بھارت: کووڈ ویکسین پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 05.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: کووڈ ویکسین پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟

بھارت میں کووڈ۔19 کے خلاف ویکسین کی افادیت تو اپنی جگہ لیکن ماہرین اس سے پہلے ہی ان کی منظوری دیے جانے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

بھارت نے کووڈ۔19کے خلاف دو ویکسین کو منظوری دے دی ہے لیکن ماہرین ان کی منظوری دینے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ویکسینز کی افادیت کے حوالے سے تجربات کے ڈیٹا کو عام کیے بغیر انہیں منظوری دینا شبہات پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف بھارت میں کووڈ ویکسین لگانے کا سلسلہ اگلے ہفتے شروع ہونے جا رہا ہے اور اسے ٹیکے لگانے کی دنیا کی سب سے بڑی مہم قرار دیا جا رہا ہے۔

افادیت کے بارے میں معلومات نہیں

بھارت سرکار نے پونے میں واقع سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) کی تیار کردہ آکسفورڈ۔ اسٹرازینیکا کی ویکسین'کووی شیلڈ‘ اور حیدرآباد میں واقع بھارت بایو ٹیک کی ویکسین 'کوویکسین‘ کو منظوری دی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ویکسین کی افادیت کے حوالے سے جتنی معلومات عام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اتنی ان دونوں ویکسین کے سلسلے میں نہیں کی گئی ہے۔

 کسی بھی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے تجربات کے ڈیٹا کو کافی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کو ویکسین دی جاتی ہے اور کچھ کو نہیں دی جاتی ہے اور پھر دونوں گروپوں میں بیماری کے پھیلنے کی شرح کا موازنہ کیا جاتا ہے اور یہ معلومات عام کی جاتی ہے۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے اپنی ویکسین'کووی شیلڈ‘ کے برطانیہ اور برازیل میں ہونے والے تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں لیکن بھارت میں 1600افراد پر کیے جانے والے ٹرائل کی تفصیلات کو عام نہیں کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ بڑے سوالات 'کوویکسین‘ کے سلسلے میں اٹھ رہے ہیں۔ بھارت بایوٹیک اپنی اس ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے لیے ابھی تک رضاکاروں کا اندراج ہی کر رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:16

کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری

اجازت کس بنیاد پر دی؟

ماہرین یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر ایسے میں ان ویکسینز کو اجازت دینے کی جلدبازی کیا تھی؟۔ اتنی جلد بازی میں اجازت کیوں دی گئی؟۔ گزشتہ برس پندرہ اگست کو ہی بھارت بایو ٹیک کی ویکسین کو لانچ کردیے جانے کی خبر پھیلاتے ہوئے کہا جارہا تھا کہ بھارت ویکسین کی تیاری میں پوری دنیا پر بازی لے جائے گا۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف بایو ایتھیکس کے سابق صدر ڈاکٹر اننت بھان کہتے ہیں،”منظوری دینے کے طریقہ کار میں اعتماد سازی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن یہاں بہت سے ماہرین کو یقین ہی نہیں اور وہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ویکسین واقعی موثر ثابت ہوگی۔ جن دیگر ممالک نے ویکسین کی افادیت کے حوالے سے ڈیٹا کو عام کیے بغیر ویکسین کو منظوری دی ہے وہ صرف روس اور چین ہیں۔" ڈاکٹر بھان کا مزید کہنا تھا ”دونوں ویکسینز کو منظوری دینے کے لیے جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے وہ قانون سے زیادہ ادب کی زبان معلوم پڑتی ہے۔"

Indien | Coronavirus | Adar Poonawalla , CEO Serum Institute Of India

سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای او ادار پوناوالا

ویکسین مؤثر ثابت ہوگی

بھارت بایو ٹیک کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا ایلا نے 'کوویکسین‘ پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے لیے پیر کے روز پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ 'کوویکسین‘ کووڈ۔19اور اس کی نئی قسم دونوں میں ہی موثر ثابت ہوگی اور جلد ہی یہ دعوی ثابت بھی ہو جائے گا۔ ڈاکٹر ایلا کا مزید کہنا تھا، ”ٹھیک ہے یہ ابھی ایک نظریہ ہے، لیکن مجھے صرف ایک ہفتے کا وقت دیجیے اور میں مصدقہ اعدادو شمار پیش کردوں گا۔"

حکومتی موقف

حکومت نے اپنی جانب سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'کوویکسین‘ کو بیک اپ کے طور پر اجازت دی گئی ہے۔ کووڈ۔19 نیشنل ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا تھا، ”اگر ہم  دیکھیں گے کہ کیسیز میں اضافہ نہیں ہورہا ہے تو ہم 'کووی شیلڈ‘ پر ہی انحصار کریں گے۔ جب بھارت بایو ٹیک کے ڈیٹا سامنے آجائیں گے اور اگر ہم نے ڈیٹا کو خاطر خواہ پایا تواسے بھی سیرم انسٹی ٹیوٹ کی ویکسین کی طرح ہی منظوری مل جائے گی۔ میرے خیال میں بھارت کے ڈرگس ریگولیٹر (ڈی سی جی آئی) نے ہری جھنڈی دے دی ہے کہ اگر ہمیں ضرورت ہو تو ہم ویکسین کا ذخیرہ کر سکتے ہیں۔"

ویڈیو دیکھیے 03:09

کورونا وائرس کی نئی قسم کے علاج کے لیے ویکسین

ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا ڈاکٹر وی جی سومانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ویکسین کو”مفاد عامہ میں استعمال‘‘ کی اجازت  دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اجازت کس ڈیٹا کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے ایک بیان پڑھا اور کسی کو اس پر سوال پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

غیر سرکاری تنظیم آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک نے ڈی سی جی آئی سے ویکسین کی منظوری کے حوالے سے ان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے متعلق تمام ڈیٹا اور تجزیے کو عام کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ ان کی آزادانہ تصدیق کی جا سکے۔

DW.COM