1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien Neu-Delhi Frau mit Kind während Coronakrise
تصویر: Getty Images/Y. Nazir

بھارت: کورونا سے متاثرین کی تعداد 30ہزار کے قریب

جاوید اختر، نئی دہلی
28 اپریل 2020

بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی مصدقہ تعداد تیس ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ اگلے ایک ہفتے کے اندر یہ تعدادپچاس ہزار سے تجاوز کرجانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

https://p.dw.com/p/3bUqF

تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس سے اب تک 29572 افراد متاثر اور 939 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔  گزشتہ 24 گھنٹے میں اموات کا اب تک کا سب سے زیادہ معاملہ سامنے آیا ہے۔  اس دوران 62 افراد ہلاک اور 1543 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر میں سب سے زیادہ معاملات سامنے آئے ہیں جہاں کووڈ۔انیس کے مریضوں کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ گجرات میں 3500 سے زائد اور دہلی میں 3100 سے زائد معاملات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں جس تیز ی سے اضافہ ہورہا ہے اس کے مد نظر اگلے ایک ہفتے میں یہ تعداد پچاس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ وزارت صحت کے اعدادو شمارکے مطابق گزشتہ دو دنوں میں متاثرین کی تعداد میں پندرہ فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔  پچھلے دو دنوں کے دوران سب سے زیادہ معاملات ممبئی، احمد آباد، نئی دہلی، اندور اور تھانے اضلاع میں سامنے آئے ہیں۔ مریضوں کی مجموعی طورپر 49 فیصد تعداد ان پانچ اضلاع میں ہے۔

بھارت کے مجموعی طورپر 720 اضلاع میں سے 452 اضلا ع میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ سب سے زیادہ معاملات ممبئی میں درج کیے گئے ہیں اس کے بعد احمد آباد کا نمبر ہے۔

اس دوران محکمہ صحت کے اعلی حکام کے مطابق تبلیغی جماعت کے نظام الدین میں واقع عالمی مرکز کے اجتماع میں شرکت کرنے والے جن لوگوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی ان میں سے تقریباً 350 افراد نے کورونا سے شدید طورپر متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے اپنا پلازماعطیہ کرنے کی پیش کش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پلازما تھیراپی علاج کے لیے اب تک 25 سے زائد افراد اپنے پلازما کا عطیہ کرچکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دہلی کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا تھا اور کووڈ انیس کی بیماری سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت میں تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں کے خلاف کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کرکے بدنام کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش کی گئی۔  ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں فرضی خبریں شائع کی گئیں اورکئی مقامات پر مسلمانوں پر حملے بھی کیے گئے۔  حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس صورت حال کے مدنظر ایک بیان جاری کرکے کہا کہ کورونا کا کوئی مذہب، نسل، ذات یا علاقہ نہیں ہوتا ہے۔ 

Indien Corona-Pandemie Lockdown
تصویر: Reuters/A. Abidi

وزیر اعظم کی اپیل کے باوجود کورونا کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور بعض مقامات پر ان کے سوشل بائیکاٹ کی خبریں مسلسل موصول ہورہی ہیں۔

اترپردیش میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی سریش تیواری نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے ہندووں سے مبینہ طور پر اپیل کی ہے کہ وہ مسلم دکانداروں سے سبزیاں نہ خریدیں۔ ایک وائرل ویڈو میں سریش تیواری کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ”ایک بات اپنے ذہن نشین کرلیں۔ میں ہر شخص کو کھلے طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی شخص کسی مسلمان سے سبزی نہ خریدے۔“  تیواری کا کہنا تھا کہ یہ ان کا مشورہ ہے اور کیا کرنا چاہیے یہ فیصلہ کرنا لوگوں کا کام ہے۔  ”لیکن ہر ایک نے دیکھا ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ ملک میں کیا کررہے ہیں۔“   بی جے پی کے ترجمان نے تاہم کہا کہ پارٹی اس طرح کے بیانات کی تائید نہیں کرتی اور تیواری سے ان کے بیان کے متعلق وضاحت طلب کی جائے گی۔

دریں اثنا مرکزی وزات صحت کے جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے اپنی معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ کسی ایک طبقہ یا حلقہ پر کووڈ انیس کو پھیلانے کا الزام نہیں تھوپا جائے۔ یہ غلط ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ خود لو اگروال نے اپنی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ملک میں 30 فیصد کورونا تبلیغی جماعت کی وجہ سے پھیلا۔ وہ اپنی بریفنگ میں کورونا سے متاثرین کی تعداد بتاتے وقت تبلیغی جماعت کی وجہ سے متاثرین کی تعداد کا خصوصی طورپر الگ سے ذکر کرتے تھے۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے ان کے اس رویے پر سخت اعتراض کیا تھا۔

نئی دہلی کا نظام الدین کا علاقہ عالمی خبروں کا مرکز کیوں بن گیا؟

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistanischer Journalist Arshad Sharif

ارشد شریف قتل کیس کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں