بھارت: صحافیوں پر ٹوٹنے والی ’خاموش قیامت‘ | دستک | DW | 18.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

بھارت: صحافیوں پر ٹوٹنے والی ’خاموش قیامت‘

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے قلب میں پریس کلب آف انڈیا اور پارلیمنٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر ایک میڈیا سینٹر ہے، جہاں سے اکثر رپورٹر اپنی اسٹوریز فائل کرتے ہیں۔ اب اس سینٹر میں داخل ہوتے ہی ایک جھٹکا سا لگتا ہے۔

آسام ٹریبیون کے دہلی کے بیورو چیف کلیان بروا، سینئیر صحافی شیش نرائن سنگھ کے علاوہ کئی اور ساتھیوں کی سیٹیں خالی ہیں۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر جہاں پورے بھارت پر اس وقت قہر ڈھا رہی ہے، صحافیوں کے لیے یہ کچھ زیادہ ہی ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف پرسیپشن اسٹیڈیز کے مطابق اپریل سے ابھی تک 152جرنلسٹ کورونا وائرس کا شکا ر ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر پچھلے ایک سال کے دوران 291 جرنلسٹ داغ مفارقت دے چکے ہیں۔ کسی بھی صحافی کے لئے سب سے زیادہ دردناک صورتحال یہ ہے کہ دنیا کو اسٹوریز سنانے والا خود ہی اسٹوری بن جائے۔
ساتھیوں کے اس طرح پچھڑنے کی وجہ سے میرا اعتماد بھی متزلزل ہو گیا ہے۔ میں خاصی پرامید رہ کر مشکل حالات کا شدت سے مقابلہ کر کے یہی سوچتی ہوں کہ اگر اچھا وقت گزر گیا تو برا بھی ہمیشہ نہیں رہے گا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ برے دن ختم ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں۔

 ہر روز کئی ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیں اور صورتحال پر نگاہ رکھنے والے ماہرین بھی اب یہ مان رہے ہیں کہ اس وبا کا خاتمہ جلد نہیں ہونے والا۔ اس دوران جتنے ساتھی میں نے کھوئے ہیں، ان میں سے چند ایک تو مجھ سے بھی کم عمر تھے۔ صرف اپریل کے مہینے میں ملک بھر میں 98 صحافی اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے۔ مئی میں ابھی تک یہ تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی ہر روز اوسطاً تین صحافیوں کی موت ہو رہی ہے۔

 ملک کے ہر خطے سے دل سوز داستانیں سامنے لانے والے صحافی اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ کسی جنگ کو کور کرتے ہوئے بھی کبھی اتنی بڑی تعداد میں صحافی مار ے نہیں گئے ہیں۔ حکومت ایک غیر تحریری پالیسی کے طور پر کورونا کی رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اگر حکومت کے بس میں ہوتا تو وہ سبھی صحافیوں کو گھر پر بٹھا کر ان کو سرکاری پریس ریلیز ہی شائع کرنے کا فرمان جاری کرتی۔

 تاہم یہ ان بہادر ساتھیوں کا کمال ہے، جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ملک کے اطراف سے کورونا سے ہوئی تباہی اور حکومت کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ پلاننگ کو دنیا کے سامنے لانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی تگ و دو سے روتے بلکتے لوگوں کی کہانیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ہسپتالوں اور قبرستانوں میں جانے کا خطرہ اٹھایا، جہاں متاثرہ افراد کے اہل خانہ بھی جانے سے ڈَر رہے تھے۔
اتنی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ سے حال ہی میں اب ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس اور سکیورٹی فورسز کی طرح، حکومت نے صحافیوں کو بھی فرنٹ لائن ورکرز کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ بتایا گیا کہ ان کو ترجیحی بنیاد پر ٹیکہ فراہم کیا جائے گا۔ مگر جب پورے ملک میں ہی ویکسین کی شدید قلت ہے اور بہت سارے افراد جو اپنی پہلی خوراک لینے کے بعد دوسری خوراک لینے کا انتظار کر رہے ہیں، یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ سبھی صحافیوں کو ویکسین مل پائے گی۔
سینئر صحافی شیش نارائن سنگھ سے میری ملاقات اکثر پریس کلب یا میڈیا سینٹر میں ہوتی رہتی تھی۔ سن 2015 کے دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کا جب اعلان ہو رہا تھا، تو ہم دونوں ایک ٹی وی شو کے مباحثے کا حصہ تھے۔ وہ ایک تجربہ کار ٹی وی پینلسٹ تھے اور میرے لئے شاید یہ دوسرا یا تیسرا موقع تھا جب میں ٹی وی پر بحث میں حصہ لے رہی تھی۔ حالانکہ میں نے اپنا ہوم ورک اچھی طرح سے کیا ہوا تھا، مگر پھر بھی گھبر ائی ہوئی تھی۔

شاید انہوں نے میری گھبراہٹ کو سمجھ لیا اور کہا، ''فکر مت کرو، تھوڑا بہت ہوم ورک کرا ہے نا؟‘‘ جب میں نے سر ہلا کر ہاں بولا، تو انہوں نے کہا، ''بس میرے بغل میں بیٹھ جاو، میں سنبھال لوں گا۔" اسی طرح سے کلیان بروا سے صوبہ آسام کی ایک دوست نے میرا تعارف کرایا تھا۔ وہ پارلیمنٹ میں لوک سبھا کی گیلری کے پاس ہماری لیموں کی چائے سے تواضع کرتے تھے اور ہم اشتیاق کے ساتھ ان سے سینٹرل ہال کی گپ شپ سنتے تھے۔ بطور سینئیر صحافی ان کی سینٹرل ہال تک رسائی تھی۔ پچھلے مہینے صوبہ اتر پردیش کے ایک سینئیر صحافی، ونئے سریواستو ٹویٹر پر اپنی زندگی کی بھیک مانگ کر مدد کی دہائی دے رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے دم توڑ دیا۔
یہ اموات ہمیں اس ملک کے امور کی قابل رحم صورتحال چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں۔ صحافیوں کے تو زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور حکومت میں اعلیٰ سطح پر روابط ہوتے ہیں۔ اگر ان پر ایسی افتاد آن پڑی ہے اور ان کو ایمبولینس، ہسپتال میں بیڈ، اور آکسیجن سیلینڈر و دیگر ضروریات کے لئے ایسی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا؟
اترپردیش میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس مسئلہ کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر رہے ہیں۔ صوبے میں اب تک 35 صحافی کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ مہاراشٹرا، دہلی، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور تلنگانہ میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ یہاں بھی اموات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دہلی جیسا شہر، جہاں بہتر طبی سہولیات مہیا ہیں، ابھی تک 32 صحافی کورونا کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھی 34 اموات ہوئیں ہیں۔
مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کے برعکس، بھارت میں صحافت ایک ایک منظم شعبہ نہیں ہے۔ میڈیا کمپنیاں بڑے کاروباری
گھرا نوں اور کارپوریٹس کی ملکیت ہیں۔ صحافیوں کو لاحق ڈیوٹی کے دوران خطرات کا وہ ذمہ نہیں لیتے ہیں۔ علاقائی میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ اوسطاﹰ ایک صحافی کی موت سے پانچ افراد کا ایک خاندان متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال میڈیا اور آزادانہ رپورٹنگ کے لئے خاصی خطرناک ہے۔

بھارت میں صحافی اس وقت نہ صرف اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے بلکہ ملک کی اصل تصویر دکھا کر حکمرانوں کو آئینہ اور دنیا کو بھارت کے بے کس و بے بس عوام کی مدد کے لئے بھی آمادہ کر رہا ہے۔ مگر کب تک؟

میڈیا سینٹر میں کلیان بروا کی سیٹ میرا منہ چڑا رہی ہے، جو نہ صرف خود کورونا کا شکار ہو گئے بلکہ ان کی اہلیہ، جو خود بھی ایک صحافی تھیں، ملک عدم کو روانہ ہو چکی ہیں۔