بھارت: جھوٹی خبروں سے اب انتظامیہ بھی پریشان | حالات حاضرہ | DW | 13.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: جھوٹی خبروں سے اب انتظامیہ بھی پریشان

کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں بھارت میں میڈیا کے ایک حلقے کی طرف سے جھوٹی خبروں کی بنیاد پر مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوششوں سے اب خود حکمراں جماعت اور انتظامیہ بھی پریشان دکھائی دے رہی ہے۔

سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ چونکہ میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی منافرت سے حکومت کو اپنے دیرینہ مقاصد کی تکمیل میں مدد ملتی ہے اس لیے وہ جھوٹی خبروں پر لگام لگانے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

کورونا وائرس اور دارالحکومت دہلی میں واقع تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز کے حوالے سے گزشتہ ہفتوں سے بھارتی نیوز چینلوں (چند ایک استشنی کے ساتھ) پر جس طرح کی خبریں دکھائی جارہی ہیں اس نے نہ صرف سول سوسائٹی کو بلکہ امن و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی پریشان کردیا ہے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی بے بنیاد اور جھوٹی خبروں اور فرضی ویڈیوز نے ملک میں منافرت کی ایسی فضا پیدا کردی ہے جس کا تصور پہلے مشکل تھا۔

یہ نیوز چینل تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں اپنی خبروں میں ’مصدقہ ذرائع کے حوالے سے‘ بتاتے رہے ہیں کہ یہ لوگ اسپتالوں میں ہر جگہ تھوک رہے ہیں، نرسوں کے ساتھ بدتمیزی کررہے ہیں، ننگے گھوم رہے ہیں، پولیس والوں کے ساتھ مار پیٹ کررہے ہیں، قرنطینہ میں کھانے کے لیے من پسند چیزوں کا مطالبہ کررہے ہیں، حتی کہ پیشاب بوتلوں میں جمع کرکے لوگوں پر پھینک رہے ہیں۔بعض چینلوں نے یہ بتاکر حد کر دی ہے کہ مسلم پھل او ر سبزی فروش کرونا وائرس پھیلانے کے مقصد سے سبزیوں اور پھلوں پر تھوک دیتے ہیں۔

 یہ خبریں اتنی شرانگیز ہیں کہ خود پولیس کو ان کی تردید کے لئے سامنے آنا پڑا۔ پولیس اور دیگر متعلقہ ذمہ دارو ں نے ان خبروں کو بے بنیاد بتاتے ہوئے ان کی تردید کی اور اس حوالے سے ٹویٹ بھی کیے۔ حتی کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے پارٹی کیڈر کو یہ ہدایت دی کہ وہ کورونا کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیں۔ لیکن افواہیں اور جھوٹی خبریں اپنا کام کرچکی ہیں اور مذہبی منافرت کی ایسی خلیج پیدا ہوگئی ہے جسے پاٹنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کے ترجمان م۔ افضل کا کہنا تھاکہ میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا نے لوگوں کے ذہنوں میں جو زہر بھر دیا ہے وہ بہت خطرناک ہے اور اس کے اثرات بھی جگہ جگہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ ”مسلمانوں کے خلاف سازش کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ٹی وی چینلوں نے اشتعال انگیز اور جھوٹی خبریں ہی نہیں نشر کیں بلکہ فیک ویڈیوز بھی دکھائے۔ بہت سے ویڈیوز کی اصلیت سامنے آچکی ہے اور بعض چینلوں نےجچھوٹی خبر دکھانے پر معافی بھی مانگی ہے۔ ان چینلوں کے ذریعہ دکھائی گئی جھوٹی خبروں کی تردید پولیس بھی کرنے لگی ہے مگر جو زہر لوگوں کے ذہنوں میں بھرا جاچکا ہے شاید اس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔“  م افضل کا کہنا تھا کہ ایک ٹی وی چینل کے ذمہ دار سے جب انہوں نے اس حوالے سے شکایت کی تو اس شخص نے جواب دیا کہ ”ہم خود یہ سب کرنا نہیں چاہتے مگر ایسا کرنے کے لیے مجبور ہیں۔“

حقوق انسانی کے لیے سرگرم تنظیم پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل) نے نیوز چینلوں کے اس رویے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے، ”مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جھوٹے، فرضی اور پرانے ویڈیوز دکھائے جارہے ہیں، جن کا اصل خبر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ پی یو سی ایل کے کنوینر میہیر ڈیسائی نے حکومت سے ایسے چینلوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 مسلمانوں کی ایک تنظیم جمعیت علمائے ہند نے مذہبی منافرت پھیلانے والے نیوز چینلوں کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔ جمعیت کے ترجمان فضل الرحمان قاسمی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہو ئے بتایا کہ ان کی تنظیم نے منافرت پھیلانے والے تمام نیوز چینلوں کے خلاف کیس درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ”جمعیت قانونی اور آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے منافر ت پھیلانے والے چینلوں کے خلاف ملک کے تمام شہروں میں مقدمات دائر کرے گی۔“

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوں تو مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے کا بعض نیوز چینلوں کا رویہ کوئی نیا نہیں ہے، تاہم چونکہ بھارت میں ملک گیر لاک ڈاون کا اچانک اعلان کیے جانے کی وجہ سے ہرطرف افراتفری مچ گئی تھی اور حکومت کی نکتہ چینی شروع ہوگئی تھی ایسے میں عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لیے تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا کردیا گیا جب کہ اسی دوران سوشل ڈسٹنسنگ کونظر انداز کرتے ہوئے کئی مندروں اور دیگر مذہبی مقامات پربڑے بڑے پروگرام کے علاوہ سیاسی تقریبات بھی منعقد ہوئیں لیکن نیوز چینلوں نے اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

 

DW.COM