بھارتی چور سونے کی چین نگل گیا، برآمدگی کے لیے چالیس کیلے | معاشرہ | DW | 11.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی چور سونے کی چین نگل گیا، برآمدگی کے لیے چالیس کیلے

بھارتی پولیس نے سونے کی ایک چین نگل لینے والے ایک مبینہ چور سے مسروقہ سامان برآمد کرنے کا طریقہ یہ نکالا کہ ملزم کو زبردستی چالیس سے زائد کیلے کھلائے گئے، جس کے بعد پولیس ملزم سے ’سامان کی برآمدگی‘ میں کامیاب رہی۔

ممبئی سے پیر گیارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا اور ملزم اس بات سے انکاری تھا کہ اس نے ممبئی شہر کی ایک سڑک پر ایک خاتون سے سونے کی ایک چین چھینی تھی۔ یہی نہیں پولیس کے مطابق ملزم اس بات سے بھی انکاری تھا کہ وہ اس جرم کا مرتکب ہوا تھا۔

DW.COM

لیکن پولیس نے جب ملزم کا ایکسرے کروایا تو طبی شواہد ملزم کے دعووں کے برعکس نکلے۔ اس پر پولیس نے اپنی تفتیش اور اس کے نتائج کو ثابت کرنے کے لیے ملزم پر کوئی تشدد کرنے کی بجائے فیصلہ یہ کیا کہ اسے زبردستی بہت سے کیلے کھلائے جائیں۔

پولیس کے ملزم کو کیلے کھلانے کے فیصلے سے قبل یہ طریقہ بھی ناکام رہا تھا کہ ملزم کو کوئی ایسی دوائی پلا دی جائے، جس کے نتیجے میں اسے رفع حاجت کی ضرورت پڑے اور سونے کی چوری شدی چین ’برآمد‘ کرا لی جائے۔

اے ایف پی نے مغربی بھارت کے شہر ممبئی کی پولیس کے سینیئر اہلکار شنکر دھنواڑے کے بیان کو حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹروں نے پولیس کو مشورہ دیا تھا کہ ملزم کے پیٹ سے سونے کی چوری شدہ چین برآمد کرنے کے لیے اس کا آپریشن کر دیا جائے۔

تاہم پولیس کے تفتیشی ماہرین نے اس امکان کو رد کرتے ہوئے ایک دوسرا حل نکالا اور ملزم کو ایک پورا دن زبردستی اتنے کیلے کھلائے گئے کہ ان کی تعداد چالیس سے بھی زیادہ رہی۔

پولیس انسپکٹر دھنواڑے کے مطابق یہ طریقہ کارگر رہا اور سونے کی چوری شدہ چین ’برآمد‘ کر لی گئی۔ اس پولیس افسر نے طریقہ کار کی زیادہ تفصیلات بتائے بغیر محض اتنا کہا، ’’ہمیں صرف اس چین کو دھو کر disinfect کرنا پڑا۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق ملزم کی عمر 25 برس ہے اور اسے جمعہ آٹھ جنوری کو ممبئی شہر میں ایک مقامی عدالت کے سامنے پیش بھی کر دیا گیا، جس کے بعد وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

اس واقعے کے بعد ایک پولیس اہلکار نے کہا، ’’ملزم کا آپریشن کروانا زیادہ مہنگا ہوتا، جو خطرناک بھی ثابت ہو سکتا تھا۔ اس کے برعکس چار درجن کے قریب کیلوں پر لاگت بھی کم آئی اور نتیجہ بھی سو فیصد کامیاب نکلا۔‘‘

اشتہار