بھارتی فوج اسلحے کی شدید کمی کا شکار، فوجی سربراہ کا خط | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی فوج اسلحے کی شدید کمی کا شکار، فوجی سربراہ کا خط

بھارتی فوجی سربراہ کی طرف سے وزیراعظم کو بھیجا گیا خط افشا ہوگیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فوج اسلحے کی شدید کمی کا شکار ہے جس سے اس کی دفاعی صلاحیت انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

بدھ 28 مارچ کو منظر عام پر آنے والا فوجی سربراہ کا خط وزیراعظم کے نام 12 مارچ کو لکھا گیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس خط اور اس کے مندرجات کو بڑے پیمانے پر کوریج دی گئی ہے۔ اس خط میں فوج کو درپیش مسائل کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ ان تفصیلات کو حکومت اور ایشیا کی ایک بڑی فوج کے وقار پر بڑی ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔

’’فوج کا تمام ٹینک فلِیٹ دشمن کے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اسلحے سے محروم ہے‘‘

’’فوج کا تمام ٹینک فلِیٹ دشمن کے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اسلحے سے محروم ہے‘‘

اس خط سے فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور حکومت کے درمیان تنازعہ بھی ایک بار پھر کھُل کر سامنے آ گیا ہے۔ یہ تنازعہ جنرل سنگھ کی طرف سے اپنی تاریخ پیدائش میں تبدیلی کی درخواست کے معاملے پر شروع ہوا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی پیدائش کا اصل سال فوجی ریکارڈ میں درج شدہ تاریخ پیدائش کے ایک سال بعد کا ہے۔ حکومت کی طرف سے تاریخ پیدائش میں تبدیلی سے انکار کے بعد انہوں نے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا مگر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔

بھارتی اخبار DNA کے مطابق جنرل سنگھ نے خط میں تحریر کیا ہے، ’’لڑاکا افواج کی صورتحال انتہائی قابل تشویش ہے، ان میں میکنائزڈ فورس، آرٹلری، فضائی دفاعی فوج، انفنٹری، خصوصی دستے اور یہاں تک کہ انجیئرنگ اور سگنل یونٹس بھی شامل ہیں۔‘‘

خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ فوج کا تمام کا تمام ٹینک فلِیٹ دشمن کے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اسلحے سے محروم ہے۔ DNA کے مطابق خط میں تحریر ہے، ’’فضائی دفاع کا نظام 97 فیصد تک متروک ہے اور وہ فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے ضروری دفاع فراہم کرنے سے قاصر ہے۔‘‘

وزیر اعظم کو لکھے جانے والے خط کے بارے میں آگاہ ہوں، وزیر دفاع اے کے انٹونی

وزیر اعظم کو لکھے جانے والے خط کے بارے میں آگاہ ہوں، وزیر دفاع اے کے انٹونی

اخبار کے مطابق جنرل وی کے سنگھ نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے: ’’ پیادہ فوج کے پاس ضروری ساز وسامان کی کمی ہے اور اس کے پاس رات کے وقت لڑائی کے لیے درکار آلات بھی بہت کم ہیں، جبکہ ایلیٹ خصوصی دستوں کے پاس ضروری اسلحہ کی شدید کمی ہے۔‘‘

جنرل وی کے سنگھ نے رواں ہفتے بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کو بتایا تھا کہ انہیں 2010ء میں 2.8 ملین امریکی ڈالرز رشوت کی پیشکش کی گئی تھی، جس کے بارے میں انہوں نے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو مطلع کر دیا تھا۔ اس بات پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے اس واقعے کی چھان بین کیوں نہ کرائی۔

بھارتی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا کہ وہ جنرل وی کے سنگھ کی طرف سے وزیر اعظم کو لکھے جانے والے خط کے بارے میں آگاہ ہیں اور یہ کہ وہ اس پر مناسب جواب دیں گے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عدنان اسحاق

اشتہار