بھارت کا 68 واں یوم آزادی، ریپ کیسز پر مودی ’شرمسار‘ | حالات حاضرہ | DW | 15.08.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کا 68 واں یوم آزادی، ریپ کیسز پر مودی ’شرمسار‘

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا جنوبی ایشیائی ملک بھارت آج اپنا 68 واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

مرکزی تقریب دارالحکومت نئی دہلی کے لال قلعہ میں منعقد ہوئی جس سے نئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے بھارت کو درپیش مختلف مسائل کے ذکر کے ساتھ ساتھ عوام کی صورتحال میں بہتری کے لیے اپنے ارادوں کا اظہار بھی کیا۔

نئی دہلی میں منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک سے فرقہ ورانہ تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ رواں برس مئی میں برسر اقتدار آنے والے نریندر مودی نے قریب ایک گھنٹہ دورانیے کی اس تقریر کے دوران ملک کو درپیش مختلف مسائل کا ذکر کیا۔ بھارت میں حالیہ چند برسوں کے دوران بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات بھی انہی مسائل میں شامل ہیں۔

ئی دہلی کے لال قلعہ میں منعقدہ تقریب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کیا

ئی دہلی کے لال قلعہ میں منعقدہ تقریب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کیا

63 سالہ نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ملک کے لیے شرم کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے واقعات کے لیے دوسروں کی بیٹیوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنے بیٹوں کے کردار کی ذمہ داری لیں۔ مودی کا کہنا تھا، ’’جب ہم ان جنسی زیادتی کے واقعات کے بارے میں سنتے ہیں تو ہمارا سر شرم سے جُھک جاتا ہے۔‘‘ مودی کا مزید کہنا تھا، ’’قانون اپنا کردار ادا کرے گا مگر بطور معاشرہ یہ تمام والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو درست اور غلط کے بارے میں سکھائیں۔‘‘

ملکی نوکر شاہی پر نالاں

نریندر مودی نے اپنے خطاب کے دوران ملک کو درپیش فوری مسائل کے حل کے حوالے سے ملکی بیوروکریسی کی طرف سے لیت ولعل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مودی مرکزی حکومت کی سربراہی حاصل کرنے سے قبل 13 برس تک ملک کی صنعتی حوالے سے معروف مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔

مودی نے عوام کی صورتحال میں بہتری کے لیے اپنے ارادوں کا اظہار بھی کیا

مودی نے عوام کی صورتحال میں بہتری کے لیے اپنے ارادوں کا اظہار بھی کیا

تاہم مرکز میں ملکی بیوروکریسی کے کردار پر وہ خوش دکھائی نہیں دیتے۔ اس حوالے سے مودی کا کہنا تھا، ’’میں نے یہاں تک دیکھا کہ ایک حکومت کے اندر درجنوں حکومتیں بنی ہوئی تھیں۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے ہر ایک کی اپنی جاگیر ہو۔‘‘ مودی کے مطابق انہوں نے یہ دیواریں توڑنے کی کوشش کی ہے۔

مودی نے اپنے خطاب میں بہتر حکومت کی ضرورت پر تو زور دیا تاہم ایسی کسی تجارتی یا مارکیٹ اصلاحات کا کوئی ذکر نہ کیا جن کے وعدے انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے تھے۔ تاہم انہوں نے ملکی مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے اپنے ایک منصوبے کا اعلان ضرور کیا جس سے ملک کی 40 فیصد آبادی فائدہ اٹھا سکے گی۔

مودی نے اپنے خطاب میں یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ ملک کے مرکزی پلاننگ کمیشن کو تبدیل کر دیں گے تاکہ روایتی سوشلسٹ طرز کی معیشت کے فروغ کی بجائے اسے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ نریندر مودی نے ملک میں ذات پات کے نظام کو ختم کرنے اور فرقہ ورانہ تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔