’بھارتی ملزم نے متعدد بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا‘ | حالات حاضرہ | DW | 20.07.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’بھارتی ملزم نے متعدد بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا‘

چھ سالہ بچی پر جنسی حملہ کرنے والے ایک ملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس نے متعدد بچوں کو ہلاک کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ رویندر کمار نامی ملزم نے دورانِ تفتیش 14 دیگر جرائم کا اقبال کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اب یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ کیا یہ ملزم واقعی ایک ’سیریل کِلر‘ ہے یا نہیں۔

جمعرات کے روز کمار کو نئی دہلی سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ چھ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہوا ہے۔

دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر وِکرم جیت سنگھ کے مطابق اس 24 سالہ مزدور کی گرفتاری کے بعد پتہ چلا کہ اسے گزشتہ برس بھی ایک مختلف الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ ضمانت پر رہا تھا۔

سنگھ کے مطابق، ’ہم نے رویندر کمار کو چھ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے جرم میں حراست میں لیا تھا۔ مگر پھر ہمیں معلوم ہوا کہ یہ اس سے قبل بھی ایسے ہی ایک مقدمے میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ہم اس سے مزید تفتیش کر رہے ہیں۔ اس نے ہمیں بتایا کہ یہ ایسے کم ازکم 14 جرائم میں ملوث رہا ہے۔‘

ایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ کمار نے اعتراف کیا ہے کہ وہ گزشتہ کچھ برسوں میں 14 یا 15 بچوں کو قتل کر چکا ہے۔

اس اہلکار کا کہنا تھا، ’ہم اس وقت یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کے ان دعووں میں کتنی سچائی ہے۔ اس کی جانب سے قتل کے ہر دعوے کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔‘

اس مقدمے کے بعد سن 2006 کے اس معاملے پر پھر بات ہونے لگی ہے، جب ایک گٹر سے 19 افراد کی لاشیں ملی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا تھا کہ اغوا کر کے بچوں کو نیتھاری کے علاقے کے قریب ایک مکان میں لے جایا جاتا تھا اور انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اس مکان کو ’خوف کا گھر‘ قرار دیا جانے لگا تھا۔

ان بچوں کے والدین نے شکایت کی تھی کہ بچے لاپتہ ہو جانے پر وہ پولیس کے پاس جاتے رہے، تاہم پولیس والوں نے انہیں غریب دیکھ کر ان کی شکایات پر توجہ نہ دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک چھ سالہ بچی کی نعش کے قریب ایک زیرتعمیر عمارت میں کمار کا شناختی کارڈ ملا تھا، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔

اس ملزم نے بھی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہ شراب پی کر بچوں پر حملہ آور ہوتا تھا اور یہ سلسلہ اس نے سن 2008 سے شروع کر رکھا تھا۔ ’میں نشے میں آ کر یہ کام اکیلا ہی کرتا تھا۔‘

پولیس کمار کی نفسیاتی صحت کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق اس جائزہ کی رپورٹ سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔