بھارت میں ہر سال ڈھائی لاکھ بچیوں کی موت، وجہ جنسی امتیاز | معاشرہ | DW | 15.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں ہر سال ڈھائی لاکھ بچیوں کی موت، وجہ جنسی امتیاز

بھارتی معاشرے میں بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت کے رجحان کے باعث سالانہ پانچ سال سے کم عمر کی  240,000 بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

’دی لینسٹ‘ میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق بچیوں کی ہلاکتوں کی یہ تعداد ان بچیوں کی تعداد سے الگ ہے جنہیں دوران حمل جنس معلوم ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کے ذریعے دنیا میں آنے سے قبل ہی موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس مطالعے کے شریک مصنف کرسٹوف گوئلموٹو کے مطابق ، ’’جنسی بنیاد پر امتیاز صرف بچیوں کی پیدائش کے عمل کو ہی روکنے تک محدود نہیں ہے بلکہ پیدائش کے بعد ان کی موت کا بھی مؤجب ہے۔‘‘  ان کے مطابق لڑکیوں سے جنسی غیر جانبداری برتنے کا مطلب صرف تعلیم کاحق، ملازمت اور سیاسی نمائندگی نہیں ہے بلکہ ان کا خیال رکھنا، ویکسینیشن، لڑکیوں کی غذائیت اور ان کے بقائے وجود کو یقینی بنانا ہے۔

بھارت، گندے نالے سے انیس  بچیوں کے جنین برآمد

بھارت کی ’ان چاہی‘ لڑکیاں

گوئلموٹو اور ان کی ٹیم 46 ممالک کی آبادی کے اعداد و شمار اکھٹا کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ سن 2000ء سے 2005ء کے درمیان ہر ایک ہزار بچیوں میں سے 19 کی ہلاکت جنسی امتیاز کے باعث ہوئی۔ ان اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں سالانہ 239,000  کم عمر بچیاں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جن کی تعداد ایک دہائی میں 2.4 ملین بنتی ہے۔  

محققین کے مطابق بچیوں سے متعلق سب سے زیادہ مسائل بھارتی ریاست اتر پردیش، بہار، راجھستان اور مدھیہ پردیش میں سامنے آئے جہاں لڑکیوں کی اموات کا تناسب دو تہائی زیادہ نظر آیا۔ ان علاقوں میں سب سے زیادہ متاثر پسماندہ دیہی طبقہ ہے جہاں تعلیم کی شرح کم اور آبادی کی شرح زیادہ ہے۔

ع ف/ا ب ا (اے ایف پی)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار