بھارت میں بھی کورونا وائرس پھیلتا ہوا | حالات حاضرہ | DW | 04.03.2020

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت میں بھی کورونا وائرس پھیلتا ہوا

چین کے بعد مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم نے وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔ براعظم ایشیا کے کئی ممالک میں اس وبا کے مریض تشخیص کیے جا چکے ہیں، ان میں بھارت بھی شامل ہے۔

بھارت میں حکام  نے اٹھائیس افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں سولہ اطالوی سیاح جبکہ بارہ بھارتی شہری ہیں۔ اطالوی سیاح اس وقت بھارت آئے تھے جب ایئر پورٹ پر بیرونی ممالک سے آنے والے افراد کی اسکریننگ کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے منظر عام آنے کے بعد مذکورہ پرواز کے عملے اور مسافروں کو الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی گئٍ ہے۔ اب وزارت صحت کا کہنا ہے کہ تمام ایئر پورٹ پر باہر سے آنے والے لوگوں کی اسکریننگ کا انتظام کیا گيا ہے۔

وزارت صحت کے ایک بیان کے مطابق اطالوی سیاحوں کو جو شخص راجستھان لے کر گيا تھا وہ بھارتی ڈرائیور بھی وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کا تعلق دہلی اور حیدرآباد جیسے مختلف شہروں سے بتایا جا رہا ہے۔

Bildergalerie Nipah-Virus

ایک بھارتی میڈیکل کالج ہسپتال میں مشتبہ مریضوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے

دارالحکومت نئی دہلی میں وزیر صحت ہرش وردھن نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ دہلی کے 45 سالہ ایک متاثرہ شخص نے حال ہی میں اٹلی کا دورہ کیا تھا اور وہاں سے واپسی کے بعد آگرہ میں ان کے خاندان کے بھی چھ افراد اس سے متاثر پائےگئے ہیں۔

بھارت میں بیشتر لوگوں کو اس وبا کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں اور ابھی تک اس سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص حکمت عملی بھی تیار نہیں کی گئی ہے۔ اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت ہرش وردھن نے کہا، " لوگوں کو آگہی دینے کے لیے حکومت تمام اقدامات کر رہی ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن لوگوں کو چاہیے کہ وہ بڑے اجتماعات سے گریز کریں۔"  

 اس دوران حکومت نے چین کی طرح ایران، اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی بھارتی ویزا نہ جاری کرنے کا حکم دیا اور تا حکم ثانی ان ممالک سے پروازوں کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے ایران سے اپنی پروازیں پہلے ہی منسوخ کر دی تھیں جس کی وجہ سے تقریبا دو سو بھارتی طلبہ ایران میں پھنسے ہوئے جن میں اکثریت کشمیری طلبہ کی ہے۔  بھارت کا کہنا ہے کہ وہ ان طلبہ کی مدد کے لیے ایک وفد ایران روانہ کرنے والا ہے۔

Indien Staatsbesuch von Donald Trump in Neu Dehli

نریندر مودی نے ہولی ملن کی تقریب میں شریک ہونے کو منسوخ کر دیا ہے

اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اس وبائی بیماری سے بچنے کے لیے ہولی کی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں لکھا، "دنیا بھر کے ماہرین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے کے اجتماعات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس لیے میں نے اس بار ہولی ملن پروگرام میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" اس سے قبل  انھوں نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم نے صورت حال کا پوری طرح سے جائزہ لیا ہے اور کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔

ادھر ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کورونا وائرس کا خوف پھیلا رہی ہے۔

DW.COM