بھارت کا  طالبان کو ′ریاستی ایکٹر′ تسلیم کر نے کا اشارہ | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کا  طالبان کو 'ریاستی ایکٹر' تسلیم کر نے کا اشارہ

طالبان کی کابینہ کے اعلان کے بعد حکومت نے غور و فکر کے بعد طالبان کے لیے کابل کی انتظامیہ جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت آہستہ آہستہ طالبان کو افغانستان کا حمکراں تسلیم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

 بھارت نے پہلی بار اپنے ایک سرکاری بیان میں طالبان کو ریاستی ایکٹر کے طور پر تسلیم کرنے کا اشارہ کیا ہے۔ اتوار کے روز آسٹریلیا کے ساتھ جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں بھارت نے طالبان سے متعلق کہا کہ گروپ، "پورے افغانستان میں اقتدار اور اختیار کے عہدوں پر فائز ہے۔"

مبصرین کے مطابق طالبان کے تئیں اس طرح کا حوالہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی سمت میں آگے کی جانب ایک قدم ہے تاہم بھارت طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے ابھی بھی دور ہے۔

بھارت کا بیان کیا ہے؟

اتوار کے روز آسٹریلیا اور بھارت کے وزرا خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد جو مشترکہ بیان جاری کیا گيا اس میں کہا کہ دونوں ملکوں کے وزرا نے افغانستان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔  بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گيا کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں انہیں بیرونی ممالک کے افراد کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گيا کہ وزرا نے، " اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2593 کے مطابق دہشت گردی کے انسداد کے وعدوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے افغانستان میں اقتدار اور اختیارات کے عہدوں پر فائز لوگوں سے مطالبے کا اعادہ کیا گيا ہے۔"

بھارتی میڈيا کے مطابق بھارتی حکومت نے طالبان سے متعلق کافی غور و فکر کے بعد اس طرح کی اپروچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل سنیچر کے روز خود بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس حوالے سے ایک بیان میں طالبان کے لیے کابل کی "انتظامیہ" کا لفظ استعمال کیا تھا۔

بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان بات چیت میں دونوں ملکوں کے وزرا خارجہ سمیت وزرا دفاع بھی شامل تھے جس کا مقصد خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خيال کرنا تھا۔ مشترکہ بیان میں گرچہ افغانستان میں انسانی حقوق اور حقوق نسواں  کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گيا تاہم طالبان کے لیے جن الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ  طالبان کے تئیں بھارتی رویے میں نرمی آ رہی ہے۔

کیا بھارت طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا؟

ان امور پر گہری نظر رکھنے والے نئی دہلی میں سینیئر صحافی سنجے کپور کہتے ہیں کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ طالبان نے امریکی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد افغانستان کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا اور اس میں روس، چین اور پاکستان جیسے دیگر ممالک بھی شامل تھے۔ "ان سب کو اب اس بات کی فکر ہے کہ طالبان حکومت نارمل ہو سکے۔"

سنجے کپور کہتے ہیں، "حال ہی میں مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ بھارت آئے اور وہ بھی بھارت کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے کہ وہ طالبان کو مخالف نظریے سے نہ دیکھے۔ اب آپ جو آپ سن رہے ہیں وہ در اصل یہ ہے کہ بھارت بتدریج طالبان کو افغانستان کا حکمران تسلیم کرنے کی پوزیشن پر آ رہا ہے۔" 

وہ مزید کہتے ہیں، "میرے خیال میں ابھی اس کا اس وقت تک انتظار کرنا ہو گا، جب تک کہ طالبان کی حکومت میں بعض دوسرے رہنما بھی شامل نہ ہو جائیں۔ ایک جامع حکومت طالبان کا پروفائل بدل دے گی اور پھر یہ قابل تسلیم بھی ہو جائے گی۔"

بھارتی تذبذب

بھارتی حکام ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ طالبان کی قیادت کے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے قریبی تعلقات رہے ہیں، اس لیے اس بات کا خدشہ ہے کہ پاکستان طالبان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔

تاہم بھارت کے بیشتر تجزیہ کاروں کا موقف رہا ہے کہ طالبان کی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم نہ کرنے سے بھارت کو مستقبل میں کافی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے نئی دہلی کو دوطرفہ روابط قائم کرنے کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرنا چاہیے۔

کئی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کے لیے مشکل یہ ہے کہ اس مرتبہ وہ طالبان کی حکومت سے کنارہ کش نہیں ہو سکتا، جیسا کہ اس نے نوے کی دہائی میں کیا تھا کیونکہ نئی افغان حکومت کو بھارت کے اتحادی ملک امریکا نے قانونی جواز فراہم کر رکھا ہے۔

دوسری طرف بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں بھارت کے حوالے سے طالبان رہنماؤں کے قدرے متضاد بیانات سے نئی دہلی شش و پنج کا بھی شکار رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:41

افغانستان ميں اربوں کے معدنی ذخائر، عالمی قوتوں کا اگلا ہدف؟

DW.COM