بھارت: مہاجر مزدوروں کو مفت ٹکٹ اور کھانا مہیا کرانے کا حکم | حالات حاضرہ | DW | 28.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: مہاجر مزدوروں کو مفت ٹکٹ اور کھانا مہیا کرانے کا حکم

بھارت میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہاجر مزدوروں کو درپیش مشکلات اور مصائب کا سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ملک کے مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے مہاجر مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے فوری طور پر مناسب بند و بست کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

 عدالت عظمی نے کہا ہے کہ حکومت ایسے تمام مزدوروں کو ریل اور بسوں کا مفت ٹکٹ مہیا کرے اور سفر کے دوران ریاستیں ایسے مزدوروں کو مفت کھانا اورپانی فراہم کریں۔ سپریم کورٹ نے ملک میں مہاجر مزدوروں کو درپیش مسائل کا از خودد نوٹس لیتے ہوئے مرکز کو نوٹس جاری کیا تھا۔

عدالت نے اس ضمن میں اپنے عبوری حکمنامے میں کہا ہے کہ جس ریاست سے ریل روانہ ہو، اس ریاست کو ایسے مزدور مسافروں کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرنا ہوگا جبکہ سفر کے دوران کھانے پینے کے انتظامات کی ذمہ داری محکمہ ریل کی ہوگی۔ ایسے ہی انتظامات بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بھی کرنے ہوں گے۔  سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام تفصیلات متعلقہ محکموں کو وقت پر مہیا کرائی جائے اور اسے شائع بھی کیا جائے۔ 

بھارت میں تقریباً 14 کروڑ یومیہ مہاجر مزدورہیں جو مارچ کے اواخر میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے ہی مختلف طرح کی مشکلات سے دو چار ہیں۔ بندشوں کے سبب ان کا ذریعہ معاش چھن چکا ہے اور ایسے بے سہارا لوگ کھانے پینے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں مزدور اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے لیے بے چین ہیں تاہم نقل و حمل کے مناسب ذرائع کی عدم دستیابی کے سبب انہیں شاہراہوں پر پیدل جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سینکڑوں مزدور ہزاروں میل کا پیدل سفر طے کرکے گھر پہنچے ہیں تو بہت سے سائیکلوں، رکشہ یا پھر ٹرکوں کے ذریعہ اب بھی سفر پر ہیں۔ گزشتہ تقریبا ًایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے مزدوروں کی گھرواپسی کا سلسلہ جاری ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق تقریبا ًپانچ کروڑ مزدور اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ وطن واپسی کی کوشش میں اب تک ڈیرھ سو سے زیادہ مہاجر مزدور ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

Delhi Indien Gastarbeiter fahren zurück in die Heimat (DW/M. Raj )

حکومت نے پہلے ایسے مزدوروں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی تھی پھر ان کے لیے خصوصی ٹرینوں اور بسوں کا انتظام کیا گیا۔ لیکن یہ انتظامات بھی ناکافی ثابت ہوئے۔ بیشتر ریلوے اسٹیشنوں پر گھر جانے والوں کا ازدہام ہے۔ دوسری طرف مزدوروں کے لیے چلائی گئی  خصوصی ٹرینوں میں پانی، کھانے اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔  کئی بار یہ ٹرینیں راستے میں ’بھٹک‘ کر پانچ دن بعد منزل پر پہنچ رہی ہیں۔ شدیدگرمی میں ریل سفر کے دوران اب تک متعدد افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ ''آخر حکومت مہاجر مزدوروں کو منتقل کرنے کے لیے کتنا وقت لے گی، اور اس کی نگرانی کا نظام کیا ہوگا؟ حکومت کچھ کر تو رہی ہے۔۔۔۔ تاہم بعض پختہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔''

اس پر حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل توشار مہتانے کہا کہ ان باتوں کا اندازہ ریاستی حکومتیں ہی لگا سکتی ہیں۔ جب عدالت نے ان سے یہ سوال کیاکہ آخر ایسے کتنے مزدورشیلٹر ہومز میں ہیں۔ تو اس کا بھی ان کے پاس جواب نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے ساتھ بعض افسوس ناک واقعات ہوئے ہیں جنہیں بار بار دکھا یا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ مہاجر مزدوروں کا ایک بڑا حصہ اب بھی سڑکوں، شاہ راہوں، ریلوے اسٹیشنز اور ریاستی سرحدوں پر پھنسا ہوا ہے اور یہ بحران اب بھی برقرار ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا، '' مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو فوری طور پر مفت میں بڑی تعداد میں نقل و حمل کے ذرائع، کھانے پینے اور شیلٹرز مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔'' عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب ملکی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ ہے تو بہت سے طبقوں کو حکومت کی مدد بھی درکار ہے۔ اس کے لیے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے مہاجر مزدوروں کودرپیش مسائل کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور حکومت کو ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے اس پر یہ کہتے ہوئے کوئی بھی حکم صادر نہیں کیا تھا کہ جب مزدور خود ریل ٹریک پر سوجاتے ہیں تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:41

پیدل گھر نہ جائیں تو کیا یہاں مر جائیں؟ مہاجر مزدوروں کی دہائی

DW.COM