بنگلہ دیش میں فرانس مخالف مظاہرہ، ہزاروں افراد شریک | حالات حاضرہ | DW | 02.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں فرانس مخالف مظاہرہ، ہزاروں افراد شریک

بنگلہ دیش میں پیر کے روز فرانس مخالف ریلی نکالی گئی، جس میں پچاس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ دارالحکومت ڈھاکا میں اس احتجاج کا آغاز اس مسجد سے کیا گیا، جو فرانسیسی سفارت خانے کے قریب واقع ہے۔

اس موقع پر بنگلہ دیش حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے جبکہ دو کلومیٹر طویل اس ریلی میں صدر ایمانویل ماکروں کا جعلی تابوت بھی نکالا گیا۔ اس احتجاجی ریلی کے شرکاء نے نہ صرف فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا بلکہ فرانسیسی صدر کے پتلے بھی نثر آتش کیے۔ پیغمبر اسلام کے خاکوں سے متعلق فرانسیسی صدر کے بیان کا جواب دیتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ 'وہ سب پیغمبر کے سپاہی‘ ہیں۔

ان احتجاجی مظاہروں کا انعقاد حفاظت اسلام نامی تنظیم نے کیا تھا، جو کہ بنگلہ دیشی مدارس کے طلبا اور اساتذہ کی سب سے بڑی تنظیمیوں میں سے ایک ہے۔ اس تنظیم کے ایک لیڈر نور حسین کا شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، '' میں فرانسیسی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ دنیا کے دو ارب مسلمانوں سے معافی مانگے۔ یہ قابل شرم بات ہے کہ اس حوالے سے پارلیمان میں کوئی مذمتی قرار داد پیش نہیں کی گئی۔‘‘

Dhaka Bangladesch Proteste gegen Macron und Frankreich

بنگلہ دیش میں فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

بنگلہ دیش میں فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور آج ڈھاکا میں ہونے والا یہ مارچ سب سے بڑا تھا۔ اسی طرح ایک اور اسلامی لیڈر جنید بابو نگری کا کہنا تھا، '' ہم تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جب تک حکومت فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع نہیں کر دیتی۔‘‘ انہوں نے تمام مسلم ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیں۔ انہوں نے ڈھاکا میں فرانسیسی سفارت خانہ بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

مغربی ممالک دوبارہ صلیبی جنگیں شروع کرنا چاہتے ہیں، ترک صدر

'دہشت گرد' ماکروں مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے ہیں، رمضان قدیروف

 

دریں اثنا آج ہی جکارتہ میں بھی فرانسیسی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا گیا، جس میں تقریباً تین ہزار افراد شریک تھے۔

گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کا الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کو دھچکا لگا ہے لیکن دھچکے کی یہ کیفیت کسی بھی طرح کے تشدد کی دلیل کے طور پر قابل قبول نہیں ہو گی۔ فرانسیسی صدر نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو یہ انٹرویو فرانس کے شہر نیس میں ایک مسلمان کی طرف سے چاقو سے کیے جانے والے اس حالیہ حملے کے پس منظر میں دیا، جس میں حملہ آور کے ہاتھوں تین افراد مارے گئے تھے۔

اس انٹرویو میں صدر ماکروں نے پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کے بعد بظاہر فرانس اور مسلم دنیا کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایسا ہر دعویٰ اور بیان محض ایک 'جھوٹ‘ ہے کہ ان خاکوں کی اشاعت کے پیچھے فرانسیسی ریاست ہے۔

 ا ا / ک م ( اے پی، ڈی پی اے، روئٹرز)