بنیادی سہولیات سے محروم افراد کی تعداد میں عالمی سطح پر اضافہ | معاشرہ | DW | 09.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنیادی سہولیات سے محروم افراد کی تعداد میں عالمی سطح پر اضافہ

عالمی سطح پر بنیادی سہولیات سے محروم افراد کی مدد کے لئے فنڈز ناکافی ہونے کے سبب افراد کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے۔

افریقہ کے ملک نائجر میں خواتین گدھا گاڑی پر میلوں کا سفر طے کر کے اور اپنے روز مرہ کے کام کاج پس پشت ڈال کر صحت کے مراکز کا رخ صرف اس امید پر کرتی ہیں کہ ان کے شیر خوار بچوں کی خوراک کا انتظام ہو سکے، لیکن انہیں مایوس ہی لوٹنا پڑتا ہے۔

صومالیہ اور جمہوریہ کانگو کے اسکولوں میں بچوں کی کارکردگی اس وقت متاثر ہونے لگتی ہے جب انہیں وہاں ذیادہ عرصے تک مناسب خوراک نہیں مل پاتی اور مستقبل سے بندھی ان کی امیدوں کی ہری کونپلیں مرجھانے لگتی ہیں۔

’’ورلڈ وژن انٹرنیشنل‘‘ کی شیری آرنٹ کا کہنا ہے کہ "یہ وہ لوگ ہیں جنہیں یقین تھا کہ بین الاقوامی کمیونٹی مشکل وقت میں ان کا ساتھ دے گی۔ لیکن ہم نے انہیں مایوس کیا ہے۔"

ورلڈ وژن انٹرنیشنل نامی تنظیم نے گذشتہ برس نومبر میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں فلاحی کاموں کے لیے درکار رقم اور ڈونر ممالک کی طرف سے اس مد میں دیے جانے والے فنڈز میں‌ فرق سے پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس حوالے سے کام کرنے والے امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2014-2013 کے لیے 35 ملکوں میں 10.3 ملین افراد کو خوراک فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا لیکن جتنی رقم ملی اس سے محض 8 ملین افراد کی مدد کی جا سکی۔

امدادی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے وقت میں، جب کہ قدرتی آفات اورملکوں کے مابین تنازعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، دنیا بھر میں ان لاکھوں افراد کو خوراک، طبی سہولیات اور دیگرسہولتیں بہم پنہچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جنہیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر، شام میں پانچ سال سے جاری لڑائی نے 11 ملین سے زائد افراد کوبے گھرہونے پر مجبور کر دیا ہے ۔

دوسری جانب 'ایل نینو' موسمی اثرات کے سبب بر اعظم ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا، اور پیسیفک میں 60 ملین سے زائد لوگ خشک سالی اور سیلابوں سے متاثر ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے عالمی سطح پراقوام متحدہ کی جانب سے کی گئی سالانہ اپیلوں میں گذشتہ عشرے میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور سال 2015 میں درکار فنڈزکا حجم 19.3 بلین ڈالر تک پنہچ گیا ہے۔

جواب میں حکومتوں کی جانب سے دیے جانے والے فنڈز میں اس مخصوص عرصے میں، ہر سال 2 سے 4 بلین ڈالر سے لے کر10 بلین ڈالر سے زائد اضافہ کیا گیا۔

ناروے کی کونسل برائے مہاجرین کے سربراہ اور اقوام متحدہ کے امدادی محکمے کے سابقہ سربراہ جان ایگلنڈ نے کہا "ہم اب ذیادہ سے ذیادہ افراد کو بہتر خدمات دینے کے لئے کوشاں ہیں۔"

یاد رہے کہ گذشتہ برس عالمی اپیل پر درکار فنڈز کا صرف 56 فی صد مہیا ہو سکا، جو کہ 2014 میں 60 فی صد اور 2013 میں 65 فی صد تھا۔