بھارت: وسیم رضوی کی قرآنی آیات حذف کرنے کی درخواست خارج | حالات حاضرہ | DW | 12.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: وسیم رضوی کی قرآنی آیات حذف کرنے کی درخواست خارج

بھارتی سپریم کورٹ نے قرآن سے آیات حذف کرنے سے متعلق شیعہ بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عرضی گزار پر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ 

بھارت کی سپریم کورٹ نے اس عرضی کو پوری طرح سے خارج کر دیا ہے، جس میں مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب قرآن سے چھبیس آیات کو حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ شیعہ بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی تھی۔

جسٹس آر ایس ناریمن کی قیادت والی بینچ نے سماعت کے دوران اسے، "قطعی طور پر فضول اور بیہودہ پٹیشن قرار دیتے ہوئے"، عرضی گزار پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

جب درخواست بینچ کے سامنے آئی تو جسٹس ناریمن نے وکیل سے پوچھا، "کیا آپ واقعی سنحیدہ ہیں؟ کیا آپ اس پر زور دے رہے ہیں؟

وسیم رضوی کی اس درخواست کی پیروی کرنے والے سینیئر وکیل آر کے رائے زائدہ نے اس پر کہا کہ وہ اس کو مدرسہ بورڈ  تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا، "اس کی مدد سے مدرسہ کے طلبہ کو  کم عمری میں کافروں کے خلاف تشدد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس طرح کی تعلیم کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور بازار میں اس طرح کا مواد بھی دستیاب نہیں ہونا چاہیے۔ مرکزی حکومت اور مدرسہ بورڈ کو اس بات کی ہدایات دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ان آیات کی تعلیم دینا روک دیں۔" 

لیکن سپریم کورٹ کی بینچ ان دلائل سے قطعی متاثر نہیں ہوئی اور نہ ہی اس پر مزید سماعت کے لیے تیار ہوئی۔ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے وسیم رضوی پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔

لکھنؤ کے رہائشی اور اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے گيارہ مارچ کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست میں مطاکبہ کیا تھا کہ قرآن کی ان چھبیس آیات کو اس مقدس کتاب سے نکال دیا جائے، جو ان کے بقول 'دہشت گردی کے فروغ میں معاون‘ ہوتی ثابت ہوتی ہیں۔

 انہوں نے اس کیس میں کئی درجن مسلم سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے علاوہ تقریباً ایک درجن حکومتی وزارتوں، سرکاری محکموں اور اداروں کو فریق بھی بنایا تھا۔

اس کے خلاف بھارت کے مختلف حصوں میں مظاہرے بھی ہوئے اور  کئی مقامات پر وسیم رضوی کے خلاف پولیس میں کیس بھی درج کرائے جا چکے ہیں۔ شیعہ مذہبی تنظیموں نے انہیں دائرہ اسلام سے خارج بتایا جبکہ ان کے قریبی رشتہ داروں نے ان سے پوری طرح کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کچھ لوگوں نے تو اپنے طور پر ان کے سر کی قیمت بھی لگا دی تھی۔

دوسری طرف ہندوؤں کا ایک طبقہ وسیم رضوی کی حمایت میں آگے آ  گیا تھا۔ سخت گير ہندو نظریات کے حامی سوشل میڈیا پر ان کی زبردست حمایت کرتے رہے ہیں اور انہیں 'سب سے بڑا دیش بھگت‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

بھارت میں بعض حلقوں کا کہنا ہے  کہ وسیم رضوی کی طرف سے دائر کردہ درخواست ایک بڑی سازش تھی اور انہیں اس کے لیے آلہ کار بنایا گیا ہے۔ مبصرین کے بقول اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی نیا تنازعہ کھڑا ہو جائے اور عوام کی توجہ کسانوں کی تحریک سے اور مہنگائی کی طرف سے ہٹ جائے۔

ویڈیو دیکھیے 03:27

پرانے اور خستہ قرآنی اوراق کی تدفین

DW.COM