بھارتی ریاست آسام: بچے دو سے زائد، تو کوئی سرکاری نوکری نہیں | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی ریاست آسام: بچے دو سے زائد، تو کوئی سرکاری نوکری نہیں

بھارت میں ہندو قو م پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی شمال مشرقی ریاست آسام نے دو سے زیادہ بچوں کے والدین کو یکم جنوری2021ء سے کوئی سرکاری ملازمتیں نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہریوں کے قومی رجسٹر یا این آر سی کی وجہ سے پہلے سے ہی ہراساں اور خوف زدہ عوام میں وزیر اعلیٰ سربانندا سونووال کے اس تازہ فیصلے سے پریشانی مزید بڑھ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ سونووال کے دفتر کی طرف سے اس فیصلے کے حوالے سے جاری کردہ ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے، ”ایک انقلابی قدم کے طور پر کابینہ نے دو بچوں اور بچوں کی شادیاں روکنے کے قانون کو حکومتی ملازمین پر نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اب کوئی حکومتی ملازمت نہیں دی جائے گی۔"

سرکاری عملہ جات کے محکمے کے صوبائی کمشنر کے کے دویدی نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”دو نئے ضابطے بنائے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ ریاست کے جن شہریوں کے بچے دو سے زیادہ ہوں گے، وہ یکم جنوری 2021ء سے سرکاری ملازمتوں کے اہل نہیں رہیں گے۔ دوسرا یہ کہ جن سرکاری ملازمین کے بچے دو سے زیادہ ہیں، ان کے خلاف یکم جنوری 2021 کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ یہ دونوں ضابطے مستقل ملازمین پر نافذالعمل ہوں گے۔ یہ قدم صوبے، ملک اور سماج کی بھلائی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔"دویدی نے یہ بھی کہا کہ ان ضابطوں کے تحت جڑواں پیدا ہونے والے بچوں کو ایک ہی سمجھا جائے گا۔

Narendra Modi Fashion Hut

وزیر اعظم مودی نے چھوٹے خاندانوں والے شہریوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں 'دیش بھکتی‘ یا 'محب وطن‘ قرار دیا تھا

چھوٹا خاندان 'حب الوطنی کی نشانی‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سال 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور چھوٹے خاندانوں والے شہریوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں 'دیش بھکتی‘ یا 'محب وطن‘ قرار دیا تھا۔ مودی نے کہا تھا کہ جس کا خاندان چھوٹا ہے، وہ بھی ملک کی ترقی میں تعاون کر رہا ہے اور اسے افراد کی توقیر کی جانا چاہیے۔ ساتھ ہی بھارتی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے آنے والی نسلوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اقدامات کرنا چاہییں۔

دو بچوں کا قانون
1992ء میں بھارتی آئین میں 73ویں ترمیم میں خاندان کو دو بچوں تک محدود رکھنے کی بات کی گئی تھی۔ تاہم اس قانون کے نفاذ کا اختیار صوبائی حکومتوں پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ دو بچوں کی حد کے حوالے سے ملکی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس مفاد عامہ کے تحت دائر کردہ ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس وقت راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے دو بچوں کا قانون موجود ہے جب کہ تلنگانہ، آندھرا پردیش، اتراکھنڈ، کرناٹک اور اوڈیشا میں تو دو سے زائد بچوں والے شہریوں کے مقامی اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے۔

آسام اسمبلی کا فیصلہ
آسام اسمبلی نے دو سال قبل ستمبر2017ء میں 'ٹوچائلڈ پالیسی‘ کی منظوری دی تھی۔ اس پالیسی میں چھوٹے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی بات کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق حکومتی ملازمتوں کے لیے ایسے افراد نااہل قرار دے دیے جائیں گے، جن کے بچوں کی تعداد دو سے زیادہ ہو گی۔

اس کے علاوہ موجودہ حکومتی ملازمین سے بھی دو بچوں کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ آسام کے وزیر صحت نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ یہ صوبہ آبادی کے لحاظ سے خطرناک صورت حال کا سامنا کر رہا ہے اور ریاست کو آبادی سے متعلق ایک نئی پالیسی کی ضرورت ہے۔

اصل صورت حال بالکل برعکس
آبادی میں اضافے کے دعووں کے برعکس آسام میں آبادی کی شرح میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2015-16 کے مطابق گزشتہ دہائی میں آسام میں شرح پیدائش میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ 2005-06 میں 'فرٹیلیٹی ریٹ‘ 2.4 تھا جو 2015-16میں کم ہو کر 2.2 ہو گیا تھا۔

صوبائی حکومت نے البتہ 'فرٹیلیٹی ریٹ‘ کا ہدف 2.1 فیصد مقرر کر رکھا ہے۔ آسام میں آبادی میں اضافے کی شرح قومی شرح پیدائیش سے کم ہے۔ گزشتہ مردم شماری کے مطابق 2001-2011 کے دوران آبادی میں اضافے کی قومی شرح 17.64 تھی جب کہ آسام میں یہ شرح 16.93 فیصد رہی تھی۔

دور رس اثرات کا حامل فیصلہ
آسام میں اگر یہ نیا ضابطہ نافذالعمل  ہوگیا، تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ دو سے زیادہ بچوں کے والدین کو نہ صرف حکومتی ملازمتیں نہیں ملیں گی بلکہ انہیں سرکاری بہبودی اسکیموں کے فوائد سے بھی محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پنچایت اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ حکومت اس حوالے سے ایک نیا قانون بھی بنا سکتی ہے۔

اس فیصلے سے لوگوں پر نفسیاتی دباؤ بھی پڑے گا۔ دو سے زیادہ بچوں کے والدین کو سماجی سطح پر تنقید اور ناپسندیدگی کا سامان بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے کہ یوں وزیر اعظم مودی کے الفاظ میں انہیں 'دیش بھکت‘ نہیں سمجھا جائے گا اور آج کل کے بھارت میں 'محب وطن‘ نہ ہونا سب سے بڑا جرم سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی تنازعہ
آسام میں بی جے پی حکومت کے اس تازہ فیصلے پر سیاسی تنازعہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے دو سال قبل بھی اسی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اسے دوبارہ یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس کے علاوہ بی جے پی کو اس طرح کی 'سیاسی شعبدہ بازی‘ کے بجائے تعلیم اور شعور میں اضافے کے پروگراموں پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے کیونکہ آبادی میں اضافے کی شرح کو اسی طرح کم کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور صوبائی اپوزیشن جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا کہنا ہے، ''دو بچوں تک خاندان کو محدود کرنے سے صورت حال بہتر نہیں ہو گی۔ حکومت کو تعلیم اور غربت کے خاتمے پر توجہ دینا چاہیے اور عوام میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق شعور بیدار کیا جانا چاہیے۔"

تادیبی کارروائی کے بجائے ترقیاتی کاموں پر توجہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کو سرکاری ملازمتوں پر پابندی جیسے تادیبی اقدامات کے بجائے ترقیاتی کاموں پر کہیں زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جن صوبوں میں دو بچوں کا قانون موجود ہے، وہاں اسقاط حمل کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بعض اوقات شوہر اپنی بیویو ں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر مائیں اپنے بچے دوسروں کو دے دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دو بچوں کی پالیسی سے کمزور اور پسماندہ طبقات کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ وہ نہ تو سیاسی لحاظ سے بااثر ہیں اور نہ ہی سماجی اور اقتصادی سطح پر مستحکم۔ اس صورت میں 'ٹو چائلڈ پالیسی‘ آبادی میں تیز رفتار اضافے پر قابو پانے کا اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے گی۔

DW.COM