رکھا گیا ہے۔ یہاں لوگ جوتے اتار کر اور سر ڈھک کر ہی گرنتھ صاحب کے درشن کر سکتے ہیں۔

نمائش کے شرکا کو بتایا گیا کہ گرنتھ صاحب کے احترام کے حوالے سے پروٹوکولز کے بارے میں آ گاہی حاصل کرنے کے لیے لائیبریری کے اسٹاف نے اس نمائش سے پہلے ننکانہ صاحب جا کر گوردوارہ جنم الستھان میں سکھ رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

اس نمائش میں سکوں سے متعلقہ ایسی کتابیں رکھی گئی ہیں، جنہیں اردو، انگریزی، گورمکھی اور پنجابی زبانوں میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس نمائش میں موجود کتابوں میں سکھ دھرم کی پھلواڑی، گورو نانک دیو جی کی سوانح عمری، سکھوں کی تاریخ، سکھ مذہب اور اسلام، لاہور سکھوں کے عہد میں، اصول سکھ گرو صاحبان، سوانح عمری مندہ بہادر، سری گورو گوبند سنگھ مہاراج نظم سوانح عمری، تذکرہ بابا گورو نانک اور پوتہی جپ جی جیسی کتابیں بھی شامل ہیں ۔

بیشتر کتابیں ایسی ہیں جنہیں انیسویں صدی کے وسط یا اوائل میں شائع کیا گیا تھا۔ نمائش کے شرکا نے پرانی کتابوں کو محفوظ بنانے اور ان کی ڈیجیٹل فارمیٹ پر منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے بقول اس کے لیے بھارتی پنجاب کے علاقے چندی گڑھ کی مین ڈیجیٹل لائیبریری کا پاکستانی پنجاب کی لائیبریریوں کے ساتھ کوئی باہمی تعاون کا معاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:11

’گرو نانک کے گردوارے میں عبادت کرنے کی خواہش پوری ہوگئی‘

اس موقعے پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے یہوئے مقامی سکھ دانشور اور استاد سردار کلیان سنگھ کا کہنا تھا کہ سکھ دھرم سے متعلقہ کتب سے استفادہ کرکے عوام گورونانک کے امن کے پیغام سے شناسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس موقعے پر دلویر سنگھ نامی سکھ مصنف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے محققین کو باہمی روابط بڑھانا چاہیئں تاکہ لائیبریوں میں پڑے علمی خزانوں کو عوام تک پہنچایا جا سکے۔

گرمیت سنگھ نامی ایک سکھ مصنفہ کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر پاکستانی حکام کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے سکھ مذہب سے متعلقہ نادر کتابوں کو سنبھال کر رکھا ہے لیکن ان کے خیال میں ان ان کتب کو ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کرنے اور اسے عام لوگوں تک رسائی دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جانا چاہیئں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic