بھارت:لاک ڈاون نے مزید 18مہاجر مزدوروں کی جان لے لی | حالات حاضرہ | DW | 14.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت:لاک ڈاون نے مزید 18مہاجر مزدوروں کی جان لے لی

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران چارمختلف سڑک حادثات میں 18مہاجر مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جو ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب بے روزگار ہوجانے کے بعد اپنے گھر جارہے تھے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہوجانے والے لاکھوں مزدور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے طرح  طرح کے وعدوں، ترغیبات، رکاوٹوں اور دھمکیوں کے باوجود سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کرکے کسی بھی حال میں اپنے گھر پہنچ جانا چاہتے ہیں۔

پچھلے 24 گھنٹے میں چار بڑے حادثات میں کم از کم 18مہاجر مزدور ہلاک ہوگئے اورتقریباً 70 دیگر زخمی ہوئے ہیں، جن کا مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔

پولیس کے مطابق مدھیا پردیش کے گونا ضلع میں ایک تیز رفتار بس نے اس ٹرک کوٹکر ماردی جس پر تقریباً 70مزدور سوار تھے۔ حادثے میں آٹھ مزدوروں کی موقع پر ہی موت ہوگئی جب کہ 54 دیگر زخمی ہوگئے۔  ان میں کئی مزدوروں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔  بس پر سوار یہ مزدور مدھیا پردیش سے اترپردیش جارہے تھے۔ ان میں بیشتر اناؤ ضلع کے رہنے والے تھے۔

دوسرا درد ناک حادثہ اترپردیش کے مظفر نگر ضلع میں پیش آیا جب پیدل جارہے مزدوروں کوایک بس نے کچل دیا۔  اس حادثے میں چھ مزدوروں کی موت ہوگئی۔  یہ مزدور پنجاب سے بہار کے گوپال گنج ضلع جارہے تھے۔ تیسرا حادثہ بھی اترپردیش کے کانپور دیہات علاقے میں اس وقت پیش آیا جب مزدوروں سے بھرے ایک چھوٹے ٹرک کو دوسرے ٹرک نے ٹکر مار دی۔  ٹرک پر 60 مزدور سوار تھے جو گجرات سے اترپردیش کے بلرام پور ضلع جارہے تھے۔  ا س حادثے میں ایک دوسالہ بچی سمیت تین افراد کی موت ہوگئی۔  پولیس کا کہنا ہے کہ ٹرک والے نے ہر مسافر سے کرائے کے نام پر تین تین ہزار روپے وصول کیے تھے۔

چوتھا حادثہ بہار کس شہر سمستی پور میں اس وقت پیش آیا جب ایک ٹرک نے اس بس کو ٹکر ماردی جس پر 32 مزدور سوار تھے۔  اس حادثے میں دو مزدوروں کی موت ہوگئی اور بارہ دیگر زخمی ہوگئے۔  بس مظفر پور سے کٹیہار جارہی تھی۔ یہ مسافر ممبئی سے ٹرین کے ذریعہ مظفرپور پہنچے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے مہاراشٹرکے اورنگ آبا د ضلع میں 16مہاجر مزدور ٹرین سے کٹ کر ہلاک ہوگئے تھے۔  یہ مزدور 45 کلومیٹر پیدل سفر کرنے کے بعد تھک جانے کی وجہ سے تھوڑی دیر آرام کے لیے ریلوے کی پٹری پر سو گئے تھے کہ ایک مال گاڑی نے انہیں کچل دیا۔ پولیس نے انہیں سڑک پر چلنے سے روک دیا تھا اس لیے انہوں نے ریلوے لائن پر چلنے کاخطرناک راستہ اختیار کیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے 25 مارچ کواچانک ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کردینے کی وجہ سے پورے ملک میں افراتفری مچ گئی۔ روزگار اورذریعہ معاش سے محروم ہوجانے والے لاکھوں لوگ کسی بھی طرح کا خطرہ مول لے کر اپنے اپنے گھروں کو پہنچ جانا چاہتے ہیں۔  ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ کم از کم وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے پاس مرنا چاہتے ہیں۔  حکومت نے ان لوگوں کے لیے متعدد امدادی اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ یہ یا تو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہے یا صرف دکھاوا، کیوں کہ اصل حقداروں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم SWAN  (اسٹرینڈیڈ ورکرز ایکشن نیٹ ورک)  نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ”ریاستی حکومت کی طرف سے صلاح و مشورہ کے بغیر ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے یک طرفہ فیصلے کی وجہ سے یہ افراتفری پھیلی ہے۔“  رپورٹ کے مطابق 50 فیصد مہاجر مزدوروں کے پاس 100روپے سے بھی کم پیسے بچے تھے جبکہ 97 فیصد کو حکومت کی طرف سے دی جانے والی نقد رقم نہیں ملی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں مہاجر مزدوروں کے لیے حالات مزید خراب ہوں گے۔ دوسری طرف مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں۔

دریں اثناء بھارت میں کورونا وائرس کا قہر مسلسل جاری ہے۔ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق جمعرات 14مئی کواس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 78056 ہوگئی جبکہ 2551 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ پچھلے24 گھنٹے میں کووڈ انیس کے 3722 نئے کیسز سامنے آئے اور 134 افراد موت کی منہ میں چلے گئے۔

جاوید اختر/ ک م/ ایجنسیاں 

ویڈیو دیکھیے 03:02

بھارت: ٹرین سروس کی جزوی بحالی، متاثرہ افراد پھر بھی پریشان

 

DW.COM