بنگلہ دیش میں جہادیوں کے مضبوط ہوتے قدم: امریکا کی تشویش | حالات حاضرہ | DW | 29.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں جہادیوں کے مضبوط ہوتے قدم: امریکا کی تشویش

بنگلہ دیش میں امریکا کے ایک بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے کارکن کے بہیمانہ قتل کے بعد واشنگٹن انتظامیہ کے مطابق اس جنوبی ایشیائی ملک میں مسلم انتہا پسندی کے رجحان سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

Bangladesch Protest gegen Ermordung von US-Blogger (Bildergalerie)

بنگلہ دیشن میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی مغربی ممالک بالخصوص امریکا کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے

بنگلہ دیش روایتی طور پر جنوبی ایشیا کا مذہبی رواداری والا معاشرہ مانا جاتا ہے تاہم چند روز قبل اس ملک میں امریکی ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے ایک کارکُن اور ہم جنس پرستوں کے بارے میں نکلنے والے ایک رسالے کے ایڈیٹر ذولحاج منان کے قتل کی وجہ سے اس ملک میں عدم رواداری اور انتہا پسندی میں اضافے کی جو نشاندہی ہوئی ہے وہ مغربی ممالک خاص طور سے امریکا کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔

DW.COM

USAID کے کارکن اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سرگرم ذولحاج منان کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ القاعدہ کی جنوبی ایشیا کی ایک شاخ نے قبول کی ہے۔ القاعدہ کے اس دعوے کی گرچہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم اس سے بین الاقوامی امنگوں کے حامل مقامی مسلم انتہا پسندوں کو بنگلہ دیش جیسے سیاسی بحران کے شکار ملک میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ ملک ایک عرصے سے حکومتی پارٹی اور اپوزیشن کے مابین سیاسی رسہ کشی کا میدان بنا ہوا ہے۔

امریکا کے ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلینکن نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ ڈھاکا حکومت چاہے سیکولر بلاگرز اور دیگر افراد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا ذمہ دار چاہے جس حد تک بھی اپوزیشن کو ٹھہرائے، ایسے ثبوت موجود ہیں کہ انتہا پسند گروپ چاہے وہ مقامی ہوں یا یہ آئی ایس یا القاعدہ سے منسلک ہوں، یہی عناصر ملک میں سیکولر اور دیگر موقف رکھنے والوں کے قتل کے پیچھے ہیں۔

انٹونی بلینکن نے امریکی ہاؤس آف فارن آفیئیرز کمیٹی سے اپنے خطاب میں کہا، ’’ان واقعات نے ہمارے ذہنوں میں آئی ایس یا داعش کی بنگلہ دیش میں پائی جانے والی جڑوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یہ وہ آخری چیز ہو گی جو ہم چاہیں گے۔‘‘

بنگلہ دیش میں نوجوان انتہا پسندوں کی طرف سے اقلیتوں اور اعتدال پسندوں کے خلاف دہشت گردانہ حملے، انہیں نفرت آمیز الفاظ سے نوازنے اور چاقو وغیرہ سے ان پر وار کرنے کا سلسلہ 2013ء میں شروع ہوا تھا۔

Bangladesch Protest gegen Ermordung von US-Blogger (Bildergalerie)

بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے

امریکا کی غیر معمولی تشویش اور غُصے کا سبب بنگلہ دیش میں ہونے والے خونریز حملوں کے ساتھ ساتھ خاص طور سے بنگلہ دیشی نژاد امریکی مصنف اویجت رائے پر ڈھاکا کی ایک گنجان سڑک پر گزشتہ برس فروری میں ہونے والا حملہ بنا تھا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ خطرات سے دوچار چند بنگلہ دیشیوں کو پناہ فراہم کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ واشنگٹن جو دنیا بھر میں اسلامک اسٹیٹ کی بپا کی ہوئی دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں مصروف ہے، اس بارے میں فکر مند ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ملک، جس میں سیکولرازم، آزادی رائے اور کرسچنوں اور ہندوؤں جیسی مذہبی اقلیتوں کا احترام پایا جاتا ہے، میں مسلم انتہا پسندی کی جڑیں مضبوط ہو گئیں تو یہ تمام خطے کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔

ملتے جلتے مندرجات