بھارت، داعش سے نمٹنے کی حکومتی حکمت عملی پر شکوک وشبہات | حالات حاضرہ | DW | 03.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت، داعش سے نمٹنے کی حکومتی حکمت عملی پر شکوک وشبہات

بھارت میں داعش کے ممکنہ بڑھتے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مسلم رہنماوں کے ایک وفد سے ملاقات اور تعاون کی اپیل کی ہے تاہم متعدد اہم مسلم جماعتوں نے حکومت کی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

داعش سے مبینہ تعلق کے الزام میں ملک بھرمیں متعدد مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے پس منظر میں بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی مسلم مذہبی اور سماجی رہنماوں کے ساتھ اپنی نوعیت کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ اب تک ایک درجن سے زائد مسلم نوجوانوں کو داعش کے ساتھ مبینہ قربت کے الزام میں گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ وزیر داخلہ کی اس ملاقات کو مسلمانوں میں اس حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم کئی اہم مسلم رہنماوں نے حکومت کی نیت پر ہی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

میٹنگ کے بعد وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے مسلم رہنماوں سے نوجوانوں کو داعش کے جھانسے میں آنے سے روکنے میں تعاون کرنے کی اپیل کی، جس پر مسلم رہنماوں نے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ بھارت کے مسلم نوجوان اسلام کے نام پر داعش یا کسی بھی انتہاپسند تنظیم کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔ مسلم رہنماوں نے دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت بھی کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ راج ناتھ سنگھ نے مسلم رہنماوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت کی سماجی اور مذہبی قدروں کی وجہ سے دہشت گرد اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں جب کہ دیگر ملکوں کے مقابلے میں بھارت میں داعش کے نظریات کے اثرات بہت معمولی بلکہ ناقابل قبول ہیں۔

اس دوران کئی مسلم جماعتوں اور رہنماوں نے حکومت کی اس پہل پر سوالات اٹھائے ہیں اور اس کی نیت پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ حکومت کے ساتھ ’ورکنگ ریلیشن‘ ہونا چاہیے لیکن اس ملاقات کا جس طرح اہتمام کیا گیا وہ افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے اہم مسئلے میں مسلمانوں کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنی چاہیے تھی اور چونکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کا علم سب کو ہے اس لیے راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد یہ تاثر گیا ہے کہ مسلمان راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ہیں اور مودی سے ملاقات کرنا نہیں چاہتے۔

مذکورہ میٹنگ میں مسلم مجلس مشاورت کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ نوید حامد نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کئی بار اس حقیقت کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بھارت میں داعش کا کوئی وجود نہیں اور بھارتی مسلمان کبھی بھی آئی ایس کے جال میں نہیں پھنسیں گے، اس کے باوجود اس طرح کی میٹنگ کا کیا مطلب ہے؟

بھارت کی سب سے قدیم مذہبی جماعت مرکزی جمعیت اہل حدیث کے جنرل سکریٹری مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوانوں کی جس اندھا دھند طریقے سے پکڑ ہو رہی ہے اس سے ہر مسلم تنظیم فکر مند ہے اور یہ پورے سماج کے لیے لمحۂ فکریہ بنا ہوا ہے لیکن وزیر داخلہ کے ساتھ اس معاملے پر ملاقات میں کسی بھی اہم مسلم تنظیم کی غیر موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

اس وفد میں جمعیت علماء ہند کو چھوڑ کرکسی بڑی تنظیم کا نمائندہ موجود نہیں تھا جب کہ جمعیت اہل حدیث دہشت گردی کے خلاف ایک عرصے سے آواز بلند کرتی رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلے فتوی اسی نے دیا تھا۔ میٹنگ میں شریک جمیعت علماء ہند کے سکریٹری ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے تاہم اس میٹنگ کو ایک بہتر آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کے دوران یہ محسوس ہوا کہ حکومت ملک کے مسلمانوں سے خود کو کافی دور محسوس کر رہی ہے اور ان سے رابطہ کے لیے بے چین ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 2014ء میں قوم پرست ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے پارٹی لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے جب کہ مسلمانوں اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔

Indien Treffen Innenminister mit muslimischen Geistlichen - Strategie gegen IS

کئی اہم مسلم رہنماوں نے حکومت کی نیت پر ہی سوالات اٹھا دیے ہیں

دریں اثنا انٹلی جنس ایجنسیوں کے مطابق اب تک کم از کم 23 بھارتی نوجوانوں نے آئی ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان میں سے چھ مبینہ طور پر عراق اور شام میں مختلف واقعات میں مارے جا چکے ہیں۔ انٹلی جنس ایجنسیاں تقریبا 150بھارتی شہریوں پر آئی ایس کے ساتھ مبینہ تعلق رکھنے کے سلسلے میں نگرانی کر رہی ہیں۔

وزیر داخلہ نے دو ہفتہ قبل مرکزی انٹلی جنس ایجنسیوں اور تفتیشی ایجنسیوں نیز تیرہ ریاستوں کے اعلی پولیس حکام کے ساتھ میٹنگ کی تھی اور سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے نوجوانوں پر داعش کے بڑھتے ہوئے اثرات پر قابو پانے کے طریقہ کاراور بعض نوجوانوں کے آئی ایس کی طرف مائل ہونے سے پیدا صورت حال کا جائزہ لیا تھا ۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی مسلم مذہبی اور سماجی رہنماوں کے ساتھ اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال، انٹلی جنس بیورو کے سربراہ دنیشور شرما، وزارت داخلہ کے اعلی افسران اور دیگر اعلی سکیورٹی حکام بھی موجود تھے۔

اشتہار