بھارت میں ’گائے سائنس‘ کا امتحان بھی دینا پڑے گا | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت میں ’گائے سائنس‘ کا امتحان بھی دینا پڑے گا

بھارت میں اب ’گائے سائنس‘ پر قومی سطح کا امتحان لیا جائے گا۔ وزیراعظم مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے ’مقدس گائے‘ کی حفاظت اور فروغ کی خاطر آئندہ ماہ ملک گیر سطح پر اس موضوع پر امتحان منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی ادارے 'راشٹریہ کام دھینو آیوگ‘ (قومی گائے کمیشن) کے زیر انتظام قومی سطح کا یہ آن لائن امتحان 25 فروری کو منعقد ہو گا، جس میں بچوں سے لے کر بالغوں تک حتی کہ غیر ملکی بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ امتحان میں ہندی اور انگریزی سمیت بارہ علاقائی زبانوں میں 100 ملٹپل چوائس سوالات (ایم سی کیو) پوچھے جائیں گے اور کامیاب افراد کو سند اور انعامات دیے جائیں گے۔

گائے مکمل سانئس ہے

راشٹریہ کام دھینوآیوگ (آر کے اے) کے چیئرمین اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا ہے کہ اس امتحان کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کے حوالے سے 'تجسس پیدا کرنا‘ اور اس مقدس جانور کے تئیں 'احساس‘ جگانا ہے۔

ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا تھا کہ 'گائے سائنس‘ کے بارے میں لوگوں کو جاننے کی ضرور ت ہے، ”گائے اپنے آپ میں ایک مکمل سائنس ہے۔ اگر ہم بھارت کی پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کی بات کرتے ہیں تو اس میں انیس کروڑ سے زائد گائے اور بچھڑوں کی بھی اہمیت ہے۔ یہ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر گائے دودھ نہیں دیتی ہے تب بھی اس کا پیشاب اور گوبر قیمتی ہے۔ اگر ہم ان کا استعمال کریں تو اس سے نہ صرف گائے کو بچایا جاسکتا ہے بلکہ ہماری پوری معیشت بھی اپنے راستے پر آسکتی ہے۔"

دلچسپ دعوے

قومی گائے کمیشن کے چیئرمین کتھیریا نے بتایا کہ اس مقابلے کے چار حصے ہوں گے، جس میں اسکول کے طلبہ سے لے کر کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ نیز عام شہری اور غیر ملکی بھی حصہ لے سکتے ہیں۔

آر کے اے نے اس امتحان کے لیے ایک نصاب اور 54 صفحات پر مشتمل 'تحقیقی‘ مواد بھی جاری کیا ہے۔ اس میں بعض بڑی دلچسپ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ گائے کے دودھ میں سونے کے ذرات پائے جاتے ہیں اور اس جانور کے ذبح کرنے کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔ آر کے اے کی طرف سے فراہم کردہ اسٹڈی میٹریل میں بتایا گیا ہے کہ کئی برسو ں تک روزانہ گائے ذبح کرنے سے مرتے ہوئے جانور کی کراہ سے پیدا ہونے والی لہروں کا اثر چٹانوں پر پڑتا ہے۔

اسی طرح گائے کے گوبر سے زہریلی گیسوں کے بے اثر ہو جانے کا دعوی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے،''سن 1984 میں بھوپال گیس سانحے کے دوران بیس ہزار سے زائد لوگوں کی موت ہوگئی لیکن جو لوگ گائے کے گوبر سے پتائی کئے ہوئے گھروں میں تھے ان پر اس زہریلی گیس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔"

آر کے اے کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق دیسی گائے، غیر ملکی (جرسی) گائے سے یکسر مختلف ہوتی ہے،'' دیسی گائے بہت طاقت ور اور عقلمند ہوتی ہے۔ وہ گندے جگہوں پر نہیں بیٹھتی جبکہ جرسی گائے کاہل ہوتی ہے اور اس کے بیمار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص دیسی گائے کے قریب آتا ہے تو فورا ً کھڑی ہوجاتی ہے لیکن دوسری گایوں میں یہ جذبہ نہیں نظر آتا ہے۔"

ایسے دعوے جگ ہنسائی کا سبب

ولبھ بھائی کتھیریا پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ وہ ماضی میں بھی گائے سے ہونے والے فوائد بتاتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے گائے کے گوبر سے تیار کردہ چِپ لانچ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس سے موبائل فون کی تابکاری کافی حد تک کم ہوجاتی ہے اور اس سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے دعوی کیا تھا،''پنچ گؤ (گائے سے ملنے والی پانچ چیزیں۔ دودھ، دہی، گھی، گوبر، پیشاب) پر مبنی آیورویدک علاج سے کووڈ انیس کے اب تک آٹھ سو سے زائد مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔ ان مریضوں کو پانچ سے چودہ  دنوں کے علاج سے ہی شفا مل گئی اور کسی طرح کی پیچیدگی بھی پیدا نہیں ہوئی۔

حالانکہ ڈاکٹر کتھیریا کے اس بیان کی بھارتی سائنسی برادری نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے دعوؤں سے بھارت کی سائنسی کمیونٹی کا دنیا بھر میں مذاق بنتا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز میں سائنس داں گوہر رضا کا ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا، ”ایسے دعوؤں سے دنیا نہ صرف ہم پر ہنستی ہے بلکہ ہماری سائنٹفک کمیونٹی بھی بدنام ہوتی ہے۔ کم از کم ملک کے رہنماؤں، وزیروں یا حکومتی ادارے کے سربراہوں کو تو اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔"

بھارت میں ہندوؤں کی اکثریت گائے کو انتہائی مقدس سمجھتی اور ماں کا درجہ دیتی ہے۔ سن 2014  میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندو قوم پرست جماعت بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت گائے کے گوبر اور پیشاب کی تحقیق اور ان سے مصنوعات کی تیاری پر کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے۔ دوسری طرف گائے کی حفاظت کے نام پر اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں، جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:14

بھارت میں گائیوں کی خفیہ تجارت

 

DW.COM