بھارت: کیا اسی کا نام صحافت ہے؟ | دستک | DW | 21.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

بھارت: کیا اسی کا نام صحافت ہے؟

مشہور فلاسفر اور برطانوی پارلیمان کے آئریش نژاد ممبر ایڈمنڈ برک نے 1787ء میں پریس یعنی میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا استون قرار دیا تھا۔ کئی اور محقیقین نے اس کو سماجی واچ ڈاگ یا سگ نگہبان کا بھی نام دیا ہے۔

مقصد تھا کہ میڈیا، جمہوری نظام میں دیگر طاقت کے تین دیگر استونوں یعنی پارلیمان، ایگزیکیٹو اور عدلیہ کی کارکردگی پر کڑی نگاہ رکھ کر طاقت کے نشے میں ان کو بے لگام نہ ہونے دے اور ایک جوابدہ معاشرے کی تکمیل ہو سکے۔

لیکن اگر یہی میڈیا اپنی اول ذمہ داریوں سے کنارہ کر کے، پاسبانی کے بجائے پالتو جانور کی طرح حکومت اور اس سے متعلقہ افراد کے تلوے چاٹنے کا کام شروع کر دے، بجائے عوام کے دل و دماغ کی آواز بننے کے، حکومتی اہلکاروں کے ہاتھوں کی چھڑی کا کام شروع کر دے تو پھرکیا کیا جائے؟ 

یہی حال آج کل بھارت میں الیکٹرانک میڈیا کا ہے۔ اپنی صوتی اور بصری خصوصیات کی وجہ سے ٹی وی میڈیا بھارت میں بہت جلد ہی پروان چڑھا، کیونکہ یہ خواندہ اور ناخواندہ دونوں طبقوں کے لیے بلاامتیاز خبروں کے حصول کا ذریعہ تھا۔ مگر اب حال یہ ہے کہ عوامی مسائل کو درکنار کرتے ہوئے، رپورٹنگ کو تقریباً دفن کر کے ٹی وی اداروں اور اس کے اینکروں نے خبروں کی ترسیل کے ذریعے کو اس قدر مسخ کر کے رکھ دیا ہے کہ ایڈمنڈ برک اور ذرائع ابلاغ کے دیگر محققین کی روحیں کانپ اٹھتی ہوں گی۔ 

ہر شام ٹی وی کا سوئچ آن کرتے ہوئے چیخ و پکار کرتے ہوئے ٹی وی اینکرز اور گراؤنڈ رپورٹنگ کے بجائے، اسکرین پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک لمبا پینل آپ کا استقبال کرتا ہے۔ اور کسی ایسے ایشو کو لے کر گلے پھاڑتا ہے، جس کا عوامی زندگی اور ایشوز سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کی تازہ ترین مثال بالی ووڈ کے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکُشی اور اسپر ٹی وی میڈیا کی ہائے توبہ ہے۔

بجائے پولیس اور عدالت  اپنا کام کرتی، ٹی وی اینکرز تو خود ہی مدعی، وکیل اور منصف بن بیٹھے۔ راجپوت کی گرل فرینڈ ریہا چکرورتی، جو ایک ہفتے قبل ہی اس سے الگ ہوئی تھی، کی ایسی میڈیا ٹرائل ہوئی کہ پولیس کو اسے جیل میں بند کرنا ہی پڑا۔ کسی کی ذاتی خلوت، رازداری کی پروا کیے بغیر ٹی وی اسکرینوں پر ریہا چکرورتی اور ان کے بوائے فرینڈ کے درمیان واٹ از اپ مکالمے نشر ہونے لگے۔ ان کے بیڈ روم اسکرٹس کے پیغامات تو چٹخارے لگا لگا کر سنائے اور ٹی وی اسکرینوں پر دکھائے گئے۔

ایک ڈاکٹر اور مریض کے درمیان مکالمات اور تشخیص تو دنیا بھر میں پرائیویسی کے زمرے میں آتی ہے اور اس کو ظاہر کرنا کسی بھی ڈاکٹر کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ مگر یہاں اس تشخیص اور ڈاکٹروں کی رائے کو بھی نمک مرچ لگا کر اسکرینوں پر دکھایا گیا۔ ان چینلوں کے رپورٹرز کو کلنکوں اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا تاکہ ان سے کوئی بیان لیا جا سکے۔

ٹی وی آن کر کے پہلے تو لگتا تھا کہ یہ کوئی نیوز چینل نہیں بلکہ ڈرامہ یا کوئی ساس بہو والا سیریل نشر ہو رہا ہے۔ مگر غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا تھا کہ یہ تو نیوز چینل ہے۔ ہیجان کن سنسنی خیزی نے جرنلزم کو ایسی اتھاہ گہرائیوں میں دھیکیل دیا ہے، جہاں سے اس کی واپسی مشکل لگ رہی ہے۔ 

اس سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا میڈیا کا کام عام کاروباری کی طرح نفع و نقصان اور دولت کا حصول ہی ہے یا اس کا کوئی مقصد یا ذمہ داریا ں بھی ہیں؟ کیا میڈیا بس ایک فیکٹری یا دکان کی مانند ہے، جس کا مالک کسی بھی طرح سے محض دولت حاصل کرنے کے طریقے ڈھونڈتا رہتا ہے؟

اب کچھ عرصے سے حکومت کو جوابدہ بنانے کے بجائے حکومتی ایجنسیوں کی ہاں میں ہاں ملا کر الیکٹرانک میڈیا نے ایک اور لکیر بھی پار کی ہے۔ جمہوری نظام کی بقاء کے لیے ایک ذمہ دار اپوزیشن اتنی ہی ضروری ہے، جتنی ایک انسان کے لیےآکسیجن۔ دیگر جمہوری ملکو ں کی طرح بھارت میں بھی ایک عرصہ تک میڈیا اور اپوزیشن کا ایک طرح سے ہم زیستانہ رشتہ ہوتا تھا۔

سابق ایڈیٹر اور وزیر ارون شوری کے مطابق حکومت اور میڈیا کے درمیان ایک تخلیقی تناؤ کی کیفیت، جمہوری نظام کے بقاء اور میڈیا کے وقار کے لیے بہت ضروری ہے۔ مگر حالیہ عرصے میں جس طرح میڈیا حکومت کو چھوڑ کر بس اپوزیشن کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے اور حکومت کے خلاف کسی بھی تنقید کو ملک دشمنی اور حب الوطنی کی عینک سے دیکھتا ہے اس نے تو رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔

 تنقید کرنے والوں کے لیے میڈیا نے نئے صیغے ایجاد کیے ہیں۔ پچھلے سال دسمبر میں پارلیمنٹ کے ذریعے شہریت کے نئے قانون پر تنقید کرنے والوں کو”ملک دشمن"، دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والی طالب علموں کو”ٹکڑے ٹکڑے گینگ"، دبے کچلے نچلے طبقے دلت اور ان کی اعانت کرنے والو کو ”شہری نکسل" اور کورونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد ایک خاص فرقہ اور تبلیغی جماعت کے کارکنان کو ”کورونا جہادی" بتا کر بھارت کے الیکٹرانک میڈیا نے جرنلز م کے معنی ہی بدل دیے ہیں۔ توہین آمیر الفاظ کا استعمال کرنا کہاں کی صحافت ہے؟ ہمیں تو جرنلزم کی کلاس میں اساتذہ بار بار تاکید کرتے تھے کہ رپورٹنگ کے دوران غیر جانبداری اور معروضیت سے کام لے کر اضافی صفتوں کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھیے:

پاکستانی صحافت کے جنٹلمین، خدا کی پناہ!

’صحافت بھی تو ستھری نہیں رہی‘

آزادی کے بعد ایک سیکولر اور جمہوری نظام کو اپنانے سے پوری دنیا میں بھارت نے تمام تر خامیوں کے باوجود ایک مقام بنا لیا تھا۔ الیکٹرانک میڈیا کے رویے، ہر شام نفرت آمیز رپورٹنگ اور مناظروں سے کثیرالجہتی سماج کے لیے ایک بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شہریت قانون کے مخالفین، جو ملک کے مختلف علاقوں میں پرامن طور پر احتجاج درج کروا رہے تھے، کو اس طرح نشانہ بنایا گیا کہ جیسے کسی دشمن پر حد جاری کی جا رہی تھی۔

بجائے دھرنے پر بیٹھی خواتین اور حکومت کے درمیان کسی مکالمے کی کوئی صورت تلاش کروائی جاتی، ان کے کردار پر کیچڑ اچھالا گیا اور اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے بتانے کی کوشش کی گئی، کہ ملک دشمن عناصر ان کی فنڈنگ کر رہے ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ الیکٹرانک میڈیا نے اختلاف رائے کو جرم کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔ بجائے حکومت سے سوال کرنے کے اختلاف رائے رکھنے والوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر کے ان پر سوالوں کی بارش کی جاتی ہے۔ اس سے شہ پا کر حکومت آئے دن آئین میں دی گئی آزادیاں، ضمانتیں اور مراعات ایک ایک کرنے ختم کر رہی ہے۔ یہ معاملہ تو صرف اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ آئے دن دشمن پیدا کر کے ان کے خلاف مورچہ سنبھالنے کا کام بھی الیکٹرانک میڈیا کا خاصہ بنا ہوا ہے۔

 تبلیغی جماعت کے اراکین کو کئی ہفتوں تک ”کورونا دہشت گرد و جہادی" بتا کر لعن و طعن کی گئی۔ پورے ملک میں ان کے خلاف نفرت کا ماحول تیار کیا گیا۔ مگر جب چند ماہ بعد عدالتوں نے اس پورے قضیہ کا بھانڈا پھوڑا اور حکومت پر تنقید کی تو پورے الیکٹرانک میڈیا کو سانپ سونگھ گیا۔ ملک بھر کی آٹھ الگ الگ عدالتوں نے تبلیغی جماعت کے اراکین کو بے قصور ٹھہرا کر بتایا کہ کورونا وائرس کے خلاف تدابیر کی ناکامی کی وجہ سے ان اراکین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ کسی نے عدالتی فیصلوں پر پروگرام کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ 

الیکٹرانک میڈیا نے چونکہ ایک طرح سے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی طرح ملک سے دشمنوں کو پاک کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، اس لیے اس کے پاس سماجی اور عوامی مسائل کے لیے اور ان کو حکومت تک پہنچانے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس کے نمودار ہونے سے قبل ہی اقتصادی شرح نمو گر رہی تھی۔ نیشنل اسٹیٹسٹکس بیورو کے مطابق کورونا وائرس کے وجہ سے لاک ڈاون کے بعد اس سال کے پہلے کوارٹر میں گھریلو مجموعی پیداوار کی شرح منفی 23 فیصد تک گر گئی ہے۔ جاپان یا امریکا کی شرح اگر اسسے نیچے بھی گر جائے، ان کی فی کس گھریلو آمدن اس قدر ہے کہ و ہ شاک برداشت کر سکتے ہیں۔ بھارت میں عام صارف دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ لاکھوں مزدور شہر چھوڑ کر پیدل ہی سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد اپنے اپنے دیہاتوں میں چلے گئے۔ کئی تو راستے میں ہی بھوک، پیاس اور تھکن سے ہلاک ہو گئے۔

مگر شام کو ٹی وی اینکروں کے کانوں کو پھاڑ دینے والے شور میں نہ ہی اقتصادی صورت حال اور نہ ہی مزدورں پر آئی آفت کی آواز سنائی دی۔ یہ ایشو تھوڑی ٹی وی ریٹنگ پوائنٹ یعنی ٹی آر پی بڑھاتے۔ اشتہاری کمپنیاں تو ٹی آر پی دیکھ کر ہی اشتہارات جاری کرتی ہیں۔ چونکہ الیکٹرانک میڈیا کو سرمایہ یہ کمپنیاں فراہم کرتی ہیں، اسی لیے پروگرام بھی ان ہی کی پسند کے ہوں گے۔ کیا یہ جرنلز م کی قبر تیار ہو رہی ہے؟ ایسا کیا ہوا کہ واچ ڈاگ کے بجائے میڈیا کو تلوے چاٹنے والا پالتو کتا بننا پڑا ہے؟

دولت اور ثروت کی دیوی اینکرز اور مالکان کے قدم تو چوم رہی ہے۔ بس پھر کیا چاہیے، واچ ڈاگ بن کر قریہ قریہ گھوم کر رپورٹنگ کرنے سے بہتر ہے کہ ایئرکنڈیشنڈ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر عوامی ایشوز سے دور اسٹوریز ایجاد کی جائیں۔ پیسہ بھی آئے گا اور حکومت وقت بھی خوش۔ مگر سوال ہے کہ کیا اسی کا نام صحافت ہے؟