بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ، والدین اب بھی انصاف کی تلاش میں | حالات حاضرہ | DW | 10.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ، والدین اب بھی انصاف کی تلاش میں

وزیراعظم نواز شریف کی سیاست کے مضبوط ترین گڑھ کہلانے والے صوبے پنجاب کے مرکز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ایک طرف تو ملک بھر صدمے کا شکار ہے اور ادھر بچوں کے والدین اب بھی انصاف کی تلاش میں ہیں۔

پیر کے روز متاثرہ بچوں کے والدین کی جانب سے شکایت کی گئی ہے کہ پولیس اب تک ان معاملات میں ملوث ملزمان کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وسطی پنجاب کے گاؤں حسین خان والا میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا معاملہ ویک اینڈ پر پاکستانی اخبارات میں شہ سرخیوں میں رہا اور توقع کی جا رہی ہے کہ ارکان پارلیمان ملکی وزیراعظم نواز شریف سے پارلیمان میں بھی اس سلسلے میں سوال کریں گے۔

اس گاؤں کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ علاقے میں مقیم ایک معروف خاندان بچوں کو زبردستی جنسی حرکات پر مجبور کرتا رہا اور ان کی ویڈیو بناتا رہا، جسے یا تو بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا گیا، یا اسے ان بچوں کے والدین کو بلیک میل کر کے پیسے بٹورنے کے لیے استعمال کیاجاتا رہا۔

Pakistan - Premierminster Nawaz Sharif

یہ معاملہ نواز شریف کی سیاسی ساکھ کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو سکتا ہے

اس گاؤں کی رہائشی روبینہ بی بی کا کہنا ہے کہ ان کا 13 سالہ بیٹا جنسی زیادتی کا شکار ہوا اور جب وہ ڈیڑھ ماہ قبل گنڈا سنگھ والا پولیس اسٹیشن میں اس واقعے کی رپورٹ درج کروانے گئیں، تو انہیں ’پولیس کلرک نے کہا کہ دفع ہو جاؤ اور انہیں پولیس اسٹیشن سے نکال باہر کیا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے، ’میرا بیٹا ان ویڈیوز میں ہے۔ وہ اس معاملے کا شکار ہوا ہے۔ ہمارے بچوں کو زبردستی اس کام میں ڈالا گیا۔ ان کی تذلیل کی گئی۔ مگر پولیس ہمیں سے مجرموں جیسا سلوک کر رہی ہے۔‘

ایسے ہی ایک اور بچے کی والدہ شکیلہ بی بی نے بھی روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’میں واقعے کی شکایت درج کرانے پولیس اشٹیشن گئی، مگر رپورٹ درج کرنے کی بجائے، پولیس نے میرے بیٹے ہی کو حراست میں لے لیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کا 15 سالہ بیٹا اب بھی جیل میں ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی انکوائری میں اگر پولیس جرم میں شریک یا اس سلسلے میں لاپرواہی کی مرتکب ملی، تو یہ وزیراعظم نواز شریف کے بھائی اور صوبائی وزیراعلیٰ شہباز شریف کے لیے ایک اور بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

ضلعی پولیس افسر رائے بابر نے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ اس سلسلے میں تمام تر کارروائی قانون کے مطابق ہو گی۔ ان کا کہنا تھا، ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس معاملے کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں صاف اور شفاف تفتیش کی جائے گی۔‘

خیال رہے کہ اتوار کے روز وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں ان واقعات پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

اشتہار