بھارتی فلمیں پہلے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی دیکھے گی | فن و ثقافت | DW | 17.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی فلمیں پہلے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی دیکھے گی

بھارتی فلموں کی پاکستان میں ریلیز سے قبل ملکی انٹیلیجنس ایجنسی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان میں پاکستان مخالف کوئی پراپیگنڈا موجود نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے یہ ایجنسی ان فلموں کا باقاعدہ طور پر جائزہ لے گی۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس اقدام سے جنوبی ایشیا کے ان دو ہمسایہ مگر روایتی مخالف ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ماہ بھارتی فلموں کی پاکستانی سنیما گھروں میں ریلیز پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ پابندی گزشتہ برس کے اواخر میں بھارتی زیرانتظام کشمیر میں ایک بھارتی فوجی اڈے پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد عائد کی گئی تھی۔ اس حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان سے آنے والے عسکریت پسندوں پر عائد کی تھی تاہم اسلام آباد حکومت کی طرف سے اس دعوے کو رد کیا گیا تھا۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دفتر کے مطابق وزیراعظم نے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستانی سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی ریلیز کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار وضع کرے۔

Pakistan Plakat Film Phantom (picture alliance/AP Photo/R. R. Jain)

2015ء میں ’’فینٹم‘‘ نامی بھارتی فلم کو پاکستان میں ریلیز کی اجازت نہیں دی گئی تھی

ڈی پی اے کے ذرائع کے مطابق اُس کمیٹی میں پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کا ایک اہلکار بھی موجودہ ہو گا جو ریلیز سے قبل ان فلموں کا جائزہ لے گی۔

پاکستانی سنیما بھارتی فلموں کی ریلیز سے قبل خود بھی ان فلموں کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان میں پاکستان مخالف کوئی منظر یا ڈائیلاگ نہ ہو۔ 2015ء میں ’’فینٹم‘‘ نامی بھارتی فلم کو پاکستان میں ریلیز کی اجازت نہیں دی گئی تھی کیونکہ اس فلم میں دکھایا گیا تھا کہ بھارتی ایجنٹ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور اس جماعت کے سربراہ کو پکڑ کر لے جاتے ہیں جس پر بھارتی حکومت 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقت کے حامل ہیں اور 1947ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے یہ دونوں ممالک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔

اشتہار