بوسان فلم فیسٹول: پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ خصوصی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب | فن و ثقافت | DW | 13.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

بوسان فلم فیسٹول: پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ خصوصی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ (سرکس آف لائف) کو جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والے ایشیاء کے اعلیٰ ترین فلم فیسٹولز میں سے ایک ’بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹول‘ کے معتبر ترین ایوارڈ، ’کم جے سیوک‘ سے نوازا گیا ہے۔

بوسان فلم فیسٹول کا ایک سیکشن ’اے ونڈو آن ایشین سینیما‘ کے نام سے منعقد ہوتا ہے جس میں پاکستانی فلم زندگی تماشا نے پہلے ہی نامزدگی حاصل کرلی تھی۔ اس سیکشن میں کل آٹھ فلمیں منتخب کی جاتی ہیں اور ان میں سے دو فلموں کو ’کم جے سیوک‘ نامی ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ اس ایوارڈ سے پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ اور بھارتی فلم ’مارکیٹ‘ کو نوازا گیا۔ 
سرمد کھوسٹ کی ہدایات میں بنی اس فلم کا ٹریلر گزشتہ ماہ ستمبر کے آخر میں جاری کیا گیا تھا۔ فلمی ناقدین سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے اسے بہت زیادہ سراہا گیا۔ فلم کا بنیادی موضوع قدامت پسند معاشرے میں رقص جیسے شوقِ ممنوعہ پر ہے۔
’زندگی تماشا‘ فلم کی کہانی ایک مشہور نعت خواں محمد راحت خواجہ کی ہے جو ایک قدامت پسند معاشرے کا فرد ہوتے ہوئے بھی پرانے پنجابی فلمی گانوں پر مخصوص رقص کا شوقین ہے۔ ایک دن کسی عزیز کی شادی پر راحت خواجہ کے مخصوص رقص کی ویڈیو بناکر کسی نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی، جو کہ وائرل ہوگئی۔ اِس عمل سے راحت خواجہ کی زندگی یکسر تبدیل ہوگئی اور وہ قُرب و جوار میں یکایک معتوب ٹھہرا۔ اس دوران اس کے پاس ایک علیل بیوی کے سوائے کسی کا ساتھ نہ تھا۔ محلے والے اس کو اپنی نفرت کا نشانہ بنانے لگتے ہیں یہاں تک کہ اس کی اپنی بیٹی اور داماد بھی اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔


فلم ’زندگی تماشا‘ کے اداکاروں میں عارف حسن، علی قریشی، عمران کھوسٹ، سمیعہ ممتاز اور ایمان سلیمان شامل ہیں۔ اس فلم میں محمد راحت خواجہ کا کردار عارف حسن نے ادا کیا ہے۔ سرمد کھوسٹ کے ساتھ اس فلم کی شریک پروڈیوسر ان کی بہن کنول کھوسٹ ہیں جب کہ فلم کا اسکرپٹ نرمل بانو نے تحریر کیا ہے۔
اس فلم میں محمد راحت خواجہ کا مرکزی کردار ادا کرنے والے عارف حسن نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس فلم میں صرف اس لیے کام کیا کیونکہ سرمد کھوسٹ ان کے دوست ہیں۔ واضع رہے کہ عارف حسن کا تعلق مارکیٹنگ کے شعبے سے ہے اور وہ کوئی پیشہ ور اداکار نہیں ہیں۔ 
زندگی تماشا میں انہیں اندرونِ لاہور کی پنجابی زبان بولنی تھی کیونکہ یہ فلم بڑی حد تک اردو اور پنجابی میں بنائی گئی ہے۔ عارف حسن نے بتایا کہ وہ پنجابی تو بول سکتے ہیں تاہم اندرونِ لاہور کے مخصوص لہجے اور تلفّظ میں مار کھا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سرمد کھوسٹ ،کنول کھوسٹ اور نرمل بانو نے ان کی بہت زیادہ مددکی۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے موضوع پر بنائی گئی اس فلم پر قدامت پسندوں کی جانب سے ردِ عمل آنے کے خدشے کے بارے میں عارف حسن کا کہنا تھا کہ اس فلم میں نہ کسی کی توہین کی گئی ہے اور نہ ہی کسی کا مذاق اڑایا گیا ہے بلکہ معاشرے میں پہلے سے موجود حالات کی عکاسی کی گئی ہے اس لیے اگر کوئی منفی ردِ عمل آیا تو انہیں افسوس ہوگا۔


بوسان فلم فیسٹول میں اپنے تجربے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب ایوارڈ ملا تو بہت زیادہ خوشی اس لیے بھی ہوئی کہ جیوری میں مشہور ایرانی فلم ساز محسن مخملباف تھے، ان کی جانب سے یہ ایوارڈ ملنا بہت زیادہ مسرت کا سبب ہے۔
دوسری جانب فلم میں ان کی بیمار اہلیہ کا کردار ادا کرنے والی سمیعہ ممتاز نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت زیادہ خوش ہیں کہ اس فلم کو اتنا معتبر ایوارڈ ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کی عکس بندی سے پہلے  ٹیم کے ساتھ متعدد اسکرپٹ ریڈنگ سیشن ہوئے لہٰذا جب فلم کی عکاسی شروع ہوئی تو سب کے لیے بالکل واضع تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ تاہم سمیعہ ممتاز کا یہ بھی کہنا تھا کہ زندگی تماشا کوئی عام فلم نہیں اس لیے یہ گمان رہتا ہے کہ معلوم نہیں کہ اس فلم کے ذریعے عوام الناس تک صحیح انداز میں وہ پیغام پہنچا سکے ہیں یا نہیں، جو پیغام پہنچانا ان کا مقصد تھا۔ سمیعہ کے بقول، جب عالمی سطح پر خصوصاً ایشیائی عوام کی جانب سے فلم کو پزیرائی ملی تو اطمینان ہو گیا۔

فلم کے ہدایت کار سرمد کھوسٹ نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ بوسان فلم فیسٹول میں انہوں نے فلم کا ’ورلڈ پریمیئر‘ کیا تھا جبکہ پاکستان میں یہ فلم جنوری 2020 میں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ اس فلم کو پاکستان کے مرکزی سینسر بورڈ یعنی سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز کی جانب سے پہلے ہی سینسر سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
یادرہے کہ سرمد کھوسٹ اس سے پہلے سعادت حسن منٹو کی زندگی پر فلم ’منٹو‘ بنا چکے ہیں جسے فلمی ناقدین کی جانب سے بہت پزیرائی حاصل ہوئی تھی۔


دوسری جانب پاکستانی فلم زندگی تماشا کے ساتھ جیتنے والی بھارتی فلم ’مارکیٹ‘ کی کہانی بھارت کے شمال مشرقی علاقے شلونگ کے ایک لیودھ نامی باڑا بازار کی ہے جہاں کئی قبائل اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والےافراد کام کرتے ہیں۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہی بازار میں موجود مختلف عقائد اور نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشکلات، پریشانیاں اور خوشیاں ایک ہی جیسی ہیں۔ بھارتی فلم مارکیٹ کی ہدایات پردیپ کرباہ نے دی ہیں اور اس فلم کا ٹریلر ستمبر کے اوائل میں جاری کیا گیا تھا۔