بھارت میں آزادی رائے پر قدغن، احتجاج: ماہرین تعلیم مستعفی | حالات حاضرہ | DW | 21.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت میں آزادی رائے پر قدغن، احتجاج: ماہرین تعلیم مستعفی

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی پر سوالیہ نشان ابھرنے لگا ہے۔ مفکروں اور اساتذہ کو دانش کدوں میں کھلی علمی گفتگو کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ حال ہی میں ایک یونیورسٹی کے دو معروف ماہرین تعلیم مستعفی ہو گئے۔

بھارت کے ایک چوٹی کے دانشور اور مودی حکومت کے سخت ناقد پروفیسر پرتاپ بھانو مہتا کے بعد بھارتی حکومت کے سابق مشیر برائے اقتصادی امور اروند سبرامنیم نے بھی اشوکا یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ یونیورسٹی کے طالب علموں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار اور ان نامور دانشوروں کے مستعفی ہونے کے فیصلے کے بعد احتجاج کیا جا رہا ہے۔

بھارت کے آئینی قانون دان اور ایک نہایت معزز ماہر سیاسیات پرتاپ بھانو مہتا طویل عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ مہتا اپنی تحریروں اور تقریروں میں کھل کر اور بھرپور انداز میں مودی حکومت کی پالیسیوں کو 'لبرل ازم کی موت‘ قرار دیتے ہیں اور ان پر سخت تنقید کر تے رہے ہیں۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے افسوسناک ہیں، نریندر مودی

آکسفورڈ اور پرنسٹن جیسی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل پرتاپ بھانو مہتا پہلے ہی 2019 ء میں اشوکا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے تھے کیونکہ یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں بھی ان کی شعلہ بیانی کو خطرناک سمجھا جانے لگا تھا تاہم وہ سیاسیات کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنے علمی فرائض انجام دے رہے تھے۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی آئیوی لیگ کا درجہ رکھنے والی اشوکا یونیورسٹی کے بورڈ کو 2014 ء میں لبرل آرٹس کے مرکز کے طور پر بنایا گیا تھا تاہم اب اس کے اراکین انہیں ایک 'سیاسی بوجھ‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

Indien Pratap Bhanu Mehta

2011ء میں پرتاپ بھانو مہتا کو سابق بھارتی صدر عبدل کلام نے ’انفو سس پرائز‘ سے نوازا تھا۔

پروفیسر مہتا نے اپنے تحریری استعفے میں لکھا، ''میری عوامی تحریر، جو آزادی کی آئینی اقدار اور تمام شہریوں کے لیے یکساں احترام کی سیاست کی حمایت  کی کوشش ہے، کے لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے یونیورسٹی کو خطرات لاحق ہیں۔‘‘

روزنامہ انڈین ایکسپریس کے مطابق اشوکا کے بانیوں نے حال ہی میں مہتا سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ اب 'موجودہ سیاسی ماحول‘ میں اس کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ یونیورسٹی کے طالب علموں کے اخبار کے مطابق مہتا کے استعفے کی بورڈ نے توثیق کی تھی کیونکہ بورڈ کو علم تھا کہ اس اقدام سے یونیورسٹی کی توسیع کے لیے درکار اراضی کے حصول کی کوششیں تیز ہو جائیں گی۔

'بھارت اب جمہوری ملک نہیں رہا' راہول گاندھی

حالات میں مزید کشیدگی

بھارت کی اس مشہور یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا میں انتشار کا سبب بننے والے ان واقعات میں مزید شدت گزشتہ جمعرات کو اس وقت پیدا ہوئی جب مودی حکومت کے سابق اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم نے بھی اشوکا یونیورسٹی سے تحریری استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ پروفیسر مہتا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر مستعفی ہو رہے ہیں۔ میڈیا میں اروند سبرامنیم کے استعفے کے حوالے سے کہا گیا کہ اس میں انہوں نے لکھا ہے، ''یونیورسٹی اب علمی، تعلیمی اظہار رائے کے لیے کوئی جگہ فراہم نہیں کر سکتی۔ آزادی اظہار میں کھلے عام رخنہ ڈالا جا رہا ہے۔‘‘ ادھر اشوکا یونیورسٹی کے طلبا نے نئی دہلی سے باہر اشوکا کیمپس میں کئی روز تک مظاہرے کیے اور کلاسوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

بھارت نے آزادی کے حوالے سے امریکی رپورٹ مسترد کر دی

Indien Arvind Subramanian

بھارتی حکومت کے سابق اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم۔

یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر مہتا  کے جانے سے یونیورسٹی کی تعلیمی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کے داخلی  معاملات سے متعلق وابستگی کے بارے میں بھی بہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ کولمبیا ، ژیل اور آکسفورڈ سمیت دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں  کے 150 سے زائد ماہرین تعلیم نے ایک بیان میں کہا کہ وہ 'شدید پریشان‘ ہیں کہ مہتا نے 'سیاسی دباؤ‘ کے تحت استعفیٰ دیا ہے۔

مسلم سابق نائب بھارتی صدر کی آپ بیتی، ہندو قوم پرست چراغ پا

ان ماہرین کا کہنا تھا جب بھی کسی اسکالر کو اس کی عوامی تقریر اور آزادانہ رائے دہی پر سزا دی جاتی ہے تو 'آزادانہ انکوائری اور دانشورانہ ایمانداری کے تقاضوں اور سیاستدانوں کے مالی اعانت کاروں کی نظریاتی عداوتوں کے دباؤ کے درمیان سخت امتیاز دکھائی دینے لگتا ہے‘۔

ک م / م م (اے ایف پی)