بھارت: متنازعہ شہریت ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش | حالات حاضرہ | DW | 09.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: متنازعہ شہریت ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے زبردست شور شرابے اور ہنگامے کے درمیان متنازعہ شہریت ترمیمی بل 2019ء آج ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں پیش کردیا۔

اپوزیشن اراکین اور وزیر داخلہ کے درمیان زوردار زبانی جنگ کے بعد بل پیش کرنے کے سلسلے میں ووٹنگ کرائی گئی۔ اس کے حق میں 293 جب کہ مخالفت میں 82 ووٹ آئے۔

امیت شاہ نے بل کو بحث کے لیے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا، ''یہ بھارت کے مسلمانوں کے بالکل بھی خلاف نہیں ہے۔" دوسری طرف ایوان میں اپوزیشن لیڈر کانگریس پارٹی کے ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ”یہ قانون ہمارے ملک کے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔" ترنمول کانگریس نے اسے ''تفریق کرنے والا اور غیرآئینی" قرا ردیا۔ امیت شاہ نے کہا کہ وہ بل پر بحث کے دوران تمام اعتراضات کا جواب دیں گے۔

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں غیر مسلموں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے اس لیے انہیں اپنے یہاں پناہ اور شہریت دینا بھارت کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور اسی لیے مودی حکومت بھارت کے موجودہ شہریت قانون 1995ء میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔

شہریت ترمیمی بل 2019ء میں 31 دسمبر 2014ء سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور مسیحی لوگوں کوشہریت دینے کی بات کہی گئی ہے لیکن مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور تنازعہ کی اصل وجہ یہی ہے۔ بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بھارتی آئین کے مطابق بھارت ایک سیکولر ملک ہے او ر یہاں مذہب کی بنیاد پر تقسیم جائز نہیں ہے۔

Indien Amit Shah Inneminister

امیت شاہ نے بل کو بحث کے لیے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا، ''یہ بھارت کے مسلمانوں کے بالکل بھی خلاف نہیں ہے۔"

پوری اپوزیشن اس بل کے خلاف ہے۔ کانگریس نے اسے پہلے ہی غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ شیوسینا نے اسے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کی کوشش قراردیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ امتیازی فیصلہ ملک میں مذہبی جنگ چھیڑنے کا کام نہیں کرے گا؟ سابق وفاقی وزیر اور کانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھرور نے بی جے پی پر اس بل کے ذریعے ایک فرقہ کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بل بابائے قوم مہاتما گاندھی کے نظریات پر بانی پاکستان محمد علی جناح کے نظریات کو تھوپنے کے مترادف ہے اور اگر بل منظور ہوگیا تو بھارت میں بھی جناح کے نظریات کی جیت ہوجائے گی۔ ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی کے رکن پارلیمان این کے رام چندرن کا کہنا تھا کہ ایوان اس بل پر بحث کرنے کی مجاز ہی نہیں ہے اس لیے بل پیش کرنا ہی غیر آئینی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے امیت شاہ کا موازنہ ہٹلر سے کردیا جس پر ایوان میں خاصہ ہنگامہ ہوا حالانکہ بعد میں ان کے بیان کو پارلیمنٹ کے ریکارڈ سے نکال دیا گیا۔

اس بل کے حوالے سے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”یہ بل غیر آئینی ہے اور دستور کے کئی دفعات سے متصادم ہے۔ یہ بل امتیاز اور تفریق پر مبنی، کثرت میں وحدت کے بھارتی تصور کے منافی اور بی جے پی کے نعرہ سب کاساتھ، سب کا وکاس(ترقی) سے متصادم ہے۔"

ڈاکٹر الیاس نے مزید کہا، ”یہ بل ہندو قوم پرست جماعتوں اور حکمران بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔ اس بل کو بی جے پی کے ووٹ بینک کی سیاست اور مسلم منافرت کو ہوا دینے کے لیے لایا گیا ہے اور اس کا ہرگز بھی مقصد انسانی ہمدردی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس بل میں پڑوسی ممالک سر ی لنکا، میانمار، تبت اور چین میں ظلم و جبر کا نشانہ بننے والے افراد کا ذکر نہیں ہے جنہیں بدترین مذہبی منافرت کا سامنا ہے۔"

ویڈیو دیکھیے 02:13

بابری مسجد کے انہدام کو ستائیس سال ہو گئے، بھارت میں مظاہرے

مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے اتحاد 'آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت‘ کے صدر نوید حامد نے کہا، ”اس بل نے بنگلہ دیش پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔ بھارت کے سب سے قریبی دوست بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کو اس بل کا سخت نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ اس بل کے ذریعے ایک طرح سے یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے۔"

نوید حامد کا مزیدکہنا تھا، ”شیخ حسینہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے پورے خطے اور بین الاقوامی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے کیوں کہ بھارت بنگلہ دیش پر اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے سنگین الزامات لگا رہا ہے۔"

لوک سبھا میں بی جے پی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے اس بل کا منظور ہونا یقینی ہے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کی اکثریت نہیں ہے لیکن اس نے امید ظاہر کی ہے کہ جس طرح تین طلاق اور دفعہ 370 کو ختم کرنے سے متعلق بل پاس ہوگئے تھے اسی طرح اس بل کو منظور کرانے میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

اس بل کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کے علاوہ دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں آج زبردست مظاہرے ہوئے۔

DW.COM