1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں نئے آئین کی تجویز پرہنگامہ اور مودی حکومت کی وضاحت

جاوید اختر، نئی دہلی
18 اگست 2023

وزیر اعظم مودی کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے سربراہ نے بھارت کے لیے ایک نئے آئین کی تجویز پیش کی تھی۔ اس پر زبردست تنازعہ پیدا ہونے کے بعد حکومت نے اسے ایک شخص کی 'ذاتی رائے' قرار دیتے ہوئے اپنا پلّہ جھاڑ لیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4VJn4
بی بیک دیب رائے نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ بھارت کے لیے ایک نئے آئین کی ضرورت ہے
بی بیک دیب رائے نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ بھارت کے لیے ایک نئے آئین کی ضرورت ہےتصویر: Reuters/UNI

بھارتی وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل نے بھارت کے لیے ایک نئے آئین کی ضرورت سے متعلق اپنے چیئرمین بی بیک دیب رائے کی متنازعہ تجویز سے خود کو الگ کرلیا ہے۔

کونسل نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ اس حوالے سے دیب رائے کا مضمون بھارت سرکار یا وزیر اعظم کی اقتصادی مشاوری کونسل کے نظریات کی کسی بھی صورت میں عکاسی نہیں کرتا۔

بی بیک دیب رائے نے اس ہفتے کے اوائل میں ایک اخبار میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ بھارت کا موجودہ آئین نوآبادیاتی وراثت کا مظہر ہے اور ملک کے عوام کے لیے ایک نئے آئین کی ضرورت ہے۔

بی جے پی کا بھارت میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا شوشہ ایک بار پھر

انہوں نے لکھا تھا، "ہم جس بات پر بحث کرتے ہیں اس کا بیشتر حصہ آئین سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔ چند ترامیم سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہمیں دوبارہ ازسرنو غور کرنا ہو گا اور اولین اصولوں سے آغاز کرنا ہو گا۔ اور یہ پوچھنا ہو گا کہ آئین کی تمہید میں درج سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری، انصاف، ازادی اور مساوات الفاظ کا اب کیا مطلب رہ گیا ہے۔ ہمیں خود کو ایک نیا آئین دینا ہو گا۔"

 

دیب رائے نے بعض حوالوں کے ساتھ لکھا ہے کہ تحریری آئین کی مدت صرف 17 برس ہوتی ہے۔ لیکن"ہمارا موجودہ آئین بڑی حد تک گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935پر مبنی ہے۔ اس طرح یہ ایک نوآبادتی وراثت ہے۔" انہوں نے مزید لکھا ہے کہ " ڈاکٹر امبیڈکر (آئین ساز کمیٹی کے سربراہ) نے بھارتی آئین ساز اسمبلی اور 2 ستمبر 1953 کو راجیہ سبھا میں بھی کہا تھا کہ آئین پر نظرثانی ہوتی رہنی چاہئے۔"

 شدت پسند ہندو تنظیمیں بھارتی آئین کو تبدیل کرنے اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کا مطالبہ دہراتی رہتی ہیں
شدت پسند ہندو تنظیمیں بھارتی آئین کو تبدیل کرنے اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کا مطالبہ دہراتی رہتی ہیںتصویر: Hindustan Times/imago images

آئین میں ترمیم کی تجویز پر سخت ردعمل

متعدد سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے وزیر اعظم کے اعلیٰ اقتصادی مشیر کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض رہنماوں نے اسے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آئین کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا۔

خیال رہے کہ شدت پسند ہندو تنظیمیں بھارتی آئین کو تبدیل کرنے اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کا مطالبہ دہراتی رہتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے مودی حکومت نے بی بیک دیب رائے کے ذریعہ پانی میں پتھر پھینک کر ردعمل جاننے کی کوشش کی ہے۔

بھارتی عدلیہ اپنی آزادی برقرار رکھ سکے گی؟

کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ ببیک دیب رائے کے ذریعہ حکومت نے موجودہ آئین کو کوڑے دان میں ڈال دینے کی تجویز پیش کردی ہے جو سنگھ  پریوار کے ایجنڈے پر ہمیشہ رہا ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا، "اہل وطن کو ہوشیار ہو جانا چاہئے۔"

لالو پرساد کی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا کا کہنا، "دیب رائے کے ذریعہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکا گیا ہے تاکہ لہریں پیدا ہوں، پھر کچھ اور لوگ ایسا کریں گے اور یہ کہا جائے گا کہ یہ مطالبہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔"

بھارتی مسلمانوں کے سامنے اب یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ

ایک دیگر اپوزیشن جماعت جنتا دل یونائٹیڈ کے قومی سکریٹری راجیو رنجن نے کہا کہ بی جے پی نے کئی مواقع پر آئین کے بنیادی کردار کو بدلنے کی کوشش کی ہے اور بی بیک دیب رائے کے تازہ بیان نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی تشویش ناک سوچ کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔"  انہوں نے تاہم کہا کہ بھارت اس طرح کی کوششوں کو کبھی قبول نہیں کر ے گا۔

بھارت: شہریت ترمیمی قانون کو چور دروازے سے نافذ کرنے کی کوشش؟

دریں اثنا بی بیک دیب رائے نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی تجویز پر بلا وجہ ہنگامہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور اس طرح کی رائے وہ پہلے بھی ظاہر کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ افسوس کی بات ہے کہ ان کی ذاتی رائے کو وزیر اعظم مودی کی رائے کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔"