بھارتی چاند گاڑی چاند پر نہ پہنچ پائی | سائنس اور ماحول | DW | 07.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

بھارتی چاند گاڑی چاند پر نہ پہنچ پائی

بھارتی خلائی ادارے کا چندریان دوم مشن سے چاند پر اترنے سے کچھ دیر قبل رابطہ منقطع ہو گیا۔ ابھی تک اس کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ چاند کی سطح پر اترنے سے قبل ایسا کیا ہوا کہ مشن کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا۔

بھارتی خلائی ادارے اِسرو ( Indian Space Research Organisation) کے زمینی مرکز کا چندریان مشن سے رابطہ اُس وقت منقطع ہوا جب اس کا ماڈیول 'وکرم‘ چاند کے جنوبی قطب  پر اترنے سے کچھ دیر کی مسافت پر تھا۔ بنگلور میں قائم خلائی ادارے کے کمانڈ سینٹر نے رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کے بارے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ چاند کے جنوبی قطب پر ابھی تک کسی اور ملک نے اترنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

چندریان دوم بغیر کسی مشکل کے چاند کی سطح کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن بظاہر کوئی ایسی غلطی سرزد ہوئی جس کے بعد مشن ادھورا رہ گیا۔ اس مشن میں شامل آلات سے آراستہ وکرم نامی  ٹیکنیکل گاڑی چاند کی سطح سے محض دو کلومیٹر کی دوری پر تھی جب رابطے ختم ہو گئے اور گاڑی کی خبر نہیں کہ وہ کدھر گئی۔

ویڈیو دیکھیے 02:05

بھارتی چاند گاڑی چاند پر نہ پہنچی

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس ناکامی کے باوجود کہا ہے کہ انہیں ملکی خلائی سائنسدانوں پر فخر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے بہت سے مواقع اور بھی آئیں گے اور یقینی طور پر بھارتی خلائی پروگرام کا بہترین مرحلہ آنا ابھی باقی ہے۔

چندریان دوم بیس اگست کو چاند کے مدار میں پہنچا تھا۔ اس کو زمین سے کنٹرول کر کے چاند کی سطح پر اتارا جانا تھا۔ چندریان دوم کے چاند کی سطح پر اترنے کو وزیراعظم نریندر مودی بھی دیکھ رہے تھے۔ مشن کے ادھورا رہنے کے بعد بھارتی خلائی ادارے کے چیئرمین کیلاش وادیوُو سیوان نے تمام ڈیٹا کا بغور تجزیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت اپنے اس خلائی مشن کے ساتھ بغیر کسی خلا باز کے چاند پر  پہنچنے والا چوتھا ملک بننا چاہتا تھا۔ اس سے قبل یہ اعزاز صرف امریکا، چین اور موجودہ روس (سابقہ سوویت یونین) کو حاصل ہوا تھا۔

بھارتی خلائی ادارے نے اپنے چندریان اول مشن کے ذریعے چاند کی سطح کا بھرپور مطالعہ کیا تھا اور یہ ریسرچ چاند پر پانی کی موجودگی کے حوالے سے تھی۔ یہ ریسرچ خلا سے بذریعہ راڈار کی گئی تھی۔ چاند کے لیے پہلا بھارتی خلائی مشن سن 2008 میں روانہ کیا گیا تھا۔ جندریان دوم کے ذریعے پہلے مشن سے حاصل شدہ معلومات کی تصدیق کی جانا تھی۔

ع ح، ش ح ⁄  روئٹرز، ڈی پی اے

 

DW.COM

Audios and videos on the topic