بھارتی ریاست گجرات میں نو ہلاکتوں کے بعد فوج کا گشت | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ریاست گجرات میں نو ہلاکتوں کے بعد فوج کا گشت

بھارتی ریاست گجرات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران نظر آنے والے بدترین پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ایک پولیس افسر سمیت کم از کم نو افراد کی ہلاکت کے بعد آج جمعرات کے روز متاثرہ علاقوں میں ہزاروں فوجی گشت کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو دن تک جاری رہنے والے اس تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اسکول بھی بند ہیں۔ فسادات کا آغاز پتی دار برادری سے تعلق رکھنے والے قریب پانچ لاکھ افراد کی جانب سے گجرات کے مرکزی شہر احمد آباد میں ایک ریلی کے بعد ہوا تھا۔ پتی دار برادری جسے پٹیل برادری بھی کہا جاتا ہے، ملازمتوں اور یونیورسٹیوں میں داخلوں کے لیے ترجیحی برتاؤ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ منگل کے روز دیر گئے اس تحریک کے ایک اہم رہنما ہردیک پٹیل کی گرفتاری کے بعد مظاہرین نے کاروں، بسوں اور پولیس اسٹیشنوں کو آگ لگا دی تھی۔

پتی دار یا پٹیل برادری ریاست گجرات کی متمول ترین برادریوں میں شمار ہوتی ہے تاہم اس برادری کی طرف سے شکوہ کیا جاتا ہے کہ اسے ملازمتوں کے لیے دیگر کم مراعات یافتہ برادریوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں سرکاری ملازمتوں اور یونیورسٹیوں میں داخلوں کے لیے مختلف سماجی برادریوں کے لیے مقرر کردہ کوٹہ ختم کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ملک کی ان برادریوں کو بھی ترقی کے برابر امکانات مہیا کرنا ہے، جو بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ تاہم اس پالیسی کی ایسی برادریوں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے جو اس سے متاثر ہوئی ہیں۔

اے ایف پی کے ایک رپورٹر کے مطابق احمد آباد میں آج جمعرات 27 اگست کو صورتحال نسبتاﹰ پُر سکون ہے اور دکانیں اور کاروبار کھلنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار موجود ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی بدھ کے روز مظاہرین سے پر امن رہنے کی اپیل کی گئی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی بدھ کے روز مظاہرین سے پر امن رہنے کی اپیل کی گئی

تشدد کا آغاز منگل کے روز احمد آباد سے ہوا تھا جبکہ جلد ہی یہ دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا، جن میں سورت بھی شامل ہے۔ سورت ہیروں کے کاروبار کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور وہاں پتی دار برادری کے باشندوں کی اکثریت ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے باعث ہوئیں جبکہ ایک پولیس افسر جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے کے بعد بدھ کی شام ہسپتال میں انتقال کر گیا۔

اے ایف پی کے مطابق گجرات میں 2002ء میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بعد پہلی مرتبہ فوج تعینات کی گئی ہے۔ اُس وقت موجودہ ملکی وزیر اعظم نریندر مودی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان فسادات میں دو ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ ان فسادات کے حوالے سے مودی پر بھی الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم مودی کی طرف سے بھی بدھ کے روز مظاہرین سے پر امن رہنے کی اپیل کی گئی: ’’میں گجرات کے تمام بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کو ہوا نہ دیں۔‘‘