بھارت: ’لوجہاد‘ کا ثبوت نہیں مگر اس کے خلاف قانون سازی کا منصوبہ | حالات حاضرہ | DW | 20.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: ’لوجہاد‘ کا ثبوت نہیں مگر اس کے خلاف قانون سازی کا منصوبہ

بھارت کی کم از کم پانچ ریاستوں میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مبینہ ’لوجہاد‘ کے خلاف جلد از جلد سخت قانون لانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

بھارت میں گوکہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی کم از کم پانچ ریاستی حکومتوں نے مبینہ 'لوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا ہے تاہم مرکز کی مودی حکومت، قومی خواتین کمیشن، عدالتیں اور متعدد پولیس تفتیش آج تک اس دعوے کی تصدیق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی ہیں کہ مسلمان مرد 'لوجہاد‘ کر رہے ہیں اور نہ ہی حکومت 'لوجہاد‘ کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار یا اس کی واضح تعریف پیش کرسکی ہے۔

’لوجہاد‘ بھارت میں ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ایک ایسا شوشہ ہے جس کی آڑ میں اب تک درجنوں افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور ان کے خاندان والوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ ہندو شدت پسندوں کا الزام ہے کہ مسلمان مرد اپنی محبت کے دام میں غیر مسلم خواتین کو پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں جو دراصل 'لوجہاد‘ ہے۔

ہندو شدت پسند تنظیمیں مبینہ 'لوجہاد‘ کے خلاف ہمیشہ ہنگامے کرتی رہی ہیں اور بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر اس کے خلاف قانون سازی کے لیے اپنا دباؤ تیز کردیا ہے۔

پانچ ریاستی حکومتوں کا اعلان

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مدھیا پردیش، ہریانہ، کرناٹک، اترپردیش اور آسام نے مبینہ 'لوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔ ان پانچوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔

مدھیا پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے گزشتہ منگل کو اعلان کیا کہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں 'لوجہاد‘ کے حوالے سے ایک قانون پیش کیا جائے گا، جس کے تحت قصوروار پائے جانے والے کو پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور اس کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

اس سے قبل ہریانہ اور کرناٹک کی ریاستی حکومتوں نے بھی کہا تھا کہ وہ'لو جہاد‘ کے خلاف قانون متعارف کرانےجا رہی ہیں۔ کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدیورپّا نے کہا کہ وہ 'لوجہاد‘ کے نام پر جبراً تبدیلی مذہب کے سلسلے میں قانون سازی کے حوالے سے جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

کرناٹک کے وزیر داخلہ بسوا راج بومئی نے بھی کہا تھا کہ 'لوجہاد‘ ایک سماجی برائی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پورے ملک میں ایک قانون لانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت اس سلسلے میں ماہرین قانون سے صلاح و مشورے کر رہی ہے۔

ہریانہ کے وزیر داخلہ انیل وِج نے بھی ریاست میں 'لوجہاد‘ کے خلاف سخت قانون لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 1966ء میں جب ہریانہ ریاست کی تشکیل ہوئی تھی اس کے بعد سے آج تک مذہب تبدیل کر کے شادی کروانے یا شادی کے بعد مذہب تبدیل کرانے کے تمام کیسز کی جانچ کرائی جائے گی۔

اقلیتوں کے خلاف اپنے شدت پسندانہ خیالات اور نظریات کے لیے مشہور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ پہلے وزیر اعلی ہیں، جنہوں نے 'لو جہاد‘ کے خلاف قانون سازی کی بات کی تھی۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

یوگی ادیتیہ ناتھ نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”سرکار فیصلہ کر رہی ہے کہ ہم لوجہاد کو سختی سے روکنے کا کام کریں گے۔ ایک موثر قانون بنائیں گے، شناخت مخفی رکھ کر، چوری چھپے، نام چھپا کر، مذہب چھپا کر جو لوگ بہن، بیٹیوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں، ان کو پہلے سے میں خبردار کرتا ہوں۔ اگر وہ سدھرے نہیں تو 'رام نام ستیہ ہے‘ کی یاترا اب نکلنے والی ہے۔"  خیال رہے کہ ہندو 'رام نام ستیہ ہے‘ کی جاپ کسی کی ارتھی لے جاتے وقت کرتے ہیں۔

Indien Muslimische Hochzeit

حکومت 'لوجہاد‘ کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار یا اس کی واضح تعریف پیش کرسکی ہے۔

’لوجہاد‘ کا ہمیں کچھ علم نہیں

اس سا ل کے اوائل میں مودی حکومت نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ کسی بھی مرکزی ایجنسی نے 'لوجہاد‘ کے حوالے سے ایک بھی کیس اب تک درج نہیں کیا ہے اور یہ اصطلاح کسی موجودہ قانون میں موجود ہی نہیں ہے۔

نائب مرکزی وزیر داخلہ نے اس حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمان کو بتایا تھا کہ بھارتی آئین کی دفعہ 25 کے تحت ہر شخص کو کسی بھی مذہب پر عمل کرنے اور اس کی ترویج کی اجازت ہے اور مختلف عدالتوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ 'لوجہاد‘ کا ذکر کسی قانون میں موجود نہیں ہے۔

قومی خواتین کمیشن بھی لاعلم

قومی خواتین کمیشن نے بھی حق اطلاعات قانون کے تحت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس کے پاس 'لوجہاد‘ کے کیسز کے سلسلے میں کوئی اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند روز قبل ہی قومی خواتین کمیشن کی چیئرمین ریکھا شرما نے مہاراشٹر کے گورنر کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ریاست میں 'لوجہاد‘ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے اس بیان کی سخت نکتہ چینی ہوئی تھی اور بعض سیاسی جماعتوں نے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا۔

... تاکہ خواتین اپنی پسند کی شادی نہ کرسکیں

سماجی کارکن اور سینٹر فار سوشل ریسرچ کی سربراہ رنجنا کماری کا کہنا ہے کہ ”ہندو توا گروپوں کے ساتھ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ محبت کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو لو(محبت) کے ساتھ لفظ 'جہاد‘ جوڑ کر بین مذاہب شادیوں میں یقین رکھنے والوں کے خلاف خود 'جہاد‘ میں مصروف ہیں۔ یہ خواتین کو اپنی پسند کے مطابق شادی کرنے سے روکنے کا ایک اور طریقہ ہے۔"  ان کا مزید کہنا تھا کہ قدامت پسند ذہنیت رکھنے والے ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ہم مذہب یا ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان شادی ہی کامیاب ہوسکتی ہے، حالانکہ یہ خیال نہ صرف غلط ہے بلکہ زمینی سطح پر اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

رنجنا کماری، جنہوں نے بین مذاہب متعددجوڑوں کی شادیاں کروانے میں مدد کی ہے، کا کہنا ہے کہ ”نوجوان عورتیں، خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، شادی کے بعد بھی اپنے اپنے مذاہب پر عمل پیرا ہیں اور انہیں کسی طر ح کی کوئی پریشانی درپیش نہیں ہے۔"

ڈاکٹر رنجنا کماری کہتی ہیں ہے کہ بی جے پی کے بعض چوٹی کے مسلم رہنما بشمول مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اور سابق مرکزی وزیر سید شہنواز حسین نے بی جے پی کے اعلی ہندو رہنماؤں کی بیٹیوں سے شادیاں کی ہیں لیکن کیا بی جے پی یا اس کی ذیلی تنظیموں بشمول وشو ہندو پریشد کے اندر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت ہے؟"

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 'لوجہاد‘ کے نام پر دراصل ہندو قوم پرست اور شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی سیاسی صف بندی کرنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بااثر ہندو۔ مسلم جوڑے کو کبھی نشانہ نہیں بناتی ہیں بلکہ وہ صرف کمزور جوڑوں کو اپنا آسان شکار سمجھتی ہیں۔

 

DW.COM