بنگلہ دیشی انتخابات، تشدد کے سائے میں ووٹنگ شروع | حالات حاضرہ | DW | 30.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیشی انتخابات، تشدد کے سائے میں ووٹنگ شروع

آج بنگلہ دیشی ووٹرز حزب اختلاف اور شہری حقوق کی تنظیموں کے خلاف پولیس کارروائیوں سے عبارت انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران رونما ہونے والے پرتشدد واقعات میں ابھی تک کئی افراد مارے جا چکے ہیں۔

بنگلہ دیشی پولیس کے مطابق ووٹنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں مختلف علاقوں میں حکمران عوامی لیگ اور اپوزیشن کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکنوں کے مابین ہونے والے تصادم میں ہوئیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ ان میں سے ایک بیلٹ بوکس اٹھا کر لے جا رہا تھا جبکہ دوسرا ایک پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی کوششوں میں تھا۔

آج ہونے والے انتخابات میں قوی امید ہے کہ شیخ حسینہ تیسری مدت کے لیے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم منتخب ہو جائیں گی۔ اس سے قبل کئی ہفتوں طویل انتخابی مہم کے دوران پرتشدد واقعات رونما ہوئے، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی جبکہ اپوزیشن کے ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ اسی لیے چند ماہرین انتخابات کو شیخ حسینہ کا ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں۔

 ڈی ڈبلیو سے باتیں کرتے ہوئے بنگلہ دیشی صحافی فہیم فردوس نے خدشے کا اظہار کیا کہ تازہ صورتحال میں عام شہریوں کو ووٹ ڈالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،’’ یہ انتخابات کتنے آزادانہ اور منصفانہ ہیں، یہ پولنگ شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی پتا چل جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ کوئی بھی طریقہ شہریوں کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم نہیں رکھ سکے گا۔‘‘

عوامی لیگ کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انتخابی مہم چلانے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں رہا جبکہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) کا دعویٰ ہے کہ نومبر میں انتخابی تاریخ کے اعلان کے بعد سے اب تک اس کے ساڑھے دس ہزار کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

بی این پی کے رہنما راہول کبیر رضوی کے مطابق، ’’حکومت یکطرفہ انتخابات چاہتی ہے۔ حکومت نے جھوٹے الزامات کے تحت ہمارے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ ہمارے کئی پولنگ ایجنٹ میں حراست میں ہیں۔‘‘بی این پی کے اٹھائیس امیدوار بھی مختلف واقعات میں زخمی ہوئے ہیں۔

شیخ حسینہ 1980ء سے عوامی لیگ کی سربراہ ہیں۔ عوامی لیگ 2008ء سے اقتدار میں ہے۔ حسینہ کی سب سے بڑی حریف خالدہ ضیاء ہیں۔ خالدہ ضیاء آج کل بدعنوانی کے ان الزامات کے تحت جیل میں ہیں، جنہیں وہ مسترد کرتی ہیں۔ بی این پی نے 2014ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

ضیاء اور شیخ حسینہ دونوں ہی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائر رہ چکی ہیں۔ شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمن کو جدید بنگلہ دیش کا بانی کہا جاتا ہے۔ پندرہ اگست 1975 کو فوجی بغاوت کے دوران شیخ مجیب کو اہل خانہ سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش پر پندرہ سال تک فوج نے حکومت کی۔ 1990ء میں اس ملک میں جمہوریت واپس لوٹی تاہم ملک کا سیاسی منظر نامہ ابھی تک نازک مراحل طے کر رہا ہے۔

حکام نے سلامتی کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سات لاکھ  اہلکار تعینات کیے ہیں۔ بنگلہ دیش کی 160 ملین کی آبادی میں تقریباً 104 ملین ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ حکومت نے ملک بھر میں بیالس ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:43

بنگلہ دیش: آزادئ اظہارکا خوف

 

ع ا / ع ت

DW.COM

Audios and videos on the topic