بھارت میں ریپ، ’خواتین خود بھی ذمہ دار ہیں‘ | معاشرہ | DW | 29.01.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بھارت میں ریپ، ’خواتین خود بھی ذمہ دار ہیں‘

بھارت میں حکمران سیاسی اتحاد کی ایک خاتون سیاستدان نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی خود خواتین بھی ذمہ دار ہیں۔ اس بیان کے خلاف ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی قوم پرست کانگریس پارٹی کی صوبائی رہنما آشا میرجی نے کہا ہے کہ بعض اوقات خواتین خود بھی مردوں کو’جنسی زیادتی‘ کی دعوت دیتی ہیں، ’’ عصمت دری کے واقعات خواتین کے کپڑوں، رویے اور نامناسب جگہوں پر جانے کی وجہ سے بھی پیش آتے ہیں۔‘‘ میرجی نے یہ بیان شہر ناگپور میں خواتین کے ایک اجتماع کے موقع پر این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں، خواتین کو محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔ میں کہاں جا رہی ہوں؟ کس کے ساتھ جا رہی ہوں؟ کیا واقعی مجھے اس جگہ جانا چاہیے؟‘‘

دسمبر 2012ء میں ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے آشا میرجی کا کہنا تھا کہ خواتین رات کو دیر گئے تک گھر سے باہر کیوں رہتی ہیں؟ ان کا کہنا تھا، ’’کیا نیربھایہ (دہلی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کو دیا گیا نام) کو واقعی رات گیارہ بجے اپنے دوست کے ساتھ فلم دیکھنے کے لیے جانے کی ضرورت تھی؟‘‘

آشا میرجی کا کہنا تھا، ’’شکتی ملز گینگ ریپ کے واقعے ہی کو دیکھ لیجیے! لڑکی کو شام چھ بجے اس ویران اور الگ تھلگ جگہ پر جانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق بھارت میں اس صوبائی سیاسی رہنما کے ان بیانات کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی طرف سے اس بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ احتجاجی ردعمل کو دیکھتے ہوئے میرجی نے معافی بھی مانگی ہے۔ لیکن یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں، جب بھارت میں جنسی زیادتی کے پے در پے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات میں نہ صرف مقامی خواتین تین بلکہ سیاحت کے لیے آئی ہوئی تین غیرملکی خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسے واقعات ہی کی وجہ سے نئی دہلی حکومت نے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ اس طرح جنسی زیادتی کے واقعات میں کوئی کمی آئے گی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بھارت میں ہونے والے جنسی تشدد کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق بھارت میں اجتماعی جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات خطرے کی گھنٹی ہیں۔ بھارت کے ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران بھارت آنے والی خواتین سیاحوں کی تعداد میں 35 فیصد کی کمی ہو چکی ہے جبکہ حالیہ واقعات اس میں مزید کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔