بھارت: خودکشی معاملے میں صحافی ارنب گوسوامی کی گرفتاری | معاشرہ | DW | 04.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بھارت: خودکشی معاملے میں صحافی ارنب گوسوامی کی گرفتاری

بھارت میں متعدد وفاقی وزراء نے صحافی ارنب گوسوامی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ صحافیوں کی انجمن نے بھی اسے غلط بتایا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ صحافیوں سے متعلق حکومت کو دوہرے معیار کے بجائے یکساں موقف کا مظاہرہ کرناچاہیے۔

بھارتی ریاست مہاراشٹر کی پولیس نے خودکشی پر آمادہ کرنے کے ایک کیس کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے خودپسند صحافی ارنب گوسوامی کو حرا ست میں لیا ہے۔ ان کے خلاف یہ کیس 2018 میں درج کیا گیا تھا۔ رائے گڑھ علاقے کے سینیئر پولیس افسر سنجے موہیتے کا کہنا تھا، ''ارنب گوسوامی کو رائے گڑھ لے جایا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام ان سے پوچھ گچھ کریں گے اور پھر اسی جانچ کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائیگا۔''

ارنب گوسوامی کا الزام ہے کہ حراست میں لینے کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔ ارنب گوسوامی بی جی پی کی حکومت کے حامی اور دائیں بازو کے نظریات کو فروغ دینے والے متنازعہ چینل 'ریپبلک ٹی وی' کے ایڈیٹر ہیں۔ سن 2018 میں ایک خاتون آرکیٹکٹ نے ریپبلک ٹی وی پر پیسے نہ ادا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق خاتون اور اس کی ماں نے خودکشی کر لی تھی اور اپنے نوٹ میں موت کے لیے ارنب گوسوامی پر الزام عائد کیا تھا۔

خودکشی کرنے والی خاتون کے اہل خانہ نے اس کی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا اوراسی وجہ سے اس کیس میں پوچھ گچھ کے لیے ارنب گوسوامی کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مودی حکومت کے بیشتر سینیئر وزراء نے ارنب گوسوامی کے ساتھ اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایمرجنسی کے دور سے تعبیر کیا ہے۔

 بھارت میں صحافیوں کی انجمن ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا ارنب گوسوامی کی صحافت اور ان کے جانبدارانہ رویے پر اکثر سوال اٹھاتی رہی ہے تاہم اس نے بھی ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ادارے کے جنرل سکریٹری سنجے کپور کا کہنا تھا کہ ''حکومتیں کسی نہ کسی بہانے مدیروں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں جو قابل مذمت ہے اور اسی وجہ سے ہم نے ارنب گوسوامی کا بھی دفاع کیا ہے۔''

صحافیوں سے متعلق حکومت کا رویہ یکساں ہونا چاہیے

ڈی ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں سنجے کپور نے کہا کہ ارنب گوسوامی جس طرح کی جانبدارانہ صحافت کرتے ہیں وہ ہرگز پسندیدہ نہیں تاہم ان کے خلاف اس طرح کی کارروائی بھی درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں تو بعض مرکزی وزراء کی جانب سے اتنا سخت رد عمل سامنے آیا جبکہ حالیہ دنوں میں فضول الزامات کے تحت درجنوں صحافیوں کی گرفتاریاں ہوئیں اور انہیں جیلوں میں رکھا گیا لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ''اس معاملے میں حکومت کا رد عمل میں یکساں نہیں ہے۔''

انہوں نے کہا، ''آج وزیر داخلہ امیت شاہ، اسمرتی ایرانی اور دیگر تمام وزراء نے پریس کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ جب بھی، کہیں بھی، کسی صحافی کے ساتھ ظلم ہو تو اسے اسی طرح کے بیانات دینے چاہئيں۔ صرف انہیں لوگوں کا دفاع نہیں کرنا چاہیے جو آپ کے قریب ہوں  یا آپ ان سے اتفاق رکھتے ہیں۔ اس سے متعلق قانون اور نظریہ یکساں ہونا چاہیے، یہ نہیں کے ایک کے ساتھ زیادتی ہو تو آپ اس کی مدد کریں اور باقی سے آپ کا کوئی مطلب ہی نہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''اگر حکومت میڈیا کی آزادی کے تئیں سنجیدہ ہے اور وہ یہ کہتی ہے کہ اس سے سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے،  تو جہاں کہیں بھی صحافی کے ساتھ زیادتی ہو حکومت کو اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ اس پر حکومت کے رد عمل میں یکسانیت ہونی چاہیے۔''

ویڈیو دیکھیے 04:44

’بھارت کے زیر انتظام کشمیر ميں صحافت مشکل ترين کام ہے‘

اس سے پہلے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ارنب گوسوامی کی گرفتاری کو پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ میڈیا کی آزادی میں یقین رکھتے ہیں انہیں اس پر آواز اٹھانی چاہیے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس کے لیے مہاراشٹر میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں ایمرجنسی کا دور یاد آگیا۔ مودی حکومت کے بہت سے دیگر وزاراء نے بھی اسی طرح کے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے بھی ارنب گوسوامی کی گرفتاری کی مخالفت کی۔

بھارت میں مودی کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی میڈیا اور صحافیوں پر قدغن لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم 'رائٹس اینڈ رسک انالیسس گروپ' کے مطابق اس برس مارچ سے مئی کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں 55 صحافیوں کے خلاف کیسز درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ مقدمات بی جے پی کے اقتدار والی ریاست اترپردیش کے صحافیوں کے خلاف درج ہوئے جہاں گیارہ صحافی جیل بھیجے گئے۔ دوسرے نمبر پر جموں و کشمیر ہے جہاں صحافیوں کو آئے دن ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ حراست میں لیے جانے والے ایسے صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے اثاثوں کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

لیکن ان تمام واقعات پر مودی کی مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ہے۔ اسی ہفتے مودی حکومت نے کشمیر کے معروف اخبار 'کشمیر ٹائمز' کے سرینگر کے دفتر کو تالا لگا دیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اس کے خلاف یہ انتقامی کارروائی کی گئی۔

بھارت میں بعض سیاسی تجزیہ کار اسے غیر اعلانیہ ایمرجنسی قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت اپنے خلاف کوئی بھی رپورٹ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو اپنے ایڈیٹروں کو صرف اس لیے نکالنا پڑا کیوں کہ ان کے اداریوں سے حکومت پریشانی محسوس کررہی تھی۔

 یورپ کے دو بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک مشترکہ مکتوب بھیج کر فوری طور پر ایسے اقدمات کرنے کی اپیل کی ہے جس سے بھارت میں موجود صحافی بلا خوف و ہراس اپنا کام ایمانداری سے انجام دے سکیں۔ یہ مکتوب آسٹریا میں موجود عالمی میڈیا ادارے 'انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ' اور بیلجیئم کے 'انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ' نے لکھا تھا۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں درجنوں صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، خاص طور پر انتہائی سخت اور سیاہ قانون کے تحت بغاوت جیسے مقدمات ان کے کام کی وجہ سے دائر کیے گئے ہیں۔ مشترکہ خط میں وزیر اعظم مودی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ریاستوں کو اس طرح کے بے جا مقدمات واپس لینے کی ہدایت کریں۔

ویڈیو دیکھیے 05:30

میڈیا پر بڑھتا کنٹرول

DW.COM