بھارتی تفتیشی ایجنسی ’سی بی آئی‘ کا اعتبار اور وقار داؤ پر | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی تفتیشی ایجنسی ’سی بی آئی‘ کا اعتبار اور وقار داؤ پر

بھارت میں گزشتہ تقریباً بہتر گھنٹے کے دوران تیزی سے بدلتے ہوئے واقعات کے درمیان ملک کی اہم ترین تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کا وقار اور اعتبار بری طرح مجروح ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سی بی آئی کے ڈائریکٹر (اب سابق) آلوک کمار نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے۔ اس سے قبل کل رات انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدہ سے ہٹانے کے بعد محکمہ فائرسروس، سول ڈیفنس اور ہوم گارڈ کا ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ پر ’ٹرانسفر‘ کر دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے سے انکار کردیا اور بعد میں اپنا استعفی حکومت کے متعلقہ محکمہ کو بھیج دیا ہے۔

بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے، جب ملک کی اس اعلی ترین تفتیشی ایجنسی کے سربراہ کو مبینہ ’’بدعنوانی اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے‘‘ کے الزام میں ان کے عہدہ سے ہٹایا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پورا کھیل سیاسی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آلوک ورما رفائیل جنگی طیارے خریدنے کے معاہدے میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کے خلاف معاملہ درج کرانے پر غور کررہے تھے کہ 23 اکتوبر کی نصب شب اچانک انہیں جبراً چھٹی پر بھیج دیا گیا۔

Indien Neu-Delhi CBI Direktor Alok Verma

آلوک ورما نے اپنی برطرفی کو’’انصاف کا قتل ‘‘قرار دیا

آلوک ورما نے اس سے چند دنوں قبل ہی سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر، گجرات کیڈر کے انڈین پولیس سروس افسر راکیش استھانا کے خلاف رشوت خوری کا معاملہ درج کرایا تھا۔ استھانا وزیر اعظم نریندر مودی کے منظور نظر بتائے جاتے ہیں۔

دوسری طرف استھانا نے بھی آلوک ورما کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر مبنی ایک خط سینٹرل ویجی لنس کمیشن (سی وی سی) کو بھیج دیا۔ ایک تازہ ترین پیش رفت میں آج جمعہ کو دہلی ہائی کورٹ نے رشوت خوری معاملہ میں استھانا کی ان کے خلاف دائر درخواست رد کرانے کی اپیل مسترد کردی۔

سی بی آئی کے اعلی ترین افسران کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات کا یہ معاملہ جب سپریم کورٹ پہنچا توعدالت نے ستتر دنوں کے بعد نو جنوری کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے آلوک ورما کو دوبارہ ان کے عہدہ پر بحال کرنے اور سات دن کے اندر ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

ورما چارج سنبھالنے کے بعد ٹھیک سے اپنا کام شروع بھی نہیں کر پائے تھے کہ کل دس جنوری کو دیر شام وزیر اعظم کی صدارت والی تین رکنی اعلی اختیاری کمیٹی نے دو ایک کے اکثریتی فیصلے سے ورما کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کا حکم صادر کردیا۔ اس کمیٹی میں وزیر اعظم کے علاوہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اپوزیشن لیڈر شامل ہیں۔

وزیر اعظم مودی اور چیف جسٹس کے نمائندہ جسٹس اے کے سکری نے ’سینٹرل ویجی لنس کمیشن کی رپورٹوں کی بنیاد پر‘ ورما کو عہدہ سے ہٹانے کی حمایت کی جب کہ اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ورما کو پہلے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

اپوزیشن کانگریس نے سی بی آئی ڈائریکٹر کو ان کے عہدہ سے ہٹانے پر مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت رفائیل جنگی طیارے کے معاملے کی انکوائری سے خوفز دہ تھی اسی لیے آلوک ورما کو بیس دن بھی سی بی آئی سربراہ کے عہدہ پر نہیں رہنے دیا۔‘‘ ورما آئندہ 31 جنوری کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے تھے۔

کانگریس کے سینئر رہنما، معروف وکیل اور ممبر پارلیمان کپل سبل نے اپنے ٹوئٹ میں کہا، ’’آلوک ورما کو ہٹا کر اعلی اختیاری کمیٹی نے یقینی بنایا ہے کہ ’پنجرے کا طوطا‘ اڑ نہ جائے۔ انہیں ڈر تھا کہ پنجرے کا طوطا اقتدار کے گلیاروں میں ہونے والی سرگرمیوں کا راز افشا نہ کردے۔ اس لیے اب پنجرے کا طوطا پنجرے میں ہی رہے گا۔‘‘

Indien Neu-Delhi CBI Direktor Rakesh Asthana

راکیش استھانا وزیر اعظم نریندر مودی کے منظور نظر بتائے جاتے ہیں

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے طریقہ کار اور کارکردگی پر طنز کرتے ہوئے اسے ’پنجرے کا طوطا‘ کہا تھا۔کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کہا، ’’وزیر اعظم مودی کے دماغ میں خوف بیٹھ گیا ہے۔ وہ اب سو نہیں سکتے۔ انہوں نے بھارتی فضائیہ کے تیس ہزار کروڑ روپے چرا کر (صنعت کار) انل امبانی کو دے دیا ہے۔ سی بی آئی چیف کو دوبارہ ہٹانے سے واضح ہے کہ وہ اب خود اپنے جھوٹ کے گنہگار ہیں۔‘‘

حکمراں بی جے پی کا ایک حلقہ بھی سی بی آئی ڈائریکٹر کو ہٹانے کے طریقہ کار سے ناراض ہے۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما اور ممبر پارلیمان سبرامنیم سوامی نے ورما کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا، ’’اگر تمام ضروری طریقہ کار کو اپناتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جاتا تو ہم سب اس کی حمایت کرتے لیکن یہ سب آلوک ورما کے غائبانہ میں کیا گیا، جمہوری نظام میں ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔ سی وی سی کی جس رپورٹ کی بنیاد پر ورما کو ہٹایا گیا، مجھے نہیں لگتا کہ وہ جانچ کے پیمانے پر کھرا اتر ے گی۔‘‘


اس دوران آلوک ورما نے میڈیا کو دیے گئے اپنے بیان میں اپنی برطرفی کو’’انصاف کا قتل ‘‘قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’انہوں نے سی بی آئی کی ساکھ اور سالمیت کو برقرار رکھنا چاہا لیکن اسے تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے خلاف جو فیصلہ لیا گیا وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت سینٹرل ویجی لنس کمیشن کی آڑ  لے کر سی بی آئی کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہتی ہے۔ یہ اجتماعی خود احتسابی کا وقت ہے، کم از کم ریاست کے لیے۔‘‘

سیاسی تجزیہ نگار اور ’دی وائر‘ کے بانی ایڈیٹر ایم کے وینو نے اس پورے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’اعلی اختیاری کمیٹی نے فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ورما کو اپنی بات کہنے کا موقع نہیں دیا گیا، یہ تو معاملے کا ایک پہلو ہے۔ اس سے بڑا اخلاقی اور قانونی مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے خود اس معاملے میں فیصلہ کیا جس میں ان کا دفتر بھی ملزم ہے۔ کیا خود مودی نے اس معاملے میں اپنے آپ کو بچایا ہے؟ کوئی وزیر اعظم کسی ایسے معاملے میں کیسے فیصلہ سناسکتا ہے جس میں خود اس کا دفتر سوالات کے گھیرے میں ہو۔‘‘

سی بی آئی کے وقار اور اعتبار کو آج اس وقت مزید دھچکا لگا جب ریاست چھتیس گڑھ کی حکومت نے ریاست میں سی بی آئی کے داخلہ پر پابندی لگا دی۔ چند دن قبل آندھرا پردیش اور مغربی بنگال کی حکومتوں نے بھی اپنی اپنی ریاستوں میں سی بی آئی کے داخلے پر پابندی لگادی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 01:41
Now live
01:41 منٹ

مودی کی ایک سالہ حکومتی کارکردگی کا میزانیہ

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار