1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: حکومتی بجٹ اور خاتون خانہ

24 فروری 2021

بھارت میں پارلیمنٹ کا اجلاس ویسے تو سال میں تین بار ہوتا ہے، مگر فروری اور مارچ میں ہونے والا بجٹ اجلاس ہی خواص و عام کی دلچسپی کا محور ہوتا ہے۔ روہنی سنگھ کا بلاگ

https://p.dw.com/p/3pn0O
روہنی سنگھ
تصویر: Privat

بھارت میں پارلیمنٹ کا اجلاس ویسے تو سال میں تین بار ہوتا ہے، مگر فروری اور مارچ میں ہونے والا بجٹ اجلاس ہی خواص و عام کی دلچسپی کا محور ہوتا ہے۔ جس دن وزیر خزانہ نیا سوٹ زیب تن کیے، ہاتھ میں چمڑے کا بریف کیس تھامے لوک سبھا میں اپنی نشت سنبھال کر نیا سالانہ بجٹ پیش کرنے والے ہوتے ہیں، لگتا ہے کہ جیسے سانسیں تھم گئی ہوں۔ گو اس سال موجودہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بریف کیس کے بجائے ٹیب لیکر لوک سبھا میں پہنچیں۔ پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا یہ واحد مجوزہ قانون ہوتا ہے کہ جو عوام کو جلد اور براہ راست متاثر کرتا ہے۔ گو بجٹ میں پیش کیے جانے والی دیگر امور اپریل یعنی مالی سال کے شروع ہونے کے ساتھ لاگو ہوتے ہیں، مگر ٹیکس وغیر ہ کا اطلاق وزیر خزانہ کی تقریر کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔
چونکہ اس بجٹ کا گھر کے اخراجات سے بھی تعلق ہوتا ہے، اس لیے مجھے بچپن کا وہ وقت یاد آتا ہے جب گھر کے سبھی بڑے ریڈیو آن کر کے وزیر خزانہ کی تقریر کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ چند سال قبل تک بجٹ فروری کے آخری دن پیش کیا جاتا تھا، اس لیے دسمبر سے ہی گھر کے بڑے سبھی بڑی خریداریوں، جیسے گاڑی یا زمین، جائیداد خریدنا اور اسی طرح کی دیگر سرمایہ کاریوں پر ایک طرح سے پابندی عائد کرتے تھے۔ لیکن میری والدہ اور دادی کی دلچسپی کا مرکز گیس، سبزی اور کھانے پینے کی چیزوں کے دام ہوتے تھے۔ وہ کان لگا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتی تھیں کہ ان کے کچن کے بجٹ پر کیا اثر پڑنے والا ہے۔ گھر کی لڑکیاں اور بہوئیں میک اپ کے سامان، خوشبودار عطر وغیرہ کی نئی قیمتیں جاننے کے لیے وزیر خزانہ کی تقریر اور بجٹ سے متعلق سوالات کرتی تھیں۔ مگر تقریرختم ہونے کے بعد وزیر خزانہ کو اکثر خواتین کی صلواتیں ہی بدلے میں ملتی تھیں۔ کیونکہ ملکی بجٹ کو وہ درست کرتے ہوں یا نہیں، خاتون خانہ کا بجٹ وہ عموماً بگاڑ ہی دیتے تھے۔ میری فیملی ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھی۔ اسی لیے بجٹ میں گاڑیوں کی خریداری، بیمہ کی رقم اور ایندھن کی قیمتوں پران کی خاصی دلچسپی رہتی تھی۔ وزیر خزانہ کے بجٹ تقریر کے ایک دن بعد، اخبار کے پہلے صفحے میں بھی ان تمام چیزوں کی فہرست موجود ہوتی تھی جو سستی ہونے والی ہوتی تھیں اور جو جیبوں میں سوراخ کرنے والی ہوتی تھیں۔

روہنی سنگھ کی دیگر تحریریں

بھارتی یوم جمہوریہ اور آئین کی روح پر بڑھتے حملے

'اردو ہے جس کا نام‘ کیسے سیکھی میں نے زبان

لوٹا دو نیلا گگن، پکار دہلی والوں کی
جب میں نے جرنلزم میں کیریئر شروع کیا، تو ہم وزیر خزانہ کے اہل خانہ کے بجٹ کے بارے میں تاثرات کو مرتب کرتے تھے، وہ بھی دیگر خاتون خانہ کی طرح منفی ہی ہوتے تھے۔ 1991سے 1995 تک جب من موہن سنگھ نے بطور وزیر خزانہ اقتصادی اصلاحات پیش کیں، ملک کو نجی سیکٹر کے لیے کھولا، مگر اسی کے ساتھ انہوں نے کئی چیزوں پر سبسڈی بھی کم کردی، تو ظا ہر ہے کہ گھریلو بجٹ متاثر تو ہونے والا ہی تھا۔ بجٹ کے بعد تو صحافی ان کے گھر پر ڈیرہ ڈال کر ان کی اہلیہ گورشرن کور کے تاثرات ضرور لیتے تھے۔ وہ بھی گیس اور کچن کے سامان کی قیمتوں میں اضافہ پر ناراض ہوتی تھی۔ پی چدمبرم جب بجٹ پیش کرتے تھے، تو ان کے فرزند کارتی چدمبرم اور بہو سرندی رانگا راجن اسپیکر گیلری میں موجود ہوتے تھے۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد تو ہم ان کو ضرور گھیرتے تھے۔ سابق صدر پرناب مکرجی نے بھی بطور وزیر خزانہ کئی بار بجٹ پیش کیا۔ ان کی اہلیہ کسی بھی تقریب میں نہیں آتی تھی۔ وہ مشکل سے ہی صحافیوں کے ساتھ گفت و شنید کرتی تھی۔
مگر اب کچھ عرصہ سے سالانہ بجٹ کی انفرادیت اور اہمیت بہت حد تک کم ہوگئی ہے۔ چونکہ تیل و انرجی کی قیمتوں کو عالمی منڈیوں کے نرخ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، اسی لیے کچن کی سب سے اہم ضرورت گیس کے دام بھی سال بھر بڑھ کر خاتون خانہ کے بجٹ کو تہہ و بالا کرتے رہتے ہیں۔ اس سال دو فروری کو جب وزیر خزانہ لوک سبھا میں بجٹ پیش کر رہی تھی، تو میں اپنے بیٹے کے ساتھ پارک میں واک کر رہی تھی۔ چند دیگر خواتین بھی اپنے بچوں کے ساتھ پارک میں موجود تھیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان میں سے چند خواتین کی نوکریاں چلی گئی تھیں۔ پارک کے بینچوں پر بجٹ پر گفتگو شروع ہوئی۔ تو کوکنگ گیس کی قیمتیں زیر بحث آگئیں۔ پچھلے دو ماہ کے دوران ہی گیس کی قیمتوں میں 175 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ہر ضروری سامان کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے بجٹ کی اب کوئی افادیت ہی نہیں رہی ہے۔
ان میں چند باخبر خواتین کا کہنا تھا کہ اگر تیل یا انرجی کی قیمتوں کو عالمی منڈیوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، تو جب ان کے دام دنیا میں کم ہوتے ہیں، تو اس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچنا چاہیے۔ جوں ہی عالمی منڈی میں دام کم ہوتے ہیں، حکومت ٹیکس لگاتی ہے۔ اور جب دام زیادہ ہوتے ہیں، تو اسکا بوجھ صارفین پر ڈال دیتی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ 2014میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تھی، جو 2021میں گھٹ کر 54 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ پہلے جب اس کی قیمتیں سرکاری کنٹرول میں ہوتی تھیں، تو بجٹ میں اس کی قیمتوں میں کمی و بیشی کی جاتی تھی۔ کئی سال قبل جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، توان کو بجٹ سے نکال کر عالمی قیمتوں کے ساتھ نتھی کیاگیا۔ مگر جب قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئیں، تو پالیسی کو تبدیل تو نہیں کیا گیا، مگر اس پر ٹیکس لگا کر صارفین کے لیے قیمتیں کم نہیں ہونے دی گئیں۔
ایک اندازے کے مطابق پچھلے چھ سالوں کے دوران حکومت نے اس طرح دو ٹریلین یعنی دو ہزار بلین روپے کی رقوم ایندھن پر ٹیکس کے نام پر اکھٹی کیں ہیں۔ پارک میں موجود ہر خاتون اپنے گھر کے بجٹ کے بارے میں حیران و پریشان تھی۔کووڈ وبائی مرض کے بعد یہ پہلا بجٹ تھا، جب 11 ملین افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مگر ان کو دوبارہ برسر روزگار کرنے کا بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ ماضی میں، جب بھی حکومتیں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتی تھی، اس سے چند گھنٹے قبل ایندھن اسٹیشنوں کے باہر قطار یں کھڑی ہو جاتی تھیں۔ کچن کے علاوہ ہر طرح کے مال کی نقل و حمل کے لیے ایندھن اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا اگر ایندھن کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران، میرے ایک دوست کی ملازمت چھن گئی۔ اس کا شوہر جو سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے، اب آدھی سے بھی کم تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ ان کے دو بچے نجی کالجوں میں پڑھتے ہیں۔ اس خاندان کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میں نے جب بجٹ پر ان کی رائے مانگی، تو انہوں نے طنزاً کہا، ''ہمار ے ا خراجات میں پچھلے آٹھ مہینوں سے خریداری کرنے یا ہوٹل سے کھانے کا آرڈر دینے کی گنجائش ہی نہیں ہے اور مستقبل قریب میں بھی بہتر امکانات کی امید کے بغیر، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک ہی وقت کے کھانے پر گزارہ کرنا پڑے گا۔‘‘ یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ کاش حکومت بجٹ کے تانے بانے بنتے وقت ایسے ہی لاکھوں خاندانوں کی آوازوں پر بھی کان دھرتی۔
بھارتی خواتین کی زندگی کا ایک ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اپنے شوہروں سے چھپا چھپا کر وہ گھر چلانے اور ایمرجنسی کے لیے
تھوڑے تھوڑے پیسے پس انداز کرتی رہتی ہیں۔ یہ فن ان کو بخوبی آتا ہے۔ ہر گھر میں خاتون خانہ باورچی خانے کے کسی ڈبے میں یاکسی ایسی الماری میں اپنے کپڑوں کی تہوں میں، جہاں شوہر کی یا گھر کے دیگر افراد کی رسائی نہ ہو، خفیہ بچت بینک رکھتی ہیں۔ 2016 میں ہونے والی نوٹ بندی نے ان گھریلو خفیہ بینکوں کو طشت از بام کردیا، جب خواتین کو تبادلہ کرنے کے لیے یہ کرنسی نکالنا پڑی۔ دیگر مردوں کی طرح میرے شوہر بھی ہمارے گھر میں موجود اس خفیہ بینک سے بے خبر تھے۔ معیشت کی خستہ حالی میں آج یہ بینک بہت کام آجاتے، مگر ان کا بیڑا پہلے ہی غرق کر دیا گیا تھا۔
بھارت میں آجکل ایک مستحکم اور مضبوط حکومت موجود تو ہے، مگر معیشت مستحکم ہے نہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سابق چیف اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم اور ماہر معاشیات جوش فیلمین نے حال ہی میں ایک تحقیق میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی مضبوط معیشت کا مستحکم حکومت کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ بیشتر بڑی اقتصادی اصلاحات مخلوط حکومتوں کے دور میں ہی ہوئی ہیں۔ موجودہ زمانے میں کانگریس کی قیادت میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کا پہلا دور یعنی 2004 سے 2008 تک بھارتی معیشت کا سنہری دور تھا، بھلے ان کی حکومت بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی تھی۔ مگر 2008 کے بعد دوسری مدت کے لیے جب ان کو بھرپور مینڈیٹ مل گیا، اقتصادی صورت حال بھی خستہ ہوتی چلی گئی۔ اس مندی کا رجحان 2014 کے بعد مودی سرکار کے دوران بھی جاری رہا۔
پہلے نوٹ بندی، پھر نئی ٹیکس حکمت عملی کا اطلاق اور پھر کورونا وائرس کی وباء اور ایندھن کے قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھی ہے۔ نرملا سیتا رمن کا یہ بجٹ متوسط طبقہ اور خاتون خانہ کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے افسردگی ہی لے کر آگیا۔

Rohinee Singh - DW Urdu Bloggerin
روہنی سنگھ روہنی سنگھ نئی دہلی میں مقیم فری لانس صحافی ہیں۔