′بھارت کے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں′ امریکا | حالات حاضرہ | DW | 10.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

'بھارت کے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں' امریکا

امریکا کا کہنا ہے کہ ہند بحر الکاہل کے خطے میں بھارت اس کا ایک اہم شراکت دار ہے اور وہ اس کے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

امریکا نے منگل نو فروری کو بھارت کو اپنا ایک اہم شراکت دار بتاتے ہوئے کہا کہ خطے میں جامع سکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے اس کا کردار بہت اہم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ متعدد امور پر تعاون کو مزید بہتر کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی حکومتیں اعلی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنی یومیہ پریس بریفنگ کے دوران کہا، ''ہند بحر الکاہل کے خطے میں بھارت ہمارے سب سے اہم شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ ہم اس کے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے اور خطے میں مجموعی طور پر سکیورٹی فراہم کرنے کی حیثیت سے اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''ہم دفاعی، جوہری عدم پھیلاؤ، بحر الکاہل خطے میں علاقائی تعاون، انسداد دہشت گردی، امن کے تحفظ، ماحولیات، صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی، زراعت، خلاء اور سمندروں سمیت وسیع پیمانے پر سفارتی اور سلامتی امور پر تعاون کرتے ہیں۔ یہ فہرست کافی طویل ہے۔''

 نیڈ پرائس نے بتایا کہ منگل کے روز ہی امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلینکن نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے بات چیت کی جو گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں دوسری بات چیت تھی۔ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے میانمار میں بغاوت سمیت خطے سے متعلق باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند بحر الکاہل میں امریکا اور بھارت کے درمیان جاری تعاون سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا، ''دونوں نے خطے میں جاری تعاون میں مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ، کورونا وائرس اور ماحولیات سے متعلق چیلنجز کا بھی ملکر سامنا کرنے پر زور دیا۔''

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے سے متعلق بات چیت کے حوالے ایک سوال کے جواب میں امریکی ترجمان نے کہا، ''ہم صورت حال کی بہت قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔ ہم بھارت اور چین کے درمیان بات چیت سے آگاہ ہیں اور سرحدی تنازعات کے پر امن حل کے لیے دونوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کی جانب سے، ''اپنے پڑوسیوں کو دھمکانے کی کوشش کا جو طریقہ کار ہے'' اس پر امریکا کو کافی تشویش ہے۔

 امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بائیڈن نے دو روز قبل ہی پہلی بار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات چیت کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے ''قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام'' کے حوالے سے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے اور اس سے بھی آگے کے علاقوں میں امن اور سکیورٹی کو مستحکم کرنے کے لیے، ''اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو مضبوط'' بنانا چاہیے۔

اس گفتگو کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا تھا، ''صدر جو بائیڈن اور میں قانون پر مبنی ایک بین الاقوامی نظام کے حوالے سے پرعزم ہیں۔ ہم بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں امن و سلامتی کے لیے اپنی اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو مستحکم بنانے کے خواہش مند بھی ہیں۔''

DW.COM