’بھارت میں ہر گائے کو ملے گا خصوصی شناختی نمبر‘ | معاشرہ | DW | 25.04.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بھارت میں ہر گائے کو ملے گا خصوصی شناختی نمبر‘

گائے کے نام پر پُرتشدد حملوں اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر مودی حکومت نے گائیں کے تحفظ کے لیے ان جانوروں کے لیے خصوصی شناختی نمبر جاری کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم اپوزیشن نے اسے مضحکہ خیز قدم قرار دے دیا ہے۔

قوم پرست پندو سیاست دان نریندر مودی حکومت نے گائیں کو خصوصی شناختی نمبر (یو آئی ڈی) جاری کرنے کے منصوبے کی جو تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کی ہیں، اس پر عدالت میں پچیس اپریل بروز منگل کو بھی سماعت جاری رہی۔ سرکاری وکیل سالسٹر جنرل رنجیت کمار نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ مرکز نے گائیں کے لیے خصوصی شناختی نمبر کی سفارش کو اصولی طور پر منظور کرلیا ہے۔ یہ سفارش ایک سرکاری کمیٹی نے تیار کی ہے، جو سپریم کورٹ کی طرف سے مرکزی حکومت کو نیپال اور بنگلہ دیش سے ملحق سرحدوں سے گائیں کی اسمگلنگ روکنے کا طریقہ تیار کرنے کا حکم دیے جانے کے بعد قائم کی گئی تھی۔

ٹرک میں بھینسیں کیوں؟ ’نئی دہلی میں تین افراد پر حملہ‘

گائے کی مال برداری: مشتعل ہندوؤں کا کشمیری مسلم خاندان پر حملہ

بھارتی گجرات  میں گائے ذبح کرنے کی سزا عمر قید ہو گی

حکومت نے جو تفصیلات پیش کی ہیں، اس کے مطابق ہر گائے کا ایک مخصوص نمبر ہوگا اور اس کی شناخت کے لیے اس کی عمر، نسل، قد، رنگ، سینگ اور دم کی تفصیلات نیز جسم کے کسی ایسے نشان کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا، جس سے اس کی شناخت کرنے میں آسانی ہو۔ یہ شناختی نمبر گائے اور اس کی نسل کے تمام جانوروں کے لیے لازمی ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت ہر گائے کے کان یا سینگ میں ایک ٹیگ لگایا جائے گا، جس پر ان کا نمبر درج ہوگا ۔

یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں شہریوں کے لیے خصوصی شناختی نمبر کے تحت ’آدھار کارڈ‘ کے نام سے ایک شناختی کارڈ جاری کیا جا رہا ہے، جس میں ہر مردوعورت اور بچے کے بائیو میٹرک نشانات لیے جاتے ہیں۔ حکومت اپنی بیشتر فلاحی سکیموں کے لیے اس ’آدھار کارڈ‘ کو لازمی قرار دے رہی ہے تاہم یہ منصوبہ تنازعے کا شکار ہے اور معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر التوا ہے۔

Supermacht Indien Flash-Galerie (AP)

حکومت کے مطابق گائے کو خصوصی شناختی نمبر دیے جانے کے بعد اسے آسانی سے ٹریک کیا جاسکے گا


مرکزی حکومت کا کہنا ہے گائے کو خصوصی شناختی نمبر دیے جانے کے بعد اسے آسانی سے ٹریک کیا جاسکے گا۔ اس سے اس جانور کی اسمگلنگ میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے دودھ دینا بند کر دینے والی گائے بھینسوں کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے، کیوں کہ ایسے جانور ملک سے باہر اسمگل یا ذبح خانوں میں پہنچا دیے جاتے ہیں۔ حکومت نے لاوارث گائیں کے لیے ہر ضلع میں ایک ایسا شیلٹر ہوم بنانے کی تجویز بھی پیش کی ہے، جہاں کم از کم پانچ سو گائیں رکھی جا سکیں۔

مودی حکومت کے اس تازہ اقدام کو اپوزیشن نے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما اور جنرل سیکرٹری دگ وجے سنگھ نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’مودی جی کو آخر کیا ہوگیا ہے؟ اب وہ گائیں کے لیے بھی آدھار کار ڈ بنوا رہے ہیں۔ اس پر کتنی لاگت آئے گی؟ کیا گؤ رکشکوں (گائے کا تحفظ کرنے والے خودساختہ گروپ) کو ہی اس کی ذمہ داری دی جائے گی؟ کیا گائے پالنے والے مسلمان اس کے بعد گؤ رکشکوں کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں گے؟‘‘

پانچ سو گائیں کیسے چوری کی گئیں؟

بریانی میں گائے کا گوشت کس نے شامل کیا، بھارتی پولیس کو تلاش
بھارت میں گائیں ٹرانسپورٹ کرنے پر قتل، سولہ ہندو ملزم گرفتار

بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ڈی راجہ کا کہنا ہے، ’’جب تک مودی وزیر اعظم رہیں گے، مرکز (ہندو قوم پرست جماعت) آر ایس ایس کے ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے مجبور ہے۔ حالانکہ اہم پالیسی امور پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔‘‘

Flash-Galerie Religion und Essen Hinduismus (AP)

بھارت میں ہندوؤں کا ایک طبقہ گائے کو انتہائی مقدس سمجھتا ہے

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے بقول، ’’گائیں کی سمگلنگ روکنا اچھی بات ہے لیکن حکومت کی ترجیحات بالکل غلط ہیں۔ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ملک کو درپیش اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ بھارت میں ہندوؤں کا ایک طبقہ گائے کو انتہائی مقدس سمجھتا ہے اور اسے ماں کا درجہ دیتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر بعض خودساختہ گروپوں کے پرتشدد حملوں میں متعدد افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے چند ماہ قبل ایسے خود ساختہ گروپوں کو جرائم پیشہ افراد کا گروپ قراردیا تھا۔

مودی نے کہا تھا، ’’یہ نام نہاد گؤ رکشک ہیں۔ جو دن میں تو گؤ رکشک ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور رات میں عام طور پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔‘‘وزیر اعظم نے ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا تھا تاہم ان کی بات کا نام نہاد گؤ رکشکوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور وہ اپنی کارروائیاں بے روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM