بھارتی انتخابات: مسیحیوں اور مسلمانوں کو مذہبی تشدد کا خوف | حالات حاضرہ | DW | 05.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی انتخابات: مسیحیوں اور مسلمانوں کو مذہبی تشدد کا خوف

بھارت میں گیارہ اپریل سے انیس اپریل تک سات مراحل میں پارلیمانی انتخابات کا انقعاد ہو گا۔ تاہم اس ملک کے مسیحی اور مسلمان نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے دوبارہ انتخاب سے خوفزدہ ہیں۔

چھتیس گڑھ میں اقلیتی مسیحیوں کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی مقدس کتاب بائبل  کو پھاڑ دیا گیا، تامل ناڈو میں انہیں ایک مندر میں لے جا کر بھگوان کی پرستش پر مجبور کیا گیا اور راجھستان میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے عبادت کرتے ہوئے مسیحیوں پر پتھر پھینکے گئے۔ یونائیٹڈ کرسچئین فورم اور آزادی مذہب کی بین الاقوامی نتظیم ’الائنس ڈیفینڈنگ فریڈم‘ (اے ڈی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی مسیحیوں کے خلاف رواں برس جنوری میں پیش آنے والے 29 واقعات میں سے یہ صرف تین واقعات ہیں، جو صورت حال کی سنگینی کو عیاں کرتے ہیں۔

کرسچئین نیوز ایجنسی (کے این اے) کے مطابق یہ تمام تر حملے ایک ہی طریقہ ء کار کے تحت کیے جاتے ہیں۔ پہلے مسیحیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پھر پولیس آتی ہے اور پادریوں کو عیسائیت کی تبلیغ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق حملہ آور بغیر کسی سزا کے رہا کر دیے جاتے ہیں۔

اے ڈی ایف انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر پاؤل کولمن کا کہنا تھا، ’’بھارتی آئین میں تو آزادی مذہب کو یقینی بنایا گیا ہے لیکن مسیحی شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنے سے بھی انکار کیا جاتا ہے۔‘‘

کرسچئین نیوز ایجنسی (کے این اے) کے مطابق مسیحیوں سے بھی زیادہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کی پہچان بن چکا ہے۔ اس نیوز ایجنسی کے مطابق بے جی پی انتہاپسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے، جو بھارت کو صرف اور صرف ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نریندر مودی کے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے امکانات موجود ہیں لیکن بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی اپنی انتخابی مہم میں نہ صرف ہندوازم بلکہ ملکی سلامتی اور اقتصادیات کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان انتخابات میں مذہب ایک مرتبہ پھر کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یونائیٹڈ کرسچئین فورم اور آزادی مذہب کی بین الاقوامی نتظیم ’الائنس ڈیفینڈنگ فریڈم‘ (اے ڈی ایف) کے تجزیے کے مطابق سخت گیر ہندو رہنما انتخابی مہم میں ایک مرتبہ پھر بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا نعرہ لگا سکتے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق جب سے نریندر مودی حکومت میں آئے ہیں، بھارت کے مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ا ا / ش ح (کے این اے)