1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بچوں کا اغوا، چار انتہا پسند یہودی گرفتار

29 دسمبر 2018

امریکی وفاقی استغاثہ نے بتایا ہے کہ ایک یہودی انتہا پسند فرقے سے وابستہ چار افراد کو دو بچوں کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے تین مشتبہ افراد کا تعلق گوئٹے مالا سے بتایا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3AlEp
USA | Prozesseröffnung gegen Joaquin El Chapo Guzman in New York
تصویر: Reuters/E. Munoz

خبر رساں ادارے اے ایف پی امریکی حکام کے حوالے بتایا ہے کہ انتہا پسند یہودی فرقے Lev Ahor سے تعلق رکھنے والے ان مشتبہ افراد نے دو بچوں کو اغوا کیا تھا اور وہ انہیں گوئٹے مالا لے جانا چاہتے تھے۔

یو ایس اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق مشتبہ افراد کو نیو یارک شہر سے حراست میں لیا گیا اور بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ ان میں سے ایک چودہ سالہ بچی اور ایک بارہ سالہ لڑکا تھا۔ حکام کے مطابق ان بچوں کو ان کے والدہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان بہن بھائیوں کو آٹھ دسمبر کو نیو یارک سے اغوا کیا گیا اور مغوی انہیں واپس گوئٹے مالا لے جانا چاہتے تھے۔ چھ ماہ قبل ان بچوں کی ماں نے سکیورٹی کی وجہ سے گوئٹے مالا سے فرار ہو کر امریکا پناہ لی تھی۔

گرفتار شدگان میں 45 سالہ ایرون روسنر بھی شامل ہے، جو بروکلین کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ اس کے دیگر تین ساتھیوں میں 36 سالہ ناخمان ہالبرن، بالیس سالہ مائر روسنر اور بیس سالہ جیکب روسنر کا تعلق گوئٹے مالا سے ہے۔

اغوا کار ان بچوں کو لے کے میکسیکو  لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن جمعرات کے دن انہیں پکڑ کر واپس امریکا ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا، جہاں امریکی پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔ اگر ان پر باقاعدہ طور پر اغوا کے الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

انتہا پسند یہودی فرقے Lev Ahor ماننے والے گوئٹے مالا میں آباد ہیں، جو الٹرا آرتھوڈکس یہودیت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ سخت نظریات کے حامل یہ یہودی خواتین کے پردے کے بھی قائل ہیں۔ اس فرقے کی خواتین پردے کے غرض سے پیروں سے سر تک سیاہ لباس کا چوغہ زیب تن کرتی ہیں۔

ع ب / ع ا / خبر رساں ادارے

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید